Wed, September 16, 2026

انڈین آرمی چیف کی دھمکیاں

انڈین آرمی چیف کی دھمکیاں

 انڈین آرمی چیف کی جانب سے پاکستان کو عالمی جغرافیہ سے ہٹانے کی دھمکی پر ردِعمل دیتے ہوئے اتوار کو آئی ایس پی آرکی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کا جغرافیائی خاتمہ یقیناً دو طرفہ ہو گا، کیونکہ ایک جوہری ریاست کو کسی دوسری جوہری ریاست کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی زبان بولنے کے بجائے تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انڈین فوج کے سالانہ سول ملٹری مباحثے سینا سمواد 2026‘ میں اظہارِِ خیال کرتے ہوئے انڈین آرمی چیف سے پوچھا گیا کہ اگر پاکستان نے کچھ ایسا کیا کہ ہمیں دوبارہ آپریشن سندورکرنا پڑا تو ہم پاکستان کو کیسا جواب دیں گے ۔ اس پر انڈین آرمی چیف جنرل اُپندر دویدی نے کہا کہ اگر پاکستان نے دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رکھی اور انڈیا مخالف سرگرمیوں سے باز نہ آیا تو اسے فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا وہ جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔پاکستانی فوج کے ردِعمل میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوا چکا ہے جبکہ یہ ایک اعلانیہ جوہری قوت اور جنوبی ایشیا کے جغرافیہ اور تاریخ کا انمٹ حصہ ہے۔ ہندوستان میں ماضی میں بھی یہ سوچ پائی جاتی تھی ۔ 1987میں بھارت نے پاکستان کی سرحد کے قریب ''آپریشن براس ٹیکس'' کے نام سے تاریخ کی سب سے بڑی فوجی مشقیں کیں۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا۔حالات کی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جنرل ضیاءالحق نے بغیر دعوت کے 1987 میں بھارت کا دورہ کیا اور جے پور میں پاکستان اور بھارت کا کرکٹ میچ دیکھا۔ میچ کے دوران راجیو گاندھی نے انتہائی سرد مہری سے جنرل ضیاءالحق سے ہاتھ ملایا ۔ اسی موقع پر ضیاءالحق نے راجیو گاندھی کے کان میں جھک کر سرگوشی کی اور کہاکہ اگر آپ نے ہماری سرحد کی طرف ایک بھی قدم بڑھایا، تو ہم آپ کا پورا ملک تباہ کر دیں گے لیکن ہم اس تباہی میں خود بھی ختم ہو جائیں گے۔ اس جوہری دھمکی نے راجیو گاندھی کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد دونوں رہنما¶ں کے درمیان براہ راست بات چیت ہوئی، امریکی دبا¶ بھی شامل ہوا اور بالآخر سرحدوں سے فوجیں پیچھے ہٹیں اور جنگ کا خطرہ ٹل گیا ۔ اس واقعے کی تفصیلات راجیو گاندھی کے قریبی ساتھی اور مشیر بہرام مینن (Behramnam) نے اپنے مضامین میں تفصیل سے بیان کی ہیں ۔ 
انڈین آرمی چیف نے پاکستان کے خلاف جو ہرزا سرائی کی ہے در حقیقت یہ ایک زبر دست قسم کا ڈپریشن ہے جو پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر کامیابیوں ، عزت و احترام اور پذیرائی سے صرف انڈین آرمی چیف ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی سیاسی اور عسکری دونوں قیادتیں اسی ڈپریشن کا شکار ہیں اور یہ بیماری اس وقت سے مزید شدت اختیار کر گئی کہ جب فیلڈ مارشل صاحب کی قیادت میں پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص میں انتہائی قلیل وقت چار گھنٹے میں ہندوستان کو شکست فاش دے دی ۔ اس شکست پر ہندوستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ہی ڈپریشن کا شکار نہیں ہوئی بلکہ ایک عام ہندوستانی بھی ڈپریشن کا شکار ہو چکا ہے اس لئے کہ ہندوستان کے پاس بولی ووڈ ایک بہت بڑا تشہیری ہتھیار ہے اور اس نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ کے موضوع پر درجنوں فلمیں بنائی اور ان فلموں کو دیکھ کر صرف ہندوستانی عوام ہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی ایک تاثر تھا کہ ہندوستان ایک زبردست قسم کی فوجی طاقت ہے کہ جس کے سامنے پاکستان کی تو کوئی اہمیت ہی نہیں اور ہندوستان جب چاہے پاکستان کو سبق سکھا سکتا ہے ۔ یہ تاثر اتنا پختہ تھا کہ ہر کسی کو اس پر یقین تھا اور یہی وجہ ہے کہ جب آپریشن بنیان مرصوص میں ہندوستان کو شکست ہوئی تو ہندوستان کے ایک عام آدمی سے لے کر اس کی سیاسی اور عسکری قیادت کی بولتی بند ہو گئی اور یہ سب احساس کمتری کا شکار ہو گئے اور انڈین آرمی چیف اور دیگر کی جانب سے پاکستان کے خلاف ہر کچھ عرصہ بعد اس طرح کی جو ہرزا سرائی کی جاتی ہے تو وہ اسی احساس کمتری کا نتیجہ ہے۔
جہاں تک ہندوستان کے پاکستان پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام ہے تو یہ الزام لگانے والوں کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ یہ الزام تو اس قدرOut of Dateہو چکا ہے کہ اس کی Expiry Dateگذرے بھی ایک طویل عرصہ ہو چکا ہے اور پوری دنیا کو اب اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ در حقیقت پاکستان تو خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس بات میں کوئی شک بھی نہیں اس لئے کہ دنیا میں کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں ہے کہ جس کے 80ہزار بے گناہ شہری دہشت گردی کا شکار ہوئے ہوں اور دہشت گردی کی وجہ سے اس کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہو ۔ اصل بات تو یہ ہے کہ دہشت گردوں اور ہندوستان کا گٹھ جوڑ تو اب پوری دنیا کے سامنے آ چکا ہے کہ اب فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو پناہ اور ہر طرح کی مدد کرنے والوں کے ساتھ ہندوستان کے گہرے روابط پوری دنیا پر آشکار ہو چکے ہیں ۔ دہشت گردی کے الزامات کے بر عکس پاکستان کو پوری دنیا میں انتہائی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس کی ایک بڑی مثال ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کی ثالثی ہے ۔ اس ثالثی میں پاکستان کی بہترین صلاحیتوں کا پوری دنیا برملا اعتراف کر رہی ہے جبکہ ہندوستان پوری دنیا میں تنہائی کا شکار ہو چکا ہے ۔ گذشتہ سال جنگ میں شکست اور یہ تنہائی کا احساس ہی ہندوستان کے باﺅلے پن کی اصل وجوہات ہیں لیکن اگر اس نے کسی قسم کے پاگل پن کی مظاہرہ کیا تو پاکستان کے پاس اسے سبق سکھانے کے علاج موجود ہیں۔

ٹیگز: