تہران / تل ابیب :مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا نقشہ تبدیل، ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کر دی۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کی 74 ویں لہر نے تل ابیب اور امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے در و دیوار ہلا کر رکھ دیے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کے سامنے بے بس نظر آیا۔ تل ابیب سمیت کئی بڑے شہروں میں درجنوں میزائل اپنے اہداف پر گرے، جس سے گھروں کو شدید نقصان پہنچا اور سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ پورے اسرائیل میں سائرن کی آوازیں گونج رہی ہیں اور شہری پناہ گاہوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس آپریشن میں اپنے مہلک ترین ہتھیاروں کا استعمال کیا، جن میں درج ذیل شامل ہیں۔ خودکش ڈرونز کے ذریعے اسرائیلی ایوی ایشن انڈسٹری کو نشانہ بنایا گیا، جس کی ویڈیو فوٹیج بھی جاری کر دی گئی ہے۔
ایران نے ایک اور بڑی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں ایک امریکی F-15 لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔ ایرانی میڈیا نے طیارے کو نشانہ بنانے اور اس کے ملبے کی فوٹیج نشر کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں امریکی مداخلت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔