Wed, September 16, 2026

یقین کتنا ہے!

 یقین کتنا ہے!

بہت ہی عمدہ دوست اور کسٹم اپیلیٹ ٹربیونل لاہور کے حال ہی میں ریٹائرڈ ہونے والے افسر عمانویل پرویز کا کلام نظر سے گزرا تو میں دیر تک سوچ میں گم رہا۔ وطنِ عزیز میں ایسا بے شمار ٹیلنٹ چھپا ہے جو اب تک منظرِ عام پر نہیں آیا۔ ان کے اشعار کے پیچھے چھپی گہری سوچ قارئین کے ساتھ شیئر کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔
یوں بھی آزمائش کا یہ انداز عجب لگتا ہے
یقین چھین کے پوچھتا ہے، یقین کتنا ہے
زندگی کی راہوں پر یہ سوال ہر موڑ پر ساتھ چلتا ہے۔ فرد ہو یا معاشرہ، ریاست ہو یا عالمی نظام یقین ہمیشہ کسی نہ کسی کٹھن مرحلے سے گزرتا ہے۔ ہر بڑی تاریخی تبدیلی کے پیچھے وہ لمحہ چھپا ہوتا ہے جب یقین کا چراغ بجھنے کو تھا مگر پھر بھی روشن رہا۔ سیاست میں عوام کا اپنے نظامِ حکومت پر اعتماد ہی اصل قوت ہے۔ جب حکمران وعدے توڑیں، معیشت کمزور ہو اور انصاف کا توازن ڈگمگائے تو اجتماعی یقین متزلزل ہوتا ہے، لیکن انہی حالات میں کسی نیلسن منڈیلا کا عزم، کسی قائد اعظم کا وژن یا عام شہری کا جمہوریت پر اعتماد معاشروں کو نئی توانائی دیتا ہے۔ سیاسی تحریکیں اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب لوگ یہ مان لیں کہ تبدیلی ممکن ہے، چاہے کتنا ہی امتحان کیوں نہ ہو۔
اندھیروں میں دھکیل کر وہ سکون ماپتا ہے
چراغِ دل کی لو سے پوچھتا ہے، یقین کتنا ہے
یہ منظر صرف فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ سماجی رشتے اعتماد پر قائم رہتے ہیں۔ جب معاشرہ ناانصافی، غربت اور تعصب کے سائے میں ڈھل جائے تو دل کا چراغ جلائے رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر بھی جب کوئی استاد محدود 
وسائل میں بچوں کو علم دیتا ہے یا لوگ قدرتی آفات میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں تو یہی اجتماعی یقین معاشروں کو بقا بخشتا ہے۔
سوال کرتا ہے وہ دعا کی خاموش ساعت میں
کہ سجدے میں گریہ سے ابھرتا یقین کتنا ہے
صوفیانہ نگاہ اس یقین کو اور گہرا کرتی ہے۔ صوفیا نے ہمیشہ کہا کہ یقین محض دلیل یا منطق نہیں بلکہ دل کا تجربہ ہے۔ رومی ہوں یا بایزید بسطامی، سب نے بتایا کہ حقیقی ایمان اسی وقت جنم لیتا ہے جب انسان ہر درد اور سوال کے باوجود اپنے رب کے حضور جھک جائے۔ صوفیانہ تجربہ سکھاتا ہے کہ یقین کی اصل آزمائش وہ لمحہ ہے جب تمام امیدیں ٹوٹ رہی ہوں مگر دل پھر بھی رب سے وابستہ رہے۔
وہ زخم دے کے مرہم کی خبر بھی چھپا لیتا ہے
پھر اشکوں کے دریا سے جانچتا ہے، یقین کتنا ہے
یہ آنسو فرد کے بھی ہیں اور قوموں کے بھی۔ دنیا کی بڑی تحریکیں اسی زخم سے ابھریں۔ غلامی سے آزادی کا سفر، انسانی حقوق کی جدوجہد، ماحولیات کی تحریکیں سب اسی صبر اور ایثار سے کامیاب ہوئیں۔ جو لوگ طعن و تشنیع، ناکامی اور طویل انتظار کے باوجود ڈٹے رہے، ان کے یقین نے تاریخ کا دھارا بدلا۔
بہت کٹھن ہے سفر مگر وہ یہی پرکھتا ہے
کہ گِر کے اٹھنے میں باقی رہتا یقین کتنا ہے
یہی اصول عالمی سطح پر بھی کارفرما ہے۔ اقوامِ عالم کے درمیان امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب باہمی اعتماد موجود ہو۔ پیرس کلائمٹ ایگریمنٹ ہو یا اقوامِ متحدہ کے امن مشن، سب اسی اجتماعی یقین کا ثمر ہیں کہ مشترکہ کوششیں انسانیت کو تباہی سے بچا سکتی ہیں۔ کورونا وبا کے دنوں میں ویکسین کی عالمی ترسیل اور سائنسی تعاون بھی اسی اعتماد کا مظہر تھا۔ اگرچہ سیاست اور مفادات کے کھیل میں یہ یقین بارہا مجروح ہوا، مگر انسانیت ہر بار نئی قوت کے ساتھ ابھری۔
ہزار طوفان میں بھی کشتی کو پار کرتا ہے
وہ دل کے ناخدا سے پوچھتا ہے، یقین کتنا ہے
یہ کشتی محض ایک استعارہ نہیں بلکہ پوری انسانی تاریخ کا خلاصہ ہے۔ ہر طوفان کے بعد بقا اسی کا نصیب ہوئی جس نے دل کے ناخدا پر بھروسہ کیا۔ یہی یقین فرد کو مایوسی سے بچاتا ہے، اور یہی قوموں کو بحرانوں میں سہارا دیتا ہے۔
امید ٹوٹنے پر بھی لب پہ شکر رہتا ہے
یہ صبر دیکھ کے جانتا ہے، یقین کتنا ہے
شکر اور صبر یقین کے دو پہلو ہیں۔ جب سب کچھ چھن جائے اور پھر بھی زبان شکر سے تر رہے تو یہ اس بات کا اعلان ہے کہ دل اب بھی زندہ ہے۔ یہی رویہ معاشروں میں برداشت اور رواداری کو پروان چڑھاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی سادہ زندگی سے دوسروں میں امید جگاتے ہیں اور سماجی ہم آہنگی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
پرویز یہ کرم بھی اسی کی عطا سمجھ لینا
کہ ٹوٹنے کے بعد بھی دل میں رہا، یقین کتنا ہے
آخرکار یہ کلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یقین ایک مسلسل سفر ہے جو ہر شکست کے بعد بھی ہمیں دوبارہ جینے کی قوت دیتا ہے۔ چاہے سیاسی دھچکے ہوں، سماجی بحران، ذاتی غم یا عالمی تنازعات ہر زخم کے بعد جو توانائی ہمیں پھر سے کھڑا کرتی ہے وہی اصل یقین ہے۔ یہ صرف مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ زندگی کا فلسفہ ہے، جو سکھاتا ہے کہ اندھیروں میں بھی روشنی کی امید رکھی جائے اور طوفانوں میں بھی کشتی پار لگائی جائے۔

ٹیگز: