دنیا کی سب سے ناپائیدار چیز نقشہ ہوا کرتا ہے۔ کیا خلیجی ممالک کے نقشے بدلنے والے ہیں؟ کیا ایران آج جیسا نہیں رہے گا؟ خفیہ معاہدے اور اتحاد اعلانیہ معاہدوں میں بدلنے والے ہیں؟ طاقت کے مراکز تو یقینی طور پر بدلیں گے۔ ٹرمپ دنیا کو اپنی سمجھ بیٹھا مگر بنانے والے نے کچھ فیصلے اس کی سوچ سے مختلف کر رکھے ہیں۔ معروف سیاستدان اور دانشور پرویز صالح نے سال بھر پہلے کہا تھا کہ چائنہ 2030 تک سپر پاور بن چکا ہو گا جبکہ میرا خیال مختلف تھا امریکی ادارے، امریکہ کا نظام اور دنیا میں کہیں بھی ٹیلنٹ ہو اس کو استعمال کرنا اور پھر نیشن آف دی نیشنز ہونا، مجھے جناب پرویز صالح کی بات سے اتفاق مشکل تھا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ خاندان سمیت امریکہ، یورپ، کینیڈا، دبئی، سعودیہ جا رہے ہیں مگر کوئی بھی چائنہ یا روس کا رُخ نہیں کرتا مگر قیادت کا بڑا عمل دخل ہوا کرتا ہے اصل اہمیت ہی قیادت کی ہے۔ گریٹ بھٹو صاحب کی قیادت نے ساڑھے پانچ سال میں وطن عزیز کو پاتالوں سے دنیا کی اہم ترین قوم بنایا اور اسلامی دنیا کو ایک قوت بنایا۔ ملک کو ایٹمی صلاحیت آئین اور بلند معیار زندگی دیا گریٹ بھٹو نے آئین اور موجودہ حکومت نے سی سی ڈی دی۔ قیادتوں کی سوچ ہی قوموں کی راہ اور منزل کا تعین کیا کرتی ہے۔ جناب پرویز صالح کا خیال تھا 2030ءمیں چائنہ سپر پاور کے طور پر مسلم حقیقت بن جائے گا مگر ٹرمپ کی رعونت، انسانیت دشمنی اور خلاف عقل اقدامات میں 2026 میں ہی یہ کام کر دیا۔ ٹرمپ اور امریکی ادارے و اتحادی ایک دوسرے کے برعکس سوچ رکھتے ہیں۔ معروف بیوروکریٹ وحید اختر انصاری بتا رہے تھے کہ امریکی عسکری قیادت نے تو ٹرمپ کو انکار کر دیا تھا کہ جنگ کی تیاری نہیں اور نہ ہی کوئی وجہ موجود ہے لیکن ٹرمپ کے احمقانہ فیصلوں اور نعوذ باللہ خدائی دعووں نے امریکہ کا امیج ڈھیر کر دیا۔ ٹرمپ کا چند ہفتے پہلے بیان تھا ”میں وہ کرتا ہوں جو درست ہوتا ہے“۔ ہمارے ہاں یہ فقرہ عام ہے کہ اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔ نعوذ باللہ ایپسٹین کے کھلاڑی اور ایک پاپولسٹ سیاستدان کا یہ کہنا، میں حیران تھا کیا بول دیا۔ پھر کیا ہوا کہ ٹرمپ نے حملہ کیا اور کہا کہ اطلاعات تھیں ”ایران حملہ کرنے والا ہے“ مگر پینٹاگان نے اس کے برعکس بیان دیا کہ ایسی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ جرمنی، نیٹو اور دیگر ممالک جو ہمیشہ امریکی اتحادی رہے، نے اس جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ مشرق وسطیٰ یا خلیجی ریاستوں نے اڈے امریکہ کو کسی ملک پر حملہ کرنے کے لیے نہیں، اپنے دفاع کے لیے دئیے تھے۔ اُن کو خطرہ جس ریاست سے تھا وہ کوئی غیر مسلم ریاست نہیں تھی۔ اسرائیل نے قطر پر میزائل داغا تو ٹرمپ نے کہا آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔ پاکستان کے ساتھ سعودیہ معاہدہ اسرائیل کی جارحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا مگر آزمائش آ گئی کہ ایران نے خطے کے اسلامی ممالک پر امریکی اڈوں کا بہانہ بنا کر حملے شروع کر دئیے جو انتہائی خطرناک نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایران پر دہائیوں سے اقتصادی پابندیاں عائد ہیں، یورپ اور امریکہ چند ہفتے صرف آبنائے ہُرمز کی بندش پر چیخ اُٹھے۔ وطن عزیز کی فوج ایک عظیم فوج ہے، رہی بات دیگر اداروں اور عوام کی، محض پٹرول کی افواہ سن کر پٹرول پمپوں پر قتل ہونے کی خبریں سنی گئیں۔ ڈیفنس لاہور میں ڈی ایس پی سے میں نے کہا کہ وہاں تو لوگ بڑے بڑے سفارشی رکھتے ہیں، آپ تھانے کیسے چلا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ دوپہر کو اگر کوئی دو گروپ لڑ پڑیں تو شام تک وزیروں، آئی جی اور وزیراعلیٰ تک کے فون کی بازگشت ان کی گفتگو سے سنی جاتی ہے مگر شام ڈھلتے ہی صلح کر لیتے ہیں۔ بادہ خواری کی بات نہیں کروں گا، ویسے گھر جانا ہو گا یا دوستوں کی محفل میں۔ لہٰذا کلٹ فالوئنگ میں افواہیں نہ پھیلائیں اور اللہ کے بعد پاک فوج پر بھروسہ رکھیں۔ ٹرمپ کے ساتھ جو ہوا ہے، گوجرانوالہ میں ایک پہلوان تھا وہ نوخیز لڑکوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا عادی تھا۔ اس وجہ سے 10 نمبری ہو چکا تھا۔ ایک دن اس نے ایک لڑکے کو پان کھانے کی آفر کی، اُس نے انکار کر دیا۔ گفتگو لڑائی تک پہنچ گئی۔ لڑکا ”ڈنڈ پٹی“ قائم تھا یعنی طاقتور تھا، اُس نے پہلوان کو پٹکا مارا، جب لوگوں نے چھڑایا تو پہلوان کی قمیص اور ہونٹ پھٹ چکے تھے۔ لڑکے کو پتہ چلا کہ یہ پہلوان ہے تو وہ ڈر گیا، مگر پہلوان پٹکا کھا چکا تھا اس کے بعد پھر پہلوان نے جس لڑکے کی طرف رُخ کیا اس کو مار ہی پڑی۔ روس چائنہ دیگر بڑے ملک اندر کھاتے ایران کے ساتھ ہیں۔ ٹرمپ پہلوان کے انجام سے دوچار ہے، اب جن کے فیصلے کراتا تھا اپنا فیصلہ ان کے ذریعے کرائے گا۔ ایران نے اگر 30 سال جنگی تیاری کی تو اسرائیل نے بھی اس کی 30 سال جاسوسی کی جس کی وجہ سے صف اول کی قیادت کے 95 سے زائد لوگ شہید کیے گئے مگر ایک نظام جس کی وجہ سے سلسلہ چل رہا ہے۔ دنیا اس وقت خطرہ فروشوں، تباہی کا کاروبار کرنے والوں کے ہتھے چڑھ چکی ہے، اللہ خیر کرے۔ ٹرمپ کے ہاتھ میں ماچس ہے۔ امید ہے کہ بڑے اتحادی اور چائنہ اس صورتحال پر قابو پا لیں گے۔ ٹرمپ کی رعونت اور حماقتیں اور اسرائیل کی فرعونیت چائنہ کو سپر پاور ڈیکلیئر کر گئی۔ غزہ اور اسلامی ممالک کے شہدا کا خون امریکہ کے ٹرمپ کا بھرم توڑ چکا۔