Wed, September 16, 2026

تحریص، ترغیب اور ترکیب

تحریص، ترغیب اور ترکیب

تحریص و ہوا … نفس کی سرگوشی ہے۔ ترغیب شیطان کا پھندا ہے۔ اس پھندے سے بچنے کی ترتیب یا اس میں پھنسنے کی ترکیب عقل مہیا کرتی ہے۔ یہاں دوش عقل کا ہے، نہ شیطان مردود کا … یہ نفس ہے جسے کے پہلو سے ہوا نکلتی ہے … جو بنتِ حوا کی کوئی صورت بناتی ہے یا پھر مال، مقدار اور منصب کی راہداری کی طرف لے جاتی ہے۔
نفس کی سرکشی اسے اپنی سی مرضی کرنے پر اُکساتی ہے۔ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ یا ’’میری عقل میرا اصول‘‘ ایسے نفسانی نعرے دراصل نفس کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں … ایسا نفس جو کسی آسمانی ہدایت کے سامنے سرنگوں ہونے کو اپنی سبکی سمجھتا ہے۔ سرِ تسلیم خم کرنا … دل سے پہلے نفس کا کام ہے۔ دل … روح اور جسم کا مشترکہ دارالحکومت ہے۔ یہ ایک کامن سیکرٹریٹ Common Secretariate ہے، جہاں سے دونوں طرف احکامات موصول ہوتے ہیں۔ نفس اپنی سرکشی کم کر دے تو امارہ کی آوارگی سے نکل کر لوّامہ کی تربیت گاہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ لوامہ ایک برزخ ہے … یہاں سے دونوں طرف راستہ نکلتا ہے۔ برزخ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا، یہاں سے کسی ایک طرف کا بورڈنگ پاس لے کر آگے نکلنا ہوتا ہے … شقاوت کے پُر شور ٹرمینل کی طرف یا پھر سعادت کے پُر سکون ساحل کی طرف!
نفس جب تک طغٰی کی طغیانی ترک نہیں کرتا، خود کو نیل میں ڈوبنے سے بچا نہیں پاتا۔ نیل فرعون کی عبرت گاہ ہے۔ فرعونیت … نفس کی مکمل انانیت ہے۔ ’’انا ربکم الاعلیٰ‘‘ کا غلغلہ ایسے ہی نہیں بلند ہوتا۔ اپنے رب سے غافل ہونے والا ہی خود کو رب کہلوانے کی مصیبت سے دوچار ہوتا ہے۔ اگر فرعون لوّامہ کی سرگوشی پر کان دھرتا تو پَے دَر پَے نازل ہونے والے عذابوں کو رب کی آیات میں سے سمجھتا۔ موسویت اور معصومیت کے مقابلے پر نہ اترتا … ان کا پیچھا کرتا ہوا دیبل کے ساحل پر نہ اترتا … اور تاریخ کے عجائب گھر میں عبرت کی ممّی نہ بنتا۔ معصومیت کے ہاں ایک اطمینان ہے … اطمینانِ کامل ہے … نفسِ مطمئنہ معصومیت کی بخشی ہوئی بہشت ہے … یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ رب کی رضا کیا ہے اور یہ کہ آیا ہم اپنی رضا کو اس کی رضا کے سامنے سرنگوں کر چکے ہیں یا ابھی تشکیک کی دلدل میں ہیں۔ نفس نے راہِ تسلیم سے گزر کر، مقامِ رضا پر متمکن ہو کر جس رب کے ساتھ راجع ہونا ہے … اُس کی رضا و منشا کی شرح معصومیت کے پاس ہے۔ معصوم یا معصوم کا سفیر جدھر ہے، اگر ہمارا رجوع اُدھر ہے تو فلاح کی ضمانت ہے۔ نبوّت معصوم ہے، ولایت معصوم کی سفارت ہے۔ سفیر کا احترام دراصل اُس ملک کا احترام ہے جس کا وہ سفیر ہے۔ شعائر کی تعظیم یہی تفہیم رکھتی ہے۔ ولایت سے تمسک ہمیں تحریصات و ترغیبات سے دُور رکھنے کا ایک قوی سبب ہے۔ نفس کی تحریص اور شیطان کی ترغیب اگر بے اثر ہو جائے تو عقل، عقلِ سلیم کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ عقلِ سلیم کو راہِ تسلیم میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ اب یہ سدِّ راہ نہیں، زادِ سفر ہے۔ اب اُس کی ترکیب، حسنِ ترکیب ہے۔ صلح اور صالحات کی ترکیب بتاتی ہے۔ عقلِ سلیم اور قلبِ سلیم ایک دوسرے سے مخاصمت میں نہیں، موافقت میں ہیں۔ خیال کی اُڑان بھرنے میں عقلِ سلیم زمینی قوت فراہم کرتی ہے اور قلبِ سلیم قوّتِ پرواز۔
بیعت … قول کا بندھن ہے … معصوم کے ساتھ یا معصوم کے کسی معصوم سے بالکے کے ساتھ! قول عمل کو اپنے ہمراہ کر لیتا ہے۔ اوائل میں سالک لوگ ایک بیعت ِ توبہ بھی کیا کرتے تھے۔ کسی صاحبِ ارشاد کے ہاتھ ایک وعدہ … اسے گواہ بناتے ہوئے ایک وعدہ، کہ اب اُس وادی سے پلٹ آؤں گا جہاں آوارگیِ فکر ہے … جس سے اگلی وادی شامتِ عمل کہلاتی ہے … اور اس کے اگلی جائے عبرت! تنہائی میں انسان اپنے رب کے ساتھ قول قرار کرتا رہتا ہے، لیکن تنہائی اس کا کوئی گواہ نہیں ہوتا۔ قول کو قرار پانے کے لیے کہیں اقرار درکار ہوتا ہے۔ نفس کا منہ زور گھوڑا کسی ذی نفس کی موجودگی میں اپنے منہ میں لگام ڈالتا ہے۔ تزکیہِ نفس کے لیے کسی ذی نفس کا ہونا ضروری ہے۔ روح اور جسم کے درمیان معرکہ، نفس کے میدان میں برپا ہوتا ہے۔ بہت کم شہسوار ہیں جو وَن مین آرمی one man army ہوتے ہیں … یہ پیدائشی شہسوار اکیلے میں بھی کوئی معرکہ سر کر لیتے ہیں، لیکن عام مسافروں کو محفوظ سفر کے لیے ایک قافلے میں شامل ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قافلہِ خیال … میں کوئی راہبر ہوتا ہے اور ہم سفر!
قولِ حَسن، عملِ حَسن پیدا کر سکتا ہے۔ ایک حسین قول کسی عملِ قبیح سے دُور کر سکتا ہے۔ کوئی فقرہ … فقیری کی راہ پر ڈال سکتا ہے۔ فقیر کا ایک فقرہ … راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ راستہ بدل گیا تو منزل بدل گئی۔ منزل بدل گئی تو منزلِ ابدی میں جگہ مل گئی۔ خوشبو اور خیال کے تعاقب میں انسان خوشبودار خیال میں ڈھل جاتا ہے۔ خوشبودار خیال میں بھیگا ہوا انسان کسی بدبودار عمل میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔ شرط خیال اور صاحب ِ خیال سے وفاداری ہے۔
ترغیباتِ نفس … بشمول شہوات من النسائ، اولاد، سونے اور چاندی کے ڈھیر … اور نشان زدہ گھوڑے (Applied for vehicle, VIP number plate) مویشی اور کھیتیاں (یعنی مال پیدا کرنے والی فیکڑیوں اور اراضیوں کی حرص) … اس ذی نفس کے سامنے مٹی کا ڈھیر ہیں جو تسلیم میں داخل ہو گیا، پورے کا پورا۔ کامل اسلام، کامل تسلیم ہے۔ ’’یا ایھا الذین آمنو الدخلو فی السلمِ کافہ‘‘ (اے ایمان والو! داخل ہو جاؤ تسلیم میں پورے کے پورے)۔ اسلام، ایمان اور احسان سب میں داخل ہونے کے لیے کسی ذی نفس کا ہاتھ درکار ہوتا ہے۔ ایک غیر مسلم بھی کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے۔ ایمان والے بھی کسی شجرِ طیبہ کے سائے میں اللہ کے رسولؐ کے ہاتھ پر بیعت ہوتے ہیں۔ منزلِ احسان کے متمنی تو محسنین کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں تا آن کہ وہ ان کے ہاتھ پر بیعت ہوں۔ ہر ولی کے ہاتھ پر علیؓ کا ہاتھ ہے اور علیؓ کے ہاتھ پر نبیؐ کا ہاتھ … اور مقامِ صلح پر جنہیں فتح نصیب ہونے والی ہوتی ہے، اُن کے بارے میں اللہ کہتا ہے کہ جنہوں نے آپؐ کے ہاتھ پر بیعت کی، انہوں نے گویا اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔
جب ہم اپنی عقل کو کسی کے دل کے تابع کر لیتے ہیں اور اپنے دل کو کسی کی عقل کے تابع … تو بیعت ظاہر باطن میں مکمل ہو جاتی ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ دنیا میں کوئی ایک ایسا انسان ضرور ڈھونڈ لو جسے تم اپنے زیادہ عقل مند مان سکو۔ مراد یہ ہے کہ اس کی بات اگر عقل میں نہ آ سکے، تب بھی مان سکو۔ مزید تفہیم یہ ہے کہ اس کے دل کی بات کو اپنی عقل کی بات پر ترجیح دے سکو، اور اپنے دلی کیفیات کو بلادھڑک اس کی عقل کی کسوٹی کے سامنے پیش کر سکو۔ یہ انسان کو ماننے کا عمل ہے۔ جب ہم کسی کو اپنے سے زیادہ ذی عقل مانتے ہیں تو اپنی عقل کے حجاب سے نکل آتے ہیں۔ کسی انسان کو خود سے بہتر ماننے سے ہم اس قافلے میں شامل ہو جاتے ہیں جو تکریمِ انسانی کا داعی اور راعی ہے۔

ٹیگز: