Wed, September 16, 2026

ہارڈسٹیٹ

ہارڈسٹیٹ

یہ بھی مارچ کا مہینہ تھا۔تاریخ تھی گیارہ اور سال تھا2008جب لاہور میں ایف آئی اے کے مرکزی دفتر کی عمارت میں بارود سے بھری ایک گاڑی ٹکرادی گئی ۔اس دھماکے میں چھبیس شہری شہید ،ڈیڑھ سوکے قریب زخمی ہوئے۔عمارت کا بیرونی حصہ ملبے کا ڈھیربن گیا ۔پہلی بار لاہورمیں اس قدر تباہ کن دھماکا سب کے لیے پریشان کن تھا۔میں اس وقت لاہورمیں وقت ٹی وی کے نیوزروم کا انچارج تھا۔ہمارا دفتر جائے دھماکا سے قریب ہونے کی وجہ سے ٹیم سب سے پہلے موقع پرپہنچ کر کوریج میں مصروف تھی۔مجھے کچھ دیر بعد آفس کے لیے نکلنا تھا لیکن آغا اقرار صاحب جو چیف کنٹرولرنیوزتھے ان کی کال آئی کہ آپ جلدی آفس آجائیں ۔ میں گھر سے آفس کے لیے نکل ہی رہا تھا کہ لاہور کے ماڈل ٹاؤن کے ای بلاک جو ایک رہائشی علاقہ ہے اس کے ایک گھر میں بھی دھماکا ہوگیا۔ایف آئی اے دھماکے کی کوریج سے خبروں کا رخ ماڈل ٹاؤن کی طرف ہوگیا۔میں دفتر جانے کی بجائے سیدھا ماڈل ٹاؤن پہنچ گیا ۔وہاں سے ٹی وی کے لیے رپورٹنگ کا فرض ادا کیا اور پھر آفس کا رخ کیا۔
لاہور میں ایک ہی دن میں دو دھماکے تشویش کی خبر تھی ۔ یہ وہ دور تھا جب پورا پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا۔میں ان دنوں ڈائری لکھا کرتا تھا۔آج وہ ڈائری کھول کر بیٹھا ہوں توہر صفحے پر تاریخ کے ساتھ ہونے والے دھماکے، اس میں جانی اور مالی نقصان کی تفصیل درج ہے۔میں نے دوہزار سات اور آٹھ کی اپنی ہی لکھی ڈائری کا ایک ایک صفحہ کھنگال مارا کہ شاید کوئی ایسا صفحہ مل جائے جس پر کسی دھماکے کا اندراج نہ ہو لیکن میں ایسا کوئی صفحہ ڈھونڈنے میں ناکام رہا۔ ہم سب کو اچھی طرح یاد ہے کہ یہ سال پاکستان پر دہشتگردی کے اعتبار سے کچھ قدر مشکل اور بھاری تھے کہ پاکستا ن کی کوئی جگہ بھی دہشتگردوں کی پہنچ سے باہر نہیں تھی۔ہمارے بازار ،مساجد مندراور گرجاگھر کچھ بھی تو محفوظ نہیں تھا۔آج سترہ سال بعد میں پیچھے مڑکر دیکھتا ہوں تو پاکستان 2008سے بہت بہتر ہے بلکہ درمیان میں 2016-17میں تو بہت ہی بہتر اور پرامن ہوگیا تھا۔
اُس وقت باتیں عام تھیں کہ کسی دن مارگلہ کی پہاڑیوں سے دہشتگرد نیچے اتریںگے اور اسلام آباد پر قبضہ کرلیں گے۔ یہی وہ وقت تھا جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ایک دن سوات پر پاکستان کا پرچم فخر سے لہرائیں گی لیکن وہ خود اسی دہشتگردی کا شکار ہوگئیں ۔ ان کی شہادت کے بعد دہشت گردی کے اس ناسور سے جان چھڑانے کے لیے پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف کئی ایک آپریشن کیے۔دہشگردوں کو مارنے کا سلسلہ سوات سے ہی شروع کیا اور پھر آپریشن راہ نجات ، راہ راست پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت میں کیے گئے تو پاکستان امن کی طرف لوٹنے لگا۔ انسداد دہشتگردی کی پالیسی کو نواز شریف نے آگے بڑھایا اے پی ایس سانحہ کے بعد آپریشن ضرب عضب نے دہشتگردی کی کمرتوڑدی۔اس کے بعد آپریشن ردالفساد اور نیشنل ایکشن پلان کی بدولت ہم اس قابل ہوئے کہ ہمارے گلی محلے دہشتگردی کے ناسور سے پاک ہوگئے ۔امن کے آجانے کے بعد اس کو تادیر قائم رکھنے کے لیے بھی بہت سے تقاضے ہوتے ہیں جن کو پورا کرنے میں شاید ہم سے کوئی چوک ہوگئی یا پھر بطور قوم ہم اس رحم اور ہمدردی کے جذبات میں ڈوب جاتے ہیں کہ کوئی بات نہیں یہ بھی اپنے ہی لوگ ہیں ۔یہ ناراض ہیں۔ ان سے بات چیت سے مسئلہ حل ہوجائے گا ۔تاریخ گواہ ہے جب جب اور جس جس جگہ پر بھی یہ جذبات غالب آئے دہشتگردوں نے پلٹ کر وار کیا ۔انہوں نے اس امن فارمولے کا ہمیشہ فائدہ اٹھایا۔آپ پاکستان کی تاریخ ہی دیکھ لیں ۔ جب کورکمانڈر پشاور نیک محمد کے گلے میں ہار ڈال رہے تھے اس وقت بھی ٹی ٹی پی کے دہشتگرد ہمارے جوانوں کے گلے کاٹ رہے تھے ۔حکیم اللہ محسود ہوں یا بیت اللہ محسود۔ صوفی محمد ہوں یا بعد ازافغان جنگ حالیہ ٹی ٹی پی ہو ان سب کے ساتھ پاکستان نے مذاکرات کیے۔ ان کے ساتھ امن معاہدے کیے لیکن ہمیشہ معاہدے کی خلاف ورزی انہی دہشتگردوں کی جانب سے ہوئی اور ریاست نے اپنے فوجی جوانوں کی شہادتوں کے نقصان کے بعد پھر آخر میں آپریشن کا ہی فیصلہ کیا۔
میرے خیال میں پاکستان سافٹ اور ہارڈ ریاست کے مخمصے اور کنفیوژن میں مبتلا ہونے کی وجہ سے نہ اس دہشت گردی سے جان چھڑاپایا ہے اور نہ ہی یہ دہشتگرد جو امن معاہدوں کے نام پر وقت حاصل کرتے ہیں وہ ہی راہ راست پر آنے پر تیار ہوئے۔ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ دہشتگرد کی ایک نفسیات ہوتی ہے ۔ اس کو بندوق کے گھوڑے سے کھیلنے کی عادت ہوجاتی ہے ۔یہ اصطلاح ’’ٹرگر ہیپی‘‘ یا ’’ٹرگر فرینڈلی‘‘ کہلاتی ہے ۔ان لوگوں کو آپ لاکھ رعایت دے دیں ان کی جان بخشی کردیں یہ جب بھی اصل کی طرف آئیں گے دوبارہ بندوق سے عشق لڑانا شروع کردیں گے اور نتیجہ پھر وہی دہشتگردی۔آج بھی پاکستان میں بہت سے دانشور ایسے ہیں جو ان دہشتگردوں کے عشق میں مبتلاہیں ۔ وہ اس بات کی ایک بار پھر تبلیغ کررہے ہیں کہ یہ ناراض ہیں ان سے بات کریں ان کے خلاف آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ایسے لوگ امید بانٹنے کی بجائے مایوسی پھیلاتے ہیں جس کا شاید ایسے عناصر کو تو وقتی فائدہ درہم ودینار کی صورت میں مل جائے لیکن اس ملک کا فائدہ نہیں ہمیشہ نقصان ہی ہوا ہے۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے حالیہ دہشتگردی کا سرکچلنے کے لیے یہ کہا ہے کہ پاکستان کو ایک ’’ہارڈ سٹیٹ‘‘ بننا پڑے گا۔ اس پر بھی کچھ دانشور اپنی دانشوری جھاڑ رہے ہیں لیکن دنیا کی تاریخ ہمارے سامنے ہے ۔امریکا پر نائن الیون کا ایک حملہ ہوا تو پوری دنیا نے دیکھا کہ امریکا کس طرح’’ ہارڈ ریاست‘‘ بنا اور اپنے ملک کے امن کے لیے دنیا کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور پھر ہم نے دیکھا کہ پچیس سال گزر گئے لیکن پھر کبھی امریکا پر ایسے حملے کی ہمت کسی دہشتگرد گروپ کونہیں ہوئی ۔ ہمارے ہمسائے نے نکسل واد کیخلاف ہارڈ سٹیٹ کی پالیسی اپنائی دوہزار پندرہ میں دس سال کے اندر ہندوستا ن سے نکسل واد ختم کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کی اور آج دس سال بعد ہندوستان میں نکسل واد میں کا فی حد تک کمی آگئی ہے ۔ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ نہ حکومتوں کا تسلسل ممکن ہوتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں نہ ہی کسی پالیسی کا تسلسل دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ایک حکومت آپریشن سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش میں لگی ہوتی ہے تو دوسری حکومت کہتی ہے کہ غلامی کی زنجیریں ٹوٹ چکی ہیں اس لیے ہم ان کو واپس لاکر اپنے ملک میں بسائیں گے ۔پھر نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج ہم بھگت رہے ہیں۔ بلوچستان کے ’’سرمچار‘‘الگ متحرک ہوئے بیٹھے ہیں ۔ریاست ہارڈ بنے یا سافٹ لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم اس دہشتگردی کو شکست دیں گے۔اگر یہ ملک اور ریاست بچانی ہے تو ایک ہی فارمولہ ہے کہ ڈیجیٹل محاذ پر ریاست کے خلاف جنگ لڑنے والوں کولازمی سیزفائر کرنا پڑے گا ۔اس وقت سب سے پہلے گھرمیں لگی آگ کو بجھانا ضروری ہے۔اپنے جھگڑے بعد میں نمٹالیں گے ۔اگر ملک نہ رہا تو پھر شام اور لیبیا کے حالات پڑھ لیجئے تسلی ہوجائے گی۔

ٹیگز: