Wed, September 16, 2026

  ایڈیشنل رجسٹرار توہین عدالت کیس: وفاق نے 27 جنوری کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی

  ایڈیشنل رجسٹرار توہین عدالت کیس: وفاق نے 27 جنوری کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ نذر عباس کے خلاف توہین عدالت کیس میں 27 جنوری کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی ہے۔ وفاق نے درخواست میں کہا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل 2 رکنی بینچ کا فیصلہ غیر آئینی ہے اور اس پر نظر ثانی کی جائے۔

وفاق نے اپنی اپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ 2 رکنی بینچ کا فیصلہ اختیار سے تجاوز تھا اور اس میں عدالت کے دائرہ اختیار پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ وفاقی حکومت نے کہا کہ آئینی ترمیم کے بعد کسی بھی مقدمے کی سماعت ریگولر بینچ نہیں کر سکتا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ابتدائی سماعت کے دوران 27 جنوری کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، مگر اس کے بعد از خود تاریخ کو تبدیل کر کے 16 جنوری کر دی گئی۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بینچ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ججز کمیٹی کا کردار ادا کرے اور بینچ تشکیل دے۔ اپیل میں یہ بھی کہا گیا کہ فیصلے نے ججز کمیٹی کو عملاً غیر فعال کر دیا۔

یاد رہے کہ 27 جنوری کو جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی کے بینچ نے ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا تھا، اور یہ کہا گیا تھا کہ ایڈیشنل رجسٹرار نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں کی۔ ان کے خلاف بدنیتی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ دونوں ججز کمیٹیوں نے جوڈیشل آرڈر نظر انداز کیا، جس کے بعد اس معاملے کو فل کورٹ تشکیل دینے کے لیے چیف جسٹس کو بھیجا گیا تھا۔ بعد ازاں 28 جنوری کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جسٹس منصور علی شاہ کے 13 اور 16 جنوری کے احکامات واپس لے لیے تھے، اور اٹارنی جنرل نے ان فیصلوں کو چیلنج کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

ٹیگز: