اولیا ء نے ہمیشہ انسانیت کو فروغ دیا ان کے قلم سے نکلنے والا ایک ایک لفظ سیدھے راستے کی نشاندہی کرتے ہوئے بندے کو بندہ بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے اسی لئے صدیاں گزر جانے کے بعد آج بھی اولیاء کے آستانے رہنمائی میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں کیونکہ اللہ کے بندوں نے دنیا سے نہیں اللہ سے کاروبار کیا حضرت سلطان باہو کی شاعری کو ہی لے لیں اس میں عشق حقیقی کا درس ملتا ہے اور انکے کے میں وزن ہے جیسے وہ کہتے ہیں کہ سپاں دے پتر متر نئیں ہوندے بھاویں جلیاں دودھ پلائیے اور ان کا کہا آج افعانستان پر صاد ہوتا ہے کہ جس کا پڑوسی ہونے کے ناتے ہر طرح سے ساتھ دیا گیا آج وہی ہمیں آنکھیں دکھا رہا ہے بھارت اور افغانستان سمیت بعض ملکوں کی سازشیں پاکستان کے مفادات کو متاثر کرنے کی نیت رکھتی ہیں اور وہ گوادر اور سی پیک کے ذریعے پاکستان کے بین الاقوامی رابطے متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں وہ ناکام ہونگے کیونکہ پاک فوج ،حکومت اور عوام ملکی سالمیت کیلئے ایک پیج پر ہیں بھارت سرحدی علاقوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے افغانستان بھی اسی ڈگر پرہے اور بھارت نواز لابی اور مافیا پاکستان کیخلاف دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے دوحہ میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات کا ایجنڈا بھی یہی تھا کابل پاکستان کیخلاف دہشتگردانہ کارروائیاں روکے لیکن افغانستان نے پاکستان کے اس مطالبے کو کبھی سنجیدہ لیا ہی نہیں اور خوارج آئے روزکارروائیاں کر رہے ہیں جس میں ہمارے جوان ملکی سالمیت کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں پاکستان کیخلاف زہر اگلا جا رہا ہے، خیبرپختونخوا اسی وجہ سے آج دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے افغانستان نے ہمارے خلوص کا خلوص سے جواب نہیں دیا افغانستان میں لڑی جانے والی جنگوں کے پس منظر میں پاکستان کیخلاف بھی درپردہ جنگیں لڑی گئیں جن سے وسیع پیمانے پر تباہی اور بربادی ہوئی جہاں ہمارے عوام اور جوان شہید ہوئے وہاں ملکی تباہی ہو ئی اربوں روپے کی سڑکیں تباہ ہو ئیں لیکن ہمارے خلوص کی کسی نے قدر نہ کی پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کے خلاف ردعمل ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام خاص کر سابقہ قبائلی علاقوں میں رہنے والے افراد کو دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کے دوران کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، افغانستان کے وزیرخارجہ مولوی امیر خان متقی کے دورہ بھار ت کے موقع پر دونوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی جنگ بندی کا مقصد فریقین کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنا اور مذاکرات کے ذریعے ایک مثبت اور دیرپا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنا تھا لیکن اس جنگ بندی میں بھی افغانستان سے حملے ہوتے رہے جس سے نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کابل پاکستان کے ساتھ تنازعات کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان متعدد مرتبہ سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر افغانستان سے آپریٹ ہونے والے دہشتگردوں کو نہ روکا گیا تو دونوں ملکوں کا نقصان ہو گا، ہمارے تمام تر سنجیدہ کوششوں کے باوجود افغان حکومت امن کے قیام میں ہمارا ساتھ دینے سے گریزاں ہے، پاکستان نے افغان حکومت کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی لیکن سنجیدہ جواب نہ ملا اور آج مجبوراً اسلام آباد کو سخت جواب دینا پڑا، وہاں بسنے والے لوگ ہمارے بہن بھائی ہیں، ہم نے ہمیشہ افغان شہریوں کی خلوص نیت کے ساتھ مدد کی، محدود وسائل کے باوجود 40 لاکھ سے زائد افغان شہری دہائیوں سے یہاں رہائش پذیر رہے، اس کے باوجود دہشت گرد وہاں سے آپریٹ ہو رہے ہیں، فتنہ الخوارج کو آج کھلی چھٹی ہے اور وہ پاکستان پر حملے کر رہا ہے، دہشت گردوں نے شہریوں، افواج پاکستان کے جوانوں اور افسران ، پولیس اہلکاروں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو شہید کیا جس کے بعد صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو گیا ہے خوارج بھارت کی شہ پر حملے کر رہے ہیں جبکہ ہم ہمسایہ ملک ہیں، ہمیں قیامت تک ساتھ رہنا ہے، ہماری کوششوں کے باوجود کوئی حل نہیں نکل سکا افغانستان، برطانوی سامراج کے وقت سے ایک اہم مسئلہ رہا ہے، خاص کر برعظیم پاک و ہند اور مرکزی و مغربی ایشیا کے لیے تو اس کی حیثیت کلیدی رہی ہے، جب ایشیا اور افریقہ پر یورپ، خصوصاً برطانیہ کا نوآبادیاتی سامراج مسلط ہوچکا تھا تو یہ افغانستان اور اس کے قرب و جوار کے غیوروجری مسلم پشتون قبائل تھے، جو مشرق کی آزادی اور آبرو کا تحفظ اپنی سرحدوں پر کر رہے تھے،ایک طرف سے برطانیہ اور دوسری طرف سے روس کی جابر شہنشاہتیں مل کر بھی اس چھوٹے سے اور دنیوی و مادی لحاظ سے کمزور و مفلس علاقے پر قابو پانے سے عاجز آچکی تھیں، افغانستان اس وقت ہندستان اور پورے ایشیا و افریقہ کی تحریکاتِ آزادی کے لیے نہ صرف ایک مینارِ اُمید بلکہ مجاہدین آزادی کی سب سے بڑی پناہ گاہ تھا، مغرب کے سامراجیوں کی سازشیں پورے مشرق کے ساتھ افغانستان میں بھی زوروں پر تھیں اور وہاں طرح طرح کے فتنے اُٹھائے جارہے تھے، جن کا واحد نشانہ یہ تھا کہ معاشرے پر دینِ اسلام کی گرفت ڈھیلی کردی جائے، یا مطلقاً و عموماً لوگوں کو مذہب سے بیگانہ کر دیا جائے، اس لیے کہ یورپ کے عیار مدبّرین بہت غوروفکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ یہ دراصل مذہب کی قوت ہے، جو مشرق کی کمزور قوموں کو مغرب کی طاقت کے مقابلے میں مدافعت
و مزاحمت کے لیے، اور حُریت و آزادی کے حصول کے لیے اُکساتی اور آگے بڑھاتی ہے، اقبال مغربی منصوبے کے اس راز کو پاگئے، اقبال کے لفظوں میں یہ ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف گویا یہ ایک ابلیسی سازش تھی چنانچہ ضربِ کلیم کی ایک نظم ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام میں اس سازش کا پول اس فکرانگیز انداز میں کھولا گیا ہے آج وہ والا افغانستان نہیں رہا جو غیور قوم کہلاتا تھا آج کا کابل سازشوں کا گڑھ بن چکا ہے جو ہمسایوں سے بگاڑ رہا صرف اورصرف بھارت کی شہ پر آج وہ اپنے آپ کو ابلیس کی صف میں شامل کر رہا ہے جو تباہی کی طرف جا رہا ہے یہ بھول کر کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے جو اپنے معاملات میں کسی کو بھی دخل اندازی کی کبھی اجازت نہیں دیتا نہ دے گا پاکستان نے افغان امن عمل کی سہولت کاری کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جواب میں ہمیں دکھ ملے اب اگر کابل سرکارنے دوستی کا ہاتھ سنجیدگی سے بڑھایا تو اسلام آباد بھی خلوص دل سے جواب دے گا ورنہ دراندازی کا منہ توڑ جواب دینا پاکستان کو آتا ہے اب گیند افغانستان کی کورٹ میں ہے دیکھتے وہ سپاں دا پتر بنتا ہے یا انسان کا؟۔