کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہماری زندگیوں میں مسلمانوں کے اتحاد کا اشارہ آسمانوں سے نمودار ہو گا لیکن رب کائنات کے دائرہ قدرت سے باہر تو کچھ بھی نہیں۔ قطر پر اسرائیلی حملے نے مشرق وسطیٰ کی سیاست ہی تبدیل کر کے رکھ دی۔ گائے اور بچھڑے کو پوجنے والوں کے مکروہ عزائم کھل کر اسلامی دنیا کے سامنے آ گئے۔ پاکستان اور سعودیہ کا دفاعی معاہدہ یقینا پاکستان کی تاریخ کا سب سے اہم اور خوبصورت معاہدہ ہے کہ بنیان مرصوص پاکستان کے جغرافیے سے نکل کر دنیا بھر کی مسلمان ریاستوں کو اپنے سایہ دفاع میں لینے کیلئے پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ ہماری بہادر افواج کی ضرورت صرف پاکستان کی سرحدوں کو ہی نہیں دنیا بھر کے مسلم ممالک کو ہے۔ یہ معاہدہ ایک نئے دور کا آغاز ہے جس نے بکھرے ہوئے اتحاد کو ایک مرکز پر لے کر آنا ہے۔ میں نے بہت عرصہ پہلے لکھا تھا کہ روس کا معاشی چہرہ چین اور چین کی عسکری شکل روس ہے۔ طاقت اور سرمائے کے اس اتحاد نے دنیا میں جنگی طاقت کے مراکز کو اگر ابھی تبدیل نہیں کیا تو اُسے اپنی جگہ سے ہلا ضرور دیا ہے۔ چین اور روس کے اتحاد کے بعد ایسا ہی ایک اور طاقتور اتحاد پاکستان اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے کی شکل میں اقوام عالم کے سامنے آیا ہے۔ جس سے دنیا بھر کی شرارتی اورشر پھیلانے والی ریاستوں اور اُن کے بغل بچوں کو دنیا بھر میں تکلیف ہو رہی ہے۔ پاک سعودی دفاعی معاہدے نے ہندوستانی وزیر اعظم کی مقبولیت کے تمام دعووں کو زمیں بوس کر دیا ہے۔ مودی کی موجودہ حکومت اتحادی ہے جو ان شاء اللہ آنے والے الیکشن میں یہ بھی نہیں رہے گی۔ مودی کو بد ترین شکست پاکستان کے ہاتھوں ہو چکی اور اپنی عوام کے ساتھ جھوٹ بولنے کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر اپنی پارلیمنٹ میں بھی ذلیل ہو رہا ہے۔ ریاستوں کی اسمبلیوں میں بھی اُسے آڑ ے ہاتھوں لیے جا رہا ہے۔ چین کے ساتھ بھارت کے تعلقات کی تاریخ پہلے ہی شرمسار سی تھی موجودہ جنگ میں شکست کے بعد تو اُس کے اندر خود جنگ بندی کا اعلان کرنے کا بھی حوصلہ نہیں تھا جس کیلئے وہ امریکی صدر ٹرمپ کی شکل دیکھ رہا تھا۔ کشمیر کو
بھارتی آئین میں تبدیلی کر کے ریاست ہندوستان میں شامل کر کے جس ذلت کا سامنا کرنا پڑا وہ ایک الگ داستان ہے لیکن اس میں ہمارے اُس وقت کے وزیر اعظم مسٹر عمران نیازی نے بھی کم ذلت نہیں کمائی لیکن آج کشمیر کے ایشو کو دنیا مان رہی ہے۔ فلسطین پر ہمارے موقف کو آج دنیا نے تسلیم کر لیا ہے اور دنیا کی مہذب ریاستیں فلسطینیوں کے الگ وطن کو تسلیم کرنا شروع ہو چکی ہیں یقینا یہ بھی حکومت پاکستان اور ہماری بہادر افواج کے مرہون منت ہے اور شکست ہر اُس ریاست اور سیاسی جماعت کی ہے جس کا موقف ریاست پاکستان کے برعکس تھا۔ افواج پاکستان نے بھارتی رافیل ہی نہیں گرائے بلکہ مودی سرکار کے اقتدار کا سورج بھی زمین پر اتار کر دہلی کے لال قلعہ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ دوست لوگ بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان کے ہاتھ نہ ملانے کی واردات کو جنگی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں حالانکہ اُس واقعہ کا جنگ سے نہیں سعودی معاہدے سے تعلق ہے کہ سعودیہ کو فوری طور پر پاکستان دشمنی کا پیغام دینے کا یہ سب سے آسان طریقہ تھا۔ پاک سعودی دفاعی معاہدہ جہاں اسرائیل، بھارت اور امریکہ کیلئے تکلیف دہ ہے وہیں یہ تکالیف پاکستان تحریک انصاف کو بھی ہیں۔ وہ سب کچھ جو مودی نے کھویا ہے وہی سب کچھ پی ٹی آئی کے ہاتھ سے بھی نکل گیا ہے۔ سعودی فرمانروا نے جو سلوک عمران نیازی کے ساتھ کیا تھا وہ دنیا سے چھپا ہوا نہیں لیکن آج سعودی حکمران پاکستان کے ساتھ بھائیوں جیسے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چین جس کے سی پیک کا منصوبہ عمران نیازی نے، اپنے دور اقتدار میں ایک دن نہیں چلنے دیا وہ چین آج پاکستان کے گُن گا رہا ہے۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں پی ٹی آئی کے بچے کھچے دہشتگرد موجود ہیں اُن کا اہداف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم پاکستان ہیں اور یہی دو شخصیات اسرائیل اور بھارت کی آنکھ کا کانٹا ہیں۔ ہمارے کچھ سیاسی تجزیہ کار بھی بڑے کمال ہیں، سیاسی تجزیہ پیش کرتے ہوئے یوں بات کرتے ہیں کہ اُن کا کہا آخری سچ ہے اور وزیر اعظم پاکستان اور میاں نواز شریف کو اسی بدتہذیبی سے مخاطب کرتے ہیں کہ اُن پر بازاری ہونے کا یقین ایمان کی صورت اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔ حالانکہ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے کل تک عمران نیازی کو گلبرگ کے ایک گھر میں سکندر اعظم بنا کر اُس کی تربیت کی اور اُسے مولا جٹ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اُنہوں نے اپنا سارا غصہ اُس کے اندر اُنڈیل دیا اور اُس بے چارے کو بھی کہیں کا نہیں رہنے دیا۔ خدا گواہ ہے یہ لوگ اُسے تقاریر کے ساتھ چہرے کے تاثرات بھی سمجھاتے رہے ہیں۔ جس ٹرمپ کے پی ٹی آئی ترانے گاتی تھی آج اُسے سائوتھ ایشیا میں کہیں کوئی اڈا دینے کیلئے تیار نہیں اور چین کے سر پر بیٹھنے کیلئے اُس نے بگرام ائر بیس کو ہر صورت میں واپس لینے کا عندیہ دے دیا ہے۔ اب یہ ڈرامہ بھی نیا لگے گا، عمران نیازی کی غیر اعلانیہ فوج یعنی طالبان، جلد ہی بھکاریوں کی طرح پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہو گی اور جن مہاجرین کو ہم نے ابھی رخصت کیا ہے وہ واپسی کا ارادہ کر رہے ہوں گے۔ لندن میں پی ٹی آئی کے ایک لیڈر کی واہیات گفتگو سن کر افسوس ہوا کہ یہ شخص پاکستان میں کیوں نہیںہے؟ کہ اِس کا سدباب کیا جا سکتا۔ اُس کی تمام گفتگو فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی فرمانروا اور پاکستانی وزیر اعظم کے خلاف تھی یقینا یہی بیانیہ بھارت اور اسرائیل کا ہے۔ بھارت، اسرائیل اور پی ٹی آئی کے بیانیوں کی ایک ہی دیگ فیلڈ مارشل نے پکا دی ہے اور اب ان پاکستان مخالف قوتوں کے پاس زہر اگلنے کے علاوہ کچھ باقی نہیں رہ گیا۔ ’’مشن نور‘‘ بارے پی ٹی آئی کی عقل داڑھ کا خیال تھا کہ کسی کو معلوم نہیں پڑے گا کہ یہ ’’جشن نور‘‘ ہے جس کو مرزا غلام احمد قادیانی کے خلیفہ اول حکیم نور الدین کے احترام میں منایا جا رہا ہے لیکن یہ خلائی شٹل فضائوں میں ہی بکھر گئی اور اب اتنی بڑی مہم کی ذمہ داری لینے کیلئے کوئی تیار نہیں کہ یہ کس نے چلائی تھی حالانکہ بی جمالو (علیمہ خان) نے اس پر خود میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم اذانیں دینے والوں کے ساتھ ہی ہوں گے۔‘‘ یہی وقت ہے کہ ہمیں پاکستان کے ساتھ پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا تاکہ ایسی ملک دشمن قوتوں کو ہمیشہ کیلئے دفن کیا جا سکے کہ اچھے دن نہ سہی اُن کی امید تو ہمارے جغرافیے میں داخل ہوئی۔