اسلام آباد : پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ کی جانب سے جاری ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان نے حالیہ کشیدگی کے دوران دفاعی میدان میں برتری حاصل کر کے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بحال کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی قیادت کی حکمت عملی ناکام رہی، جبکہ پاکستان کی مؤثر منصوبہ بندی اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں نمایاں رہیں۔
رپورٹ کا عنوان ہے "16 گھنٹے میں جنوبی ایشیا کی تاریخی تبدیلی"، جس کا اجرا سینیٹر مشاہد حسین سید نے کیا۔ ان کے مطابق یہ رپورٹ بھارت کی مئی 2025 میں کی گئی مبینہ کارروائی اور اس پر پاکستان کے مؤثر دفاعی ردعمل کا احاطہ کرتی ہے۔
رپورٹ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے، جنہوں نے بروقت فیصلوں، بین الافواج ہم آہنگی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایک مضبوط دفاعی حکمت عملی ترتیب دی۔
مزید برآں، رپورٹ میں چین کے فعال کردار اور امریکی ثالثی کو بھی جنوبی ایشیائی استحکام کی کلیدی کڑی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اب مسئلہ کشمیر کا واضح فریق بن چکا ہے، جبکہ امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ کی تجویز کردہ تین نکاتی حکمتِ عملی ، علاقائی و عالمی اتحادیوں سے سٹریٹجک تعلقات کو مضبوط کرنا، بھارت کے انتہا پسند بیانیے کے خلاف بین الاقوامی قانونی فورمز پر مؤثر اقدام، سفارت کاری، میڈیا اور پالیسی ساز اداروں کے ذریعے بیانیے کی جنگ میں مؤثر کردار شامل ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ کھلی جنگ کا خطرہ فی الحال کم ہے، لیکن بھارت کی جانب سے پراپیگنڈا اور اندرونی مداخلت کی کوششیں جاری رہ سکتی ہیں، جن کا جواب قومی اتحاد اور سیاسی استحکام کے ذریعے دیا جانا ضروری ہے۔
اختتام میں سینیٹر مشاہد حسین نے پاکستانی میڈیا، دفتر خارجہ، اور عوامی حوصلے کی بھی تعریف کی، جنہوں نے قومی یکجہتی اور وقار کا بھرپور مظاہرہ کیا۔