Wed, September 16, 2026

نجکاری: مسائل حل ہو سکیں گے؟

نجکاری: مسائل حل ہو سکیں گے؟

ہم نجکاری پالیسی کے تحت اپنے قومی اثاثے فروخت کرتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ پالیسی 90کی دہائی میں اشتراکی ریاست کے 15 ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر بکھر جانے کے بعد عالمی زری اداروں کے ا حکامات کے مطابق اختیار کی گئی تھی۔ اس وقت پاکستان میں دو بڑی سیاسی جماعتیں تھیں۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی، مسلم لیگ کاروباری طبقات کی نمائندگی کرتی تھی۔ محمد نواز شریف جیسے کامیاب سرمایہ دار اس پارٹی کے رہنما تھے۔ مسلم لیگ کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام معاشرت و معیشت کے تحت سیاست میں آئی تھی اس لئے وہ عالمی نظام سیاست و معیشت سے ہم آہنگ پالیسیوں کی پرچارک تھی یہی وجہ ہے کہ نواز شریف تین دفعہ وزارت عظمیٰ کے منصب جلیلہ پر فائز ہوئے اور آج بھی ان کی جماعت مرکز اور پنجاب میں برسر اقتدار ہے جبکہ پیپلز پارٹی بحیثیت جماعت سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت کے بل بوتے پر ابھری ’’سوشلزم کو ہماری معیشت‘‘ قرار دے کر عامۃ الناس کی ہمدردیاں حاصل کیں اور برسر اقتدار آتے ہی نجی املاک کو قومیانے کی پالیسی پر عمل درآمد کر ڈالا۔ ایوبی دور (1958-69) کے دوران قومی معیشت نے تعمیر و ترقی کے جو ریکارڈ قائم کئے تھے وہ قومیانے کی پالیسی نے ملیامیٹ کر دیئے۔ عام آدمی کو روٹی، کپڑا اور مکان کو کیا ملنا تھا جو مل رہا تھا وہ بھی چھن گیا پھر ہم نے دیکھا کہ 1977ء کی تحریک میں ایسے بھی عناصر نے مل جل کر بھٹو حکومت کے خلاف تحریک میں بنیادی کردار ادا کیا اور جولائی 77ء میں ملک جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کا اسیر ہو گیا۔ پیپلز پارٹی آج بھی نجکاری کے خلاف اور مزدوروں اور کارکنان کے حقوق کی علمبردار ہے لیکن مسلم لیگ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی حامی اور اس کی پالیسیوں پر عمل پیرا نظر آتی ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کی آج ہونے والی نجکاری، مسلم لیگ کی اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ مسلم لیگ اس سے پہلے بھی اپنے ادوارِ حکومت میں قومی اثاثوں کی نجکاری کر چکی ہے۔ نجکاری کے فیوض و برکات بارے لیکن قوم کو نہ پہلے کچھ پتہ تھا اور نہ ہی اب کچھ پتہ چلنے کا امکان ہے۔ اثاثے بیچے جا رہے ہیں، بیچے جاتے رہیں گے۔ حکمرانوں کے پاس اس حوالے سے دلائل ہوں گے لیکن عوام کسی قسم کے شواہد سے نابلد ہیں۔
دورِ جدید جس کی عمر اڑھائی تین سو سال سے زیادہ نہیں ہے، تین قسم کے سیاسی، معاشرتی و معاشی نظاموں کے تحت چلتا رہا ہے یا یوں کہہ لیں کہ دورِ 
جدید میں تین نظام ہائے زندگی معرض وجود میں آئے۔ ایک نظام آدم سمتھ کے ’’اقوام دولت کی تحقیق‘‘ نامی کتاب، جسے معیشت کی بائبل کہا جاتا ہے، میں درج افکار و نظریات پر مبنی ہے جسے سرمایہ دارانہ نظام معیشت کہا جاتا ہے۔ اس نظام کی ابتدا برطانیہ میں ہوئی لیکن اسے بام عرج پر امریکہ نے پہنچایا۔ آج امریکہ اگر دنیا کی سپریم پاور مانی و جانی جاتی ہے تو یہ اسی نظام کی بدولت ہے یہاں نجی شعبے نے آزادی کے ساتھ کام کیا اور کر رہے ہیں۔ پیدائش دولت کے تمام ذرائع آزادانہ طور پر، بغیر حکومتی مداخلت کے بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ طلب و رسد کی قوتیں کام کرتی ہیں جن کی بنیاد پر معاوضے بھی طے پاتے ہیں اور اشیا و خدمات کی قیمتیں بھی متعین ہوتی ہیں۔ منڈی میں معاملات طے پاتے ہیں، اس لئے اسے مارکیٹ سسٹم بھی کہتے ہیں۔ نفع اندوزی اور سود خوری کے محرکات ہر شعبے کو فعال و متحرک رکھتے ہیں۔ ہر فرد، ہر گروہ، ہر کاروبار اور ادارہ نفع اندوزی اور سود خوری کے محرکات کے تحت فعال رہتا ہے۔ خوب سے خوب تر کی تلاش کہ ہے خوب تر کہاں، کے مصداق معاشرے میں بہتر نہیں بلکہ بہترین نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ امریکہ و مغربی یورپی اقوام کی تعمیر و ترقی کا راز سرمایہ دارانہ نظام کے فروغ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہی نظام عالمی سطح پر رہنما و رہب کا فریضہ بھی سرانجام دے رہا ہے۔
دوسرا نظام اشتراکیت ہے جو فرد کی آزادی کی بجائے ریاستی /حکومتی بالادستی پر قائم ہے۔ اس نظام کی فکری بنیادیں جرمن فلاسفر فریڈرک اینجلز نے اپنے ’’فلسفہ جدلیات‘‘ میں پیش کی تھیں جن کی تفسیر کارل مارکس نے اپنی شہرئہ آفاق تصنیف ’’سرمایہ‘‘ میں پیش کیں۔ کمیونسٹ پارٹی نے انہی بنیادوں کو اپنے منشور میں شامل کیا اور پھر جوزف سٹالن نے انہی افکار و نظریات پر سوویت یونین قائم کر کے ایک عظیم اشتراکی ریاست تخلیق کر دکھائی جو آٹھ دہائیوں تک عالمی منظر پر ایک نظام کی نمائندگی کرتی رہی۔ مشرقی یورپ کی کئی ریاستوں نے یہ نظام اختیار کیا اور کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ پھر 90ء کی دہائی میں سوویت یونین کے انتشار کے بعد سرمایہ دارانہ نظام نے تن تنہا عالمی قیادت کا سہرا اپنے سر سجا لیا اور سفید انسان کی برتری اور سرمایہ دارانہ نظام کے غلبے کا اعلان کر دیا۔
سرمایہ دارانہ نظام کی کامیابی امریکہ و حلیف ممالک میں دیکھی جا سکتی ہے جبکہ اشتراکی نظام سوویت یونین میں فیل ضرور ہوا لیکن ختم نہیں ہوا ہے۔ چین اس وقت ایک عظیم ریاست کے طور پر ہمارے سامنے موجود ہے۔ چینی نظام میں فرد کی آزادی مفقود ہے۔ ریاست ہی غالب نظر آتی ہے۔ پیداواری نظام پر ریاست اور اس کی پالیسیوں کا غلبہ نظر آتا ہے۔ عظیم الجثہ کارپوریشن اور کمپنیاں ریاستی رہنمائی کے تحت اسی کی پالیسیوں کے مطابق چلتی اور آگے بڑھتی نظر آرہی ہیں۔ دنیا کی جدید ترین سرمائے کی منڈی ہانگ کانگ بھی ریاستی نگرانی میں کام کرتی اور نتائج دیتی نظر آرہی ہے۔ چین عالمی نظام معیشت میں ایک فیصلہ کن عامل کی حیثیت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور نظام معیشت ’’مخلوط معیشت‘‘ کے نام سے بھی رائج ہے جہاں نجی اور سرکاری شعبے مل جل کر کام کرتے ہیں۔ بھارتی معیشت اس کی ایک کامیاب روشن مثال ہے جبکہ پاکستان اس کی ناکام مثال ہے۔ بھارت میں نجی شعبہ فعال ہے۔ قوی الجثہ کارپوریشن کام کر رہی ہیں نتائج دے رہی ہیں ان کے ساتھ ساتھ سرکاری شعبے کا اشتراک بھی چل رہا ہے اور اس کے بہتر ہی نہیں بلکہ بہترین نتائج نکل رہے ہیں۔ سرکاری شعبہ، نجی شعبے کی رہنمائی و معاونت کے ذریعے اس کی کامیابی کو یقینی بناتا ہے جبکہ پاکستان میں نہ تو خالص نجی شعبے کو مثبت نتائج دکھانے کے مواقع ملتے ہیں اور نہ ہی سرکاری شعبہ خود کوئی مثال قائم کر پا رہا ہے۔ ایک وقت تھا کہ سرکاری شعبے کی جے جے تھی۔ جی ٹی ایس ہو یا پاکستان ریلویز، پی آئی اے ہو یا گورنمنٹ کالج لاہور/گورنمنٹ سنٹرل ماڈل سکول اور ایسے ہی دیگر بے شمار ادارے جو سرکاری ملکیت میں رہتے ہوئے بہترین مانے اور جانے جاتے تھے، سرکاری شعبے میں رہتے ہوئے ہی ہماری مسلح افواج بشمول بری، فضائی اور بحری نے عالمی ریکارڈ قائم کر دکھائے ہیں لیکن اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ ہمارا سرکاری شعبہ مرد بیمار کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ حکومت کو سالانہ اربوں روپے سرکاری کارپوریشنوں کو زندہ رکھنے کے لئے خرچ کرنا پڑ رہے ہیں جو ادارے نفع اندوزی کے لئے قائم کئے گئے تھے انہیں زندہ رکھنے کے لئے اربوں روپے خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔ حکومت نجکاری کے ذریعے اپنا یہ بوجھ ہلکا کرنا چاہ رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بوجھ ہلکا ہو سکے گا اور نجکاری کے نتیجے میں دیگر مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔ کیا ہمارے نجکاری پالیسی سازوں نے اس بارے میں بھی سوچا ہے؟۔

ٹیگز: