ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ ریاست نرم ہے یا سخت اس میں ایک اور پہلو کا اضافہ کر لیجئے، گرم ہے یا سرد جنہیں سرما راس آجائے وہ چاہتے ہیں یہی موسم ہمیشہ ایسا رہے ان کے لئے اسی موسم میں بہار کے مزے ہیں جنہیں موسم گرما میں بہار کی تمام نعمتیں دنیا بھر سے چھین کر قدموں میں ڈال دی جائیں وہ بھی کسی قسم کی تبدیلی نہیں چاہتے۔ مشاہدے میں یہی آیا کہ پاکستان میں سیاسی موسموں پر قدرت رکھنے والے اپنی مرضی کا موسم لے آتے ہیں وہ گرما کو سرما میں اور نرم کو سخت بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے جب چاہتے ہیں جو چاہتے ہیں کر لیتے ہیں۔ وہ جو بت تراش کر سامنے لاتے ہیں خلقت اس کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ سجدے سے انکار کی گنجائش نہیں چھوڑی جاتی۔ حرف انکار زبان پر آیا نہیں اور منکر نشان عبرت بنا نہیں۔ اٹھہتر برس کی کہانی یہی ہے۔ البتہ کہانی کے عنوان بدلتے رہتے ہیں۔ اس بحث کو یہیں چھوڑ کر بلوچستان چلتے ہیں، جہاں سڑک کے ساتھ ساتھ اب بذریعہ ٹرین جانا خطرے سے خالی نہیں لیکن تصور ہی تصور میں آپ بخیریت یہ سفر کر سکتے ہیں۔ آبادی دو کروڑ ہے، بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن اس اعتبار سے آبادی بے حد کم ہے۔ یہ کل پاکستان کے رقبے کا پینتالیس فیصد ہے لیکن نظام پر قابض قوتیں اسے کچھ کم کر کے چالیس بیالیس فیصد کہتی ہیں، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اگر پینتالیس فیصد مان لیا جائے تو سمجھنے میں یوں آسانی ہو جاتی ہے کہ نصف پاکستان سے بس ذرا سا کم ہے۔ گنتی کے چند بڑے شہر ہیں جن سے باہر نکلیں تو کئی کئی کلومیٹر تک سفر کرنے کے بعد بھی آپ کو انسان نظر نہیں آتا۔ ویران و بیابان زمین ہے، آس پاس پتھریلے زرد پہاڑ ہیں، کبھی انسانی بستیاں دریائوں کے ساتھ ساتھ بستی تھیں کہ پانی زندگی کی تمام ضروریات پوری کرتا تھا، سفر بھی پانی پر ہی ہوتا تھا، اب اس کی جگہ سڑک نے لے لی ہے، جہاں سڑک ہو گی اس کے پاس زندگی نظر آئے گی، تمام دنیا میں ایسا ہی ہے لیکن بلوچستان میں ایسا نہیں ہے صرف سڑک سے انسان کا پیٹ نہیں بھرتا اس کے لئے اور بھی بہت کچھ درکار ہوتا ہے۔ بلوچوں کو نیا سبق پڑھایا گیا ہے۔ بلوچستان کے مالک آپ ہیں، چلئے وہ اسی پر راضی ہیں تو انہیں راضی رہنے دیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے تو کہا تھا یہ پاکستان آپ کا ہے یعنی پاکستان کا ہر شہر اور اس میں موجود تمام وسائل پر اہل پاکستان کا حق ہے۔ بلوچوں نے بہت کچھ چھوڑ کر صرف بلوچستان پر اپنا حق رکھ کر اپنے حقوق محدود کر لئے ہیں۔ دوسرا پڑھایا گیا سبق یہ ہے کہ آپ کو کام کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ مالک خود کام نہیں کرتا وہ بیٹھ کر مزے کرتا ہے اور ملازموں سے کام لیتا ہے لہٰذا انہوں نے تعلیم میں دلچسپی لینا اور کوئی ہنر نہ سیکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو کوئی انہیں اس طرف مائل کرنے کی کوشش کرے وہ اسے اپنا دشمن سمجھتے ہیں انہیں تیسرا سبق یہ پڑھایا گیا ہے کہ بلوچستان سے غیر بلوچوں کو نکالو، پنجابی، سندھی، پٹھان تمہارے وسائل پر قابض ہیں اس فلسفے کے تحت پنجابیوں کے شناختی کارڈ دیکھ کر انہیں قتل کر دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ آج شروع نہیں ہوا بلکہ تیس برس قبل شروع ہوا تھا۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ٹیچر، ڈاکٹر، وکلاء بہت بڑی تعداد میں قتل کر دیئے گئے۔ خوف کی ایسی فضا قائم کی گئی کہ پڑھے لکھے افراد نے بلوچستان سے نقل مکانی شروع کر دی۔ پٹھانوں کی تعداد خاصی زیادہ ہے لہٰذا ان پر یہ عتاب نازل نہیں ہوا پھر وہ مقابلہ کرنا جانتے ہیں، دشمن کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑتے، وہ متحد بھی ہیں۔ سندھیوں میں ایک معقول تعداد ان کی ہے جن کا تعلق بلوچ قبائل سے ہے لہٰذا ان کے حوالے سے بھی رویے میں ایک درجہ نرمی پائی جاتی ہے۔ پنجابیوں کو نکالنے کے بعد کی سوچ یہ ہے کہ ہم غیر ملکی لیبر یہاں لائیں گے اور ان سے کام لیں گے۔ یہ سب کچھ ہمیں سستا پڑے گا۔ کاش انہوں نے برصغیر کی تاریخ پڑھی ہو اور جانتے ہوں کہ ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ برصغیر میں اسی جھانسے کے زور پر آئی تھی کہ وہ تجارت کرنا چاہتے ہیں اور دنیا بھر میں ہونے والی ایجادات اور ترقی سے اس خطہ ارض کو منور کرنا چاہتے ہیں۔ وہ آئے اور پھر انہیں نکالنے میں سو برس سے زیادہ کا عرصہ لگا۔ اس کے لئے کتنی قربانیاں دی گئیں، یہ علیحدہ موضوع ہے۔ بلوچ عوام پر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ پنجابی ان کے وسائل پر قابض نہیں، اس کے
لئے ضروری ہے کہ معدنی ذخائر کی کانوں کے ٹھیکے جن کے نام ہیں وہ فہرستیں شائع کی جائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ ٹھیکے کن بلوچ سرداروں کے پاس ہیں۔ یہاں سے نکلنے والی معدنیات سے کتنا پیسہ کمایا جا رہا ہے اور کن کے بینک اکائونٹس میں دھڑا دھڑ جا رہا ہے صرف یہ کہنا درست نہیں کہ کوئٹہ کا کوئلہ پورے پاکستان میں توانائی پیدا کر رہا ہے۔ ایک کلو کوئلہ بھی مفت کسی کو نہیں ملتا، اس کی قیمت ادا کی جاتی ہے۔ ہر صوبہ ہر چیز پیدا نہیں کرتا جو چیز جہاں پیدا نہیں ہوتی وہ دوسرے صوبوں سے لائی جاتی ہے۔ گندم، چاول، گنا، چائے کی پتی، کوکنگ آئل اور درجنوں اجناس بلوچستان میں پیدا نہیں ہوتیں۔ دوسرے صوبوں سے ہی جاتی ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔ راہ سے بھٹکے ہوئوں کو اسلحہ بھارت سے آتا ہے، ان کی مالی مدد کے لئے آنے والی اربوں ڈالر کی رقوم غیر ممالک میں بیٹھے ہوئے ان کے لیڈروں کے اکائونٹ میں براہ راست ٹرانسفر ہوتی ہے جبکہ مقامی تخریب کاری کے لئے روپیہ مقامی وسائل سے حاصل کیا جاتا ہے۔ تخریب کاروں نے بھتے کا نظام وضع کر رکھا ہے ان کے نمائندے ہر ماہ باقاعدگی سے ہر کان کے مالک سے ہر بڑے کاروباری ادارے سے بھتہ وصول کرتے ہیں جو باقاعدگی سے ادائیگی کرتا ہے وہی وہاں کام کر سکتا ہے جو مزاحمت کرے اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ کاروباری طبقے نے اس دہشت گردی ٹیکس کو قبول کر لیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ نوجوان بلوچ نسل کیلئے روزگار کے مواقع کم ہیں۔ گزشتہ چالیس برس سے کئی کروڑ روپے فی ممبر قومی اسمبلی اور فی ممبر صوبائی اسمبلی ڈویلپمنٹ کے نام پر دیئے جاتے ہیں۔ سرداروں کو دی جانے والی رقوم اس کے علاوہ ہیں۔ کوئی ان سے بھی حساب مانگے کہ انہوں نے اپنے علاقے میں کتنے سکول کالج بنوائے، کتنی معدنی اشیاء کے پراسسنگ پلانٹ لگوائے، کتنے لائیو سٹاک فارم بنوائے، کتنے ہسپتال بنوائے۔ آج بلوچستان میں تین بڑی یونیورسٹیاں دہشت گردی کے خطرے کے سبب غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دی گئی ہیں، ان کی حفاظت کرنے کے لئے لوگ آسمان سے نہیں اتریں گے۔ یہ حفاظت صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ہر سطح پر طرزفکر بدلنے کی ضرورت ہے، ہمیں دشمن کے بچوں کو پڑھانے کی بجائے اب اپنے بچوں کو پڑھانے اور انہیں ہنرمند بنانے کی ضرورت ہے۔ دشمن کے بچوں کو سبق پڑھانے کی بجائے اب انہیں سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے مگر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، ہم نے بہت سا وقت ضائع کر دیا ہے۔ نوشتہ دیوار پڑھنے کی ضرورت ہے۔