2025 اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حکومتی بیانئے میں بہتری کے دعوے، استحکام کی نویدیں اور معاشی بحالی کے وعدے دہرائے جا رہے ہیں۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ سال بھی عوام کی اکثریت کے لیے پریشانی، خوف اور غیر یقینی کے سائے میں ڈھل چکا ہے۔ پاکستان کے مڈل، لوئر مڈل اور غریب محنت کش طبقات آج بھی اسی امید کے سہارے صبح و شام محنت کر رہے ہیں کہ شاید وہ اسی سرزمین پر اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنا سکیں۔ لیکن ہر نیا دن ایک نئے چیلنج، نئی مہنگائی اور نئی بے بسی کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ گورننس سسٹم میں حالات بہتر ہونے کے زیادہ امکانات نظر نہیں آتے۔ حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ گورننس کی ناکامی کا خمیازہ ہر روز عام پاکستانی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ایک غریب پاکستانی سے لے کر متوسط طبقے تک سب اس کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ پاکستانی عوام نے سات سال پہلے کے مقابلے میں اس سال تقریباً3 گنا یا 300 فیصد زیادہ ٹیکس دیا۔ تنخوادار طبقے نے پچھلے سال 545ارب روپے ٹیکس دیا، اوراس سال ہدف600 ارب روپے ہے۔
ابھی کچھ دن پہلے خبر آئی کہ رواں مالی سال پٹرولیم لیوی کی وصولی کا تخمینہ 1468 ارب روپے ہے جبکہ چار سال بعد پاکستانیوں سے پٹرولیم لیوی کی مد میں سالانہ وصولیاں بڑھ کر2212 ارب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ٹیکس پر ٹیکس اس لیے نہیں لگائے جارہے کہ عوام کے فلاح و بہبود پر خرچ ہوں گے بلکہ اس لیے لگائے جارہے ہیں کہ بجٹ خسارہ اور قرض پر سود ادا کرنے کا بندوبست ہو سکے۔
2025-26 کے بجٹ میں کل اخراجات کا اندازہ 17 ہزار 573 ارب روپے ہے جس میں سے 6501 ارب روپے خسارہ ہے جبکہ قرض اور سود کی ادائیگی پر 8207 ارب روپے خرچ ہونا ہیں۔ یعنی سود اور خسارہ ملا کر 14700 ارب سے زائد رقم بنتی ہے۔ باقی ماندہ 2865 ارب کے بجٹ میں سے دفاعی بجٹ 2550 ارب روپے، بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ کے لیے 716 ارب روپے، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے لیے 1000 ارب روپے، زراعت کے لیے صرف 4 ارب روپے، تعلیم کے لیے 18.5 ارب اور صحت کے 21 منصوبوں کے لیے صرف 14.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یعنی سود کی ادائیگی اور خسارہ، دفاع، تعلیم، صحت، زراعت اور انفراسٹرکچرسمیت بنیادی شعبوں کے اخراجات کے تین گنا سے زیادہ ہے۔
لیکن سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ یہ قرض اتنا بڑھ کیسے گیا تو اس کا جواب بھی خود حکومتی رپورٹ سے ملتا ہے۔ اس سال کی آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت اور اس کے ماتحت محکموں و اداروں میں 9.769 کھرب روپے کی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں۔ یعنی بات وہی ہے جو آغاز میں لکھی کہ یہ بحران محض معاشی نہیں بلکہ مسئلہ گورننس سسٹم کا ہے چاہے وہ بد انتظامی کی صورت میں ہو یا بدنیتی کی صورت میں۔
پاکستان کو درپیش تقریباً تمام بڑے مسائل مثلاً مہنگائی، بے روزگاری، قرض، ٹیکس کا بحران، توانائی کی قلت، تعلیم کی زبوں حالی اور ماحولیاتی تباہی، اگر کسی ایک نکتے پر آ کر جڑتے ہیں تو وہ ناکام گورننس ہے۔ اس ناکام گورننس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت 25 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور ملکی آبادی کا 44 فیصد حصہ غربت سے متاثر ہے۔ 15 سے 24 سال کے نوجوان افراد میں سے 37 فیصد روزگار یا تعلیمی مواقع سے محروم ہیں۔ شاید اسی گورننس کی ناکامی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران حالات سے تنگ آئے 28 لاکھ 94 ہزار 645پاکستانی بیرون ملک چلے گئے ہیں۔
بیرون ملک جانے والوں میں ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ایکسپرٹ، اساتذہ، بینکرز، اکاؤنٹنٹ، آڈیٹر، ڈیزائنر، آرکی ٹیکٹ کے ساتھ ساتھ پلمبر، ڈرائیور، ویلڈر اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ یہ محض ہجرت نہیں بلکہ ایک منظم Brain Drain ہے جس پر ریاست خاموش ہے۔ جب تعلیم امید نہ دے، معیشت روزگار نہ دے اور گورننس تحفظ نہ دے تو نوجوانوں کو محض دھرتی کی محبت سے جوڑے رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ عام اورغریب پاکستانی کے لیے تو غربت ہے لیکن اشرافیہ کے لئے تمام سہولیات اور آسائشیں موجود ہیں۔اس سال ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 300 فیصد اضافہ، وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں میں 140 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ بیوروکریسی اور فوجی اداروں کی مراعات میں آئے روز اضافے کا بوجھ بھی قوم کے ناتواں کندھوں پر ہے۔
2025 میں پاکستان کے لیے اہم چیلنج ماحولیات کا تھا۔ ماحولیات پر حکومتی تقاریر ضرور ہوتی ہیں، مگرعملی طور پر پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جو کلائمیٹ چینج سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ رواں برس سیلاب کی تباہ کاریوں سے 822 ارب کے نقصانات سامنے آئے ہیں۔ سموگ، سیلاب، گرمی کی لہریں اور پانی کی قلت اب محض ماحولیاتی مسائل نہیں رہے بلکہ گورننس کی ناکامی کی علامت بن چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر شہری منصوبہ بندی، قانون کا نفاذ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ہوتی تو یہ مسائل اس شدت سے نہ ابھرتے۔
ان تمام ناکامیوں کا سب سے خطرناک نتیجہ ریاست اورشہری کے درمیان اعتماد کا ٹوٹنا ہے۔ جب حکومتی دعوے نتائج میں تبدیل نہ ہوں، جب قانون طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہو اور جب قربانی ہمیشہ عوام سے مانگی جائے تو ریاست محض ایک انتظامی ڈھانچہ رہ جاتی ہے، ایک اخلاقی معاہدہ نہیں۔
ناقص فیصلہ سازی، ناکام گورننس اور احتساب کے فقدان نے پاکستان کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں مسئلے حل ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔ اگر پاکستان کو واقعی 2026 میں داخل ہوتے ہوئے امید کی کسی ٹھوس بنیاد پر کھڑا کرنا ہے تو محض نعرے اور دعوے نہیں، نظام میں انقلابی تبدیلیاں درکار ہیں۔ قانون کی بالادستی، ٹیکنالوجی پر مبنی گورننس، شفاف ٹیکس نظام، تعلیم اور معیشت کا ربط اور سب سے بڑھ کرفیصلہ سازوں کی کسی بھی استثنیٰ کے بغیر جوابدہی۔ ریاستیں دعوؤں سے نہیں، نتائج سے زندہ رہتی ہیں۔ نتائج صرف اسی وقت آتے ہیں، جب گورننس محض فائلوں میں نہیں، عمل میں نظر آئے۔