اس میں دو رائے نہیں ہے کہ پاکستان امت مسلمہ کا اہم رکن اور حربی صلاحیتوں کی بدولت سرخیل ملک ہے۔ ریاست پاکستان نے اپنی دور اندیشی اور قائدانہ کردار ادا کر کے ہمیشہ امت مسلمہ کو یکجا کیا اور باہمی مسائل کو حل کرایا۔ پاکستان عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک میں کم وسائل ہونے کی وجہ سے بظاہر معاشی طور پر کمزور ضرور ہے تاہم دنیا میں ساتویں اعلانیہ اور تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے ممتاز اور فیصلہ کن ریاست کے طور پر مانا جاتا ہے۔ امت مسلمہ کے ممالک کی بات کی جائے تو بے شمار معاشی وسائل کے باوجود ان ریاستوں کی بنیادیں کمزور اور یہ ایک آسان ہدف ہیں۔ اس کی مثال مصر ، عراق ، شام ، کویت ، اردن ، لیبیا اور کسی حد تک ایران بھی ہے کہ دشمن جب چاہے حملہ کر دے، رجیم چینج کر دے اور اپنی من پسند حکومت لے آئے مگر پاکستان بارے یہ سب کچھ کرنے کی خواہشات کے باوجود دشمن کے دانت کھٹے اور بلی کا خواب چھچھڑے کے مصداق یہ نا ممکن ہے۔ الحمدللہ پاکستان اپنی منتظم اور ناقابلِ تسخیر مسلح افواج اور ایٹمی قوت ہونے کی وجہ سے دشمن کیلیئے ایک ڈراو¿نا خواب ہے۔ امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ کے اثرات جہاں ساری دنیا کو معاشی طور پر اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں وہیں پاکستان میں کچھ عاقبت نااندیش دشمن کے آلہ کار مذہبی کارڈ کے ذریعے فساد، تفریق اور انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ مودیے، یہودیے اور یوتھیے اس کوشش میں مگن ہیں کہ شیعہ سنی فسادات اور قوم کو تقسیم کر کے وہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔ اور یوں یہ ملک کے اندرونی دشمن بیرونی آقاو¿ں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس سٹاف سید عاصم منیر کی شیعہ علما کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو اپنے الفاظ اور سازشی تھیوری کا رنگ دے کر ملک میں مذہبی منافرت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
اس ملاقات بارے ابھی تک ما سوائے آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے کوئی مصدقہ اور حتمی بات سامنے نہیں آ سکی۔ جو گفتگو ہوئی وہ بہت واضح اور قابلِ فہم ہے۔ اگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب نے یہ کہا ہے کہ پاکستان سب سے پہلے ہے۔ ہمارا اپنا ملک ہے ہم آزاد اور خود مختیار ہیں۔ اگر ایران میں جنگ ہے تو ہم نے کھل کر اس کی مذمت کی ہے۔ تو اس میں قباحت آخر کیا ہے۔ ایک لمحے کے لیے تصور کر لیتے ہیں فیلڈ مارشل نے یہ کہا ہے کہ ایران کی جنگ کو پاکستان میں نہ لائیں ، امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھیں ، آیت اللہ خامنہ ائی صاحب کی شہادت پر جو کچھ کراچی میں ہوا وہ غلط تھا متشدد اور انتہا پسند رویہ قابلِ قبول نہیں ہے، اس شہادت کو سامنے رکھ کر گلگت بلتستان میں جو ظالمانہ احتجاج کیا گیا یہاں تک کہ ہمارے فوجیوں کو زندہ جلا دیا گیا یہ کہاں کا انصاف ہے۔ اگر میٹنگ میں یہ بات کہی گئی ہے تو اس میں غلط کیا ہے۔ اگر یہ بات ہوئی ہے کہ پاکستان کے آئین وقانون کو مدنظر رکھا جائے ، ایران کی جنگ میں پاکستان کو نہ گھسیٹیں اور نہ اس قسم کا احتجاج قبول ہے جس میں انسانی جانوں سمیت ملکی املاک کو نقصان پہنچایا جائے تو بھائی غلط کیا ہے۔ پاکستان نے دنیا کے سب سے بڑے فورم پر ایران پر مسلط جنگ کے خلاف ووٹ کیا ہے۔ خود ایران کی عوام اور حکومت بارہا تشکر پاکستان کہہ چکی ان کی اسمبلی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے ، ایرانی وزیر دفاع نے اردو زبان میں ٹویٹ کر کے پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کیا کرے ؟
اس سب کے باوجود کچھ شیعہ علما اگر پاکستان میں نفرت کا بیج بونا چاہتے ہیں تو ان کو پھر یقینا سوچنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے وفادار ہیں ؟
کیا وہ پاکستان کے شہری ہیں یا ایران کے شہری ہیں اگر یہ کہا گیا یے کہ وہ ایران چلے جائیں جو پاکستان کے وفا دار نہیں ہیں تو یہ بالکل درست اور واضح دو ٹوک بات ہے۔ اس بات پر ساری قوم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کے ساتھ کھڑی ہے اور ساری قسم یک زبان ہوکر اس بات کو آگے بڑھائے گی۔ میں بحیثیت صحافی ان شر پسند شیعہ اور یوتھیوں سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں کہ جب پاک بھارت جنگ ہوئی اس وقت ایران کے عوام نے احتجاج کیا؟ ایران میں موجود بھارتی سفارت خانے یا سفارتی عملے پر حملہ کیا ؟ ایران میں عوام نے بھارتی سفارت خانے کو جلایا ، ایرانی عوام نے اپنی املاک کو نذرِ آتش کیا ؟ ایرانی حکومت نے بھارت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کئے؟
جواب نہیں ہوگا یقینا نہیں تو پھر پاکستان میں موجود شیعہ کے لبادے میں چھپے ہوئے مٹھی بھر شر پسند عناصر کو بھی یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ پاکستان میں یہ سب کچھ کرے۔ اگر ان کے پیٹ میں ایران کی محبت کے مروڑ صرف اس لیے اٹھ رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں انتشار پیدا کریں ، پاکستان کا امن برباد کریں اور نفاق پیدا کر کے قوم کو تقسیم کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کریں تو پھر ان غداروں کو ایران چلے جانا چاہئے۔ اس بات پر ہم اپنے فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس اسٹاف سید عاصم منیر کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پی ٹی آئی کے چند بھگوڑے غدار وطن عمران ریاض، شاہین صہبائی ، عادل راجا ، مہدی اور آفتاب اقبال جیسے وطن فروش اس وقت اس بات کو غلط رنگ دیکر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے خلاف سوشل میڈیا تحریک چلا رہے ہیں اور یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ فیلڈ مارشل صاحب کے خلاف ان کی گندی زبانیں غلاظت اگل رہی ہیں یہ ان کا وتیرہ ہے اور یہ ہر وقت سید عاصم منیر کے خلاف اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے سادہ لوح عوام کو گمراہ کرتے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی ، یہود اور مودی ایک پیج پر ہیں ان کا مقصد ملک توڑنا ہے ،مسلح افواج کا نظم و ضبط برباد کرنا ہے فوج کا آرڈر توڑنا ہے تاکہ ملک کمزور ہو اور ان غداروں کو راستہ مل سکے۔ ہی ٹی آئی کی جانب سے 9مئی کی واردات اسی لیے ڈالی گئی تھی اور اس کی ناکامی کے بعد یہ انتشاری ٹولہ جو طالبان کا سیاسی چہرہ ہے یہ ہر وقت اس کوشش میں ہے کہ پاکستان ٹوٹے ، پاکستان کا امن و استحکام برباد ہو اور یہ اپنے دیوتا جو اقتدار میں لائیں۔ ہم ملک دشمن جو کسی بھی روپ میں ہو خواہ وہ تحریک انصاف اور ٹی ٹی پی کی شکل میں اندرونی ہو یا مودی اور نیتن یاہو کی شکل میں بیرونی کو اسے پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستانی قوم اپنے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ ہیں اور ان کی کہی گئی ہر بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔ اگر یوتھیوں اور شر پسند شیعہ علما کو پاکستان کی رٹ قائم کرنے پر اعتراض ہے وہ پاکستان کے قانون کو نہیں مانتے تو بسمہ اللہ کل کی بجائے آج ایران اور بھارت چلے جائیں مگر ان کو کسی طور یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ ریاست پاکستان کا امن و امان تباہی کریں یہاں نفرت اور نفاق پیدا کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت ایک قدم آگے بڑھ کر اس کلٹ اور غداران وطن کے خلاف حتمی اور فیصلہ کن کارروائی کرے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد