حالیہ دنوں میں سرمایہ کاری کے رجحانات میں ایک عجیب موڑ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سوشل میڈیا، واٹس ایپ گروپس اور نجی محفلوں میں یہ بات تیزی سے پھیل رہی ہے کہ ایران کی کرنسی اس وقت اپنی کم ترین سطح پر ہے، اس لیے یہ سرمایہ کاری کا بہترین موقع ہے۔ کچھ لوگ اس خیال کو اس قدر یقین کے ساتھ پیش کر رہے ہیں جیسے آنے والے وقت میں ایرانی کرنسی اچانک بلند پرواز کرے گی اور سرمایہ لگانے والوں کو غیر معمولی منافع حاصل ہوگا۔ مگر جب اس معاملے کا سنجیدگی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ سادہ سی بات ایک پیچیدہ حقیقت میں بدل جاتی ہے۔
ایران کی کرنسی، جسے ایرانی ریال کہا جاتا ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے دبا کا شکار ہے۔ اگر 1980 کے بعد کا معاشی سفر دیکھا جائے تو اس میں بہتری کے بجائے مسلسل تنزلی نظر آتی ہے۔ یہ تنزلی کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل سلسلہ ہے جس میں سیاسی کشیدگی، عالمی پابندیاں، داخلی معاشی کمزوریاں اور بین الاقوامی تنہائی شامل ہیں۔ ان تمام عوامل نے مل کر ایرانی ریال کی قدر کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے جہاں سے اس کی بحالی آسان نظر نہیں آتی۔
عالمی سطح پر ایران کو جس طرح کے اقتصادی دبا کا سامنا ہے، وہ کسی بھی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر United States اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں نے ایران کے مالیاتی نظام کو عالمی معیشت سے تقریباً کاٹ دیا ہے۔ بین الاقوامی بینکاری نظام تک محدود رسائی، تیل کی برآمدات پر قدغنیںاور غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمی نے ایرانی معیشت کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں کسی کرنسی کا مضبوط ہونا یا اچانک اوپر جانا ایک غیر حقیقی توقع محسوس ہوتی ہے۔
اس کے باوجود، بعض حلقوں میں یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ چونکہ ایرانی ریال بہت نیچے آ چکا ہے، اس لیے اب اس کے اوپر جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ بظاہر یہ دلیل عام فہم لگتی ہے، مگر معاشیات کے اصول اس کی تائید نہیں کرتے۔ کسی بھی کرنسی کی قدر اس وقت بڑھتی ہے جب اس کے پیچھے مضبوط معیشت، سیاسی استحکام اور عالمی اعتماد موجود ہو۔ ایران کے معاملے میں یہ تینوں عناصر کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ جب تک ان بنیادی مسائل کا حل نہیں نکلتا، محض سستی کرنسی میں سرمایہ کاری کرنا ایک خطرناک فیصلہ ہو سکتا ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ کرنسی کی خرید و فروخت کوئی سادہ کاروبار نہیں بلکہ ایک پیچیدہ نظام کا حصہ ہے جسے فاریکس مارکیٹ کہا جاتا ہے۔ اس مارکیٹ میں بڑے مالیاتی ادارے، مرکزی بینک اور تجربہ کار سرمایہ کار حصہ لیتے ہیں۔ ایک عام فرد کے لیے اس میدان میں بغیر مکمل معلومات اور حکمت عملی کے داخل ہونا اکثر نقصان کا باعث بنتا ہے۔ خاص طور پر جب سرمایہ کاری ایک ایسی کرنسی میں کی جا رہی ہو جس کے مستقبل پر خود ماہرین بھی متفق نہ ہوں۔
پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں پہلے ہی معاشی دبا ﺅموجود ہے، لوگ جلد منافع کے مواقع تلاش کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی ایسی خبر یا افواہ سامنے آتی ہے جس میں کم وقت میں زیادہ فائدے کا امکان بتایا جائے، لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ایسے مواقع اکثر دھوکہ ثابت ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی جمع پونجی ان منصوبوں میں لگا دیتے ہیں اور بعد میں شدید مالی نقصان کا سامنا کرتے ہیں۔
ایران کی کرنسی کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی خدشہ موجود ہے۔ اگر کوئی شخص یہ سوچ کر سرمایہ کاری کرتا ہے کہ مستقبل میں پابندیاں ختم ہو جائیں گی اور معیشت بہتر ہو جائے گی، تو یہ ایک قیاس آرائی ہے، نہ کہ یقینی حقیقت۔ بین الاقوامی سیاست اور اقتصادی فیصلے کسی ایک فرد یا گروہ کی توقعات کے مطابق نہیں ہوتے۔ ان میں کئی پیچیدہ عوامل شامل ہوتے ہیں جن کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔
مزید برآں، ایران کے اندر مہنگائی کی شرح بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جب کسی ملک میں مہنگائی بڑھتی ہے تو اس کی کرنسی کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ آپ کے پاس کرنسی کی مقدار زیادہ ہو سکتی ہے، مگر اس کی اصل قدر کم ہوتی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف کرنسی کی قیمت دیکھ کر سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنا ایک ادھورا اور خطرناک نقطہ نظر ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ سرمایہ کار اپنی مالی حالت اور خطرے کو برداشت کرنے کی صلاحیت کو مدنظر رکھیں۔ ہر سرمایہ کاری میں کچھ نہ کچھ خطرہ ہوتا ہے، مگر دانشمندانہ فیصلہ وہی ہوتا ہے جس میں خطرہ کم اور امکانات واضح ہوں۔ ایران کی کرنسی میں سرمایہ کاری اس معیار پر پورا نہیں اترتی۔ اس میں خطرہ زیادہ اور غیر یقینی صورتحال غالب ہے۔
آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ سرمایہ کاری کا فیصلہ ہمیشہ تحقیق، تجربے اور حقیقت پسندانہ سوچ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ وقتی رجحانات، سوشل میڈیا کی باتوں یا دوسروں کی رائے پر اندھا اعتماد کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران کی کرنسی کے حوالے سے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ یہ ایک غیر یقینی اور پرخطر راستہ ہے۔ ایسے میں احتیاط ہی بہترین حکمت عملی ہے، کیونکہ مالی معاملات میں ایک غلط قدم طویل عرصے تک اثر انداز ہو سکتا ہے۔
سرمایہ کاری کا اصل اصول یہی ہے کہ منافع کے پیچھے دوڑنے سے پہلے نقصان سے بچنے کی کوشش کی جائے، اور یہی اصول موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ اہم نظر آتا ہے۔