Wed, September 16, 2026

مولانا ارشد مدنی کی بھارت میں مسلمانوں کے حالات پر تنقید، حکومت پر سخت اعتراض

مولانا ارشد مدنی کی بھارت میں مسلمانوں کے حالات پر تنقید، حکومت پر سخت اعتراض

نئی دہلی : جمعیت علمائے ہند (الف) کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے صدرالمدرسین، مولانا ارشد مدنی نے بھارت میں مسلمانوں کے حقوق کی پامالی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ایک مسلمان نیویارک یا لندن کا میئر بن سکتا ہے، لیکن بھارت میں مسلمانوں کے لیے ایک یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننا بھی مشکل ہے۔

مولانا مدنی نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو آگے بڑھنے نہیں دینا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مسلمان یونیورسٹی کا وائس چانسلر بن بھی جائے، تو اسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، جیسے اعظم خان کے ساتھ کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "الفلاح یونیورسٹی کا مالک آج بھی جیل میں پڑا ہے اور اس کا کیس ابھی تک ثابت نہیں ہوا، لیکن وہ مسلسل جیل میں ہے۔ یہ کیا عدالتی نظام ہے؟" مولانا مدنی نے آزادی کے 75 سال بعد بھی مسلمانوں کو تعلیم، قیادت اور انتظامی معاملات میں آگے بڑھنے سے روکنے پر گہری ناپسندیدگی ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد مسلمانوں کو معاشی اور سماجی طور پر کمزور کرنا ہے تاکہ ان کا حوصلہ ٹوٹ جائے۔ "حکومت چاہتی ہے کہ مسلمانوں سے ان کی زمین چھین لی جائے اور یہ معاملہ کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔ آج مسلمانوں کا حوصلہ پست کر دیا گیا ہے۔"

ٹیگز: