Wed, September 16, 2026

امریکہ ایران کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصر کی 'شٹل ڈپلومیسی' تیز؛عالمی خبر رساں ایجنسی  کی رپورٹ میں انکشاف

امریکہ ایران کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصر کی 'شٹل ڈپلومیسی' تیز؛عالمی خبر رساں ایجنسی  کی رپورٹ میں انکشاف

واشنگٹن/تہران: عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور مصر نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو روکنے کے لیے ایک مشترکہ اور فعال سفارتی مشن کا آغاز کر دیا ہے۔ ان تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل کے لیے ایک اہم "بیک چینل" کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق، گزشتہ دو روز کے دوران پاکستان، مصر اور ترکیہ کے سینئر سفارت کاروں نے درج ذیل اہم شخصیات سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔    سٹیو وٹکوف جو امریکی خصوصی نمائندے ہیں ان تک موقف پہنچایا گیا۔    عباس عراقچی جو  ایرانی وزیر خارجہ ہیں ان  کے ساتھ تہران کے تحفظات پر بات چیت ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سہ فریقی سفارت کاری کا مقصد محض پیغامات پہنچانا نہیں بلکہ صورتحال کو "پوائنٹ آف نو ریٹرن" (جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو) سے بچانا ہے۔دونوں فریقین کو براہ راست عسکری تصادم سے دور رکھنا۔ ایک دوسرے کے ارادوں کے بارے میں درست معلومات کی فراہمی۔مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی اور تباہ کن جنگ کے خطرے سے نکالنا۔
سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور مصر کا بیک وقت متحرک ہونا اس بات کی علامت ہے کہ عالمی برادری مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو انتہائی سنگین سمجھ رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق، ان ممالک کے دونوں فریقین کے ساتھ متوازن تعلقات ہی اس وقت امن کی آخری امید بنے ہوئے ہیں۔

ٹیگز: