کابل/دوشنبہ : افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت نے ایک نئی اور خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران طالبان کے خلاف عسکری کارروائیوں میں غیر معمولی تیزی آئی ہے، جس نے کابل کے حکمرانوں کے "امن و امان" کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔
این آر ایف نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران افغانستان کے مختلف صوبوں میں 401 ٹارگٹڈ آپریشنز کیے۔ ان گوریلا حملوں اور مسلح جھڑپوں میں 651 طالبان ہلاک جبکہ 579 زخمی ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مزاحمتی کارروائیاں اب صرف پنجشیر تک محدود نہیں رہیں بلکہ شمالی اور وسطی افغانستان کے دیگر علاقوں میں بھی طالبان کی چیک پوسٹوں اور قافلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود نے طالبان کی حکمرانی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے افغان عوام کے حقوق غصب کر رکھے ہیں اور وہ اب داخلی و عالمی سطح پر اپنی قانونی حیثیت (Legitimacy) مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔ جب تک ایک عوامی اور شمولیتی حکومت قائم نہیں ہوتی، ہماری جدوجہد رکنے والی نہیں ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ این آر ایف کے ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کو اندرونی طور پر سخت ترین چیلنج کا سامنا ہے۔ احمد مسعود کا سخت موقف اور حملوں میں تیزی اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ افغانستان ایک بار پھر طویل مدتی عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔