بھارت کو جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے بعد پاکستان کی اہمیت خطے میں بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ آئے روز سفارتی کامیابیاں پاکستان کے قدم چوم رہی ہیں۔ آرمی چیف نے امریکا کا کامیاب دورہ کیا اور پاکستانی کمیونٹی سے خطاب میں واضح کر دیا کہ پاکستان خطے کا اہم ترین ملک ہے اور امن چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاامریکا سے تجارت کا فروغ چاہتے ہیں۔ یہ بات تو طے شدہ ہے کہ پاکستان نے بھارت کو دھول چٹانے کے بعد خطے میں اپنی اہمیت منوا لی ہے۔ بھارت کو ناکوں چنے چبوانے کے بعد پاکستان نے امن کی امریکی پیشکش پر غور کیا اور قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ اس کے بعد امریکی صدر نے دو مرتبہ پاکستان کی سیاسی قیادت کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان میں مضبوط قیادت موجود ہے اور وہ پاکستان کو خاصی اہمیت دیتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے بعد وزیراعظم نے وننگ سپیچ کی تھی اور دنیا بھر میں واضح کر دیا کہ پاکستان پر امن ملک ہے ، مگر جب بات آئے ملکی سالمیت کی تو پاکستان سے طاقتور ملک کوئی نہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے دشمن کے ساتھ وہی کیا جو ایک باوقار قوم کرتی ہے۔ پاکستان کے شاہینوں نے چند ہی گھنٹوں میں بھارتی فوج کی توپوں کو ایسا خاموش کیا جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہاتھا کہ قوم کومبارک باد پیش کرتے ہیں۔ غیور پاکستانیوں کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتے ہیں۔ کوئی ہماری خود مختاری کو چیلنج کرے تو اپنے دفاع میں سیسہ پلائی دیوار بن کر دشمن پر غالب آنا جانتے ہیں۔ بھارت نے کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا، حالیہ دنوں میں دشمن نے جو کیا وہ کھلی جارحیت ہی تھا، ہم نے عسکری تاریخ کا سنہری باب رقم کیا۔ بھارت نے ہم پر بلاجواز جنگ مسلط کی، ہم نے بلا تاخیرغیرجانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔ اس کے بعد بھی برداشت کا مظاہرہ کیا۔ یقینی طور پر پاکستان نے بھارت کے ساتھ وہ کر دیا جس کی اسے کبھی امید ہی نہ تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے بھارت کی ایئر بیسز کھنڈر بنتی چلی گئیں اور پھر اندازوں کے برعکس بھارت نے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اس جنگ میں پاکستان نے کئی اہداف کو حاصل کیا۔اس کے اثرات یقینا دورس ہونگے۔ پاک فوج کی جانب سے بھارت کو نقصان پہنچانے کی تفصیلات زندہ قوم کا سر فخر سے بلند کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اب حال ہی میں بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران بھارت کو صاف پیغام دے دیا گویا وزیراعظم کے بیان کی تائید کر دی کہ بھارت نے اگر پاکستان کے حصے کا پانی بند کیا اور سندھ طاس معاہدے سے چھیڑ چھاڑ کی تو اس کے نتائج بہت بھیانک ہونگے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کے لیے 2 آپشن ہیں وہ سندھ طاس معاہدہ مان لے اگر نہیں مانتا اور ڈیمز یا کینال نکالے گا تو پاکستان جنگ کرے گا۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا نام لیے بغیر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہمارے خطے میں بھی نیتن یاہو کی ایک سستی کاپی ہے، ہم نے بھارت کو جنگ، سفارت کاری اور بیانیے کے میدان میں ہرا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے عوام کے فائدے کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں، پاکستان اور بھارت کے عوام کا فائدہ امن میں ہے ، بھارت چاہتا ہے کہ ہماری آئندہ نسلیں پانی پر لڑیں، پاکستان کاپانی روکنے کی دھمکی اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ بھارت کے لیے 2 آپشن ہیں، سندھ طاس معاہدہ مان لے اور اگر وہ نہیں مانتا، ڈیمز یا کینال نکالے گا تو پاکستان جنگ کرے گا جس کے بعد 6 کے 6 دریا کا پانی پاکستان کو دلوائیں گے۔بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ امریکا کا صدر کہتا ہے کہ ثالثی ہو، بھارت کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ کہنے والی بات سے پیچھے ہٹ چکا ہے، کشمیر کے حوالے سے ہر جگہ دنیا میں ہمدردی ہے اور اب کشمیر ایک بین الاقوامی معاملہ بن گیا ہے، یہ ہماری کامیابی ہے کہ اندرونی معاملہ بین الاقوامی معاملہ بن چکا ہے۔
بلاول کا مضبوط بیان اور وزیراعظم کا دو ٹوک موقف اس امر کی ترجمانی کر رہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی جیت ہو چکی ہے ، پاکستان کی سفارتکاری کامیاب ہے اور پاکستان کے موقف میں لچک ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت ہوش کے ناخن لے اور یہ تسلیم کرے کہ پاکستان خطے کا اہم ترین ملک ہے ، سندھ طاس معاہدے کو ثبوتاژ کرنے سے جنگ یقینی ہے اور اس مرتبہ پاکستان پہلے سے بڑھ کر جواب دے گا۔