Wed, September 16, 2026

کیا حسینؓ صرف کربلا میں شہید ہوئے؟

کیا حسینؓ صرف کربلا میں شہید ہوئے؟

کتنا عجیب سوال ہے کہ کیا امام حسین ابن فاطمہؓ صرف کربلا میں شہید ہوئے؟ یا کربلا میں صرف شریعت کے بانی سرکار دو عالم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کے مفتیوں کی طرف سے دئیے گئے قتل حسینؓ کے فتووں پر عمل کرتے ہوئے، صرف فرزند رسول اللہ کا سر تن سے جدا کر کے نیزوں پر بلند کیا گیا اور خانوادہ رسالت کے پھولوں کو گھوڑوں کے سموں سے کچل کر کربلا کی ریت کو رنگین کیا گیا۔
 حسین ابن فاطمہؓ دوش نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر دیکھے گئے اور ان صحابہؓ کی طرف سے سراہے بھی گئے جو بعد از رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جید بنے، تب حسین ابن فاطمہؓ کا تذکرہ مورخ کی مجبوری تھا۔ حسین ابن فاطمہؓ، صاحب شریعت کے سجدے کے دوران پشت رسالت پر سوار ہوئے تو ہادیبرحق صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حسینؓ کو پشت سے اتارنے کی بجائے سجدہ کو طوالت بخش کر رسالت کی اقتدا میں نماز پڑھنے والوں کو بتا دیا کہ حسینؓ کون ہیں۔ اس واقعہ کو ان صحابہ کرامؓ نے روایت کیا جو بعد میں ظلم کے سامنے خاموش رہنے کو کمزور ترین ایمان قرار دیتے رہے اور بعد میں علیؓ کی بیعت نہیں کی مگر یزید کی بیعت کر لی۔ حسین ابن فاطمہؓ آیت مباہلہ میں رسول برحق کے ساتھ گئے تو تاریخ کی مجبوری تھی کہ وہ اس واقعہ کا تذکرہ فرمائے۔
 حسین ابن فاطمہؓ کے فضائل اور مراتب تب تک قدم قدم پر بیان ہوتے رہے جب تک ان کے نانا دنیا میں موجود رہے مگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دنیا سے جانے کے بعد حدیث کے راوی بھی حسین ابن فاطمہؓ سے منہ موڑ گئے۔ حسین ابن فاطمہؓ نے جب صحابہ کرامؓ اور ان کی اولادوں کو یزید کی بیعت نہ کرنے کے حوالے سے خط لکھے تو خط کے آخر میں والسلام کے بعد اپنے نام کے ساتھ حسین ابن علیؓ کی بجائے حسین ابن فاطمہؓ لکھنا شروع کیا تو بھی حسینؓ شہید ہو گئے۔ حسین ابن فاطمہؓ نے جب اپنا حج چھوڑا اور مکہ کو الوداع کہا اور باقی مسلمان اور صحابہ کرامؓ حج پڑھتے رہ گئے تو بھی ان کی شہادت ہو گئی تھی۔ جب حسین ابن فاطمہؓ اپنے بھائیوں، بہنوں اور بچوں کو لے کر مکہ سے روانہ ہوئے تو حسینؓ کو دوش رسالت پر دیکھنے والے، قدم قدم پر ہاتھ چومنے والے عاشقان رسول یزید کے خوف سے چپ رہے اور اسے وقت کا تقاضا کہہ کر خود کو تسلی دیتے رہے تو وہ بھی لمحہ شہادت تھا۔
 پھر حسین ابن فاطمہؓ نے جب اپنے نانا پاک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ دوستوں کو بلوایا کہ آو¿ جنت لے لو پھر نہ کہنا کہ بتایا نہیں تھا اور کچھ کے لئے جنت کی نوید دے کر چراغ بجھوایا اور چلے جانے کو کہا تو بھی حسینؓ شہید ہو گئے تھے، کیونکہ ان کا آخری خطبہ اس بات کی دلیل تھا کہ وہ سب جانتے تھے۔۔۔۔ پھر جب مفتیوں کے فتووں کے عین مطابق جنت کے حصول کے لئے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چومے ہوئے گلے کو کاٹا گیا اور نوک نیزہ پر تلاوت جاری ہوئی تو حسین ابن علیؓ پھر سے مورخین کی مجبوری بن گئے کیونکہ کٹے ہوئے سروں کا کلام کرنا مکہ اور مدینہ کے بدوں کے لئے دائمی شکست کا سبب بن گیا۔ پھر علی اصغرؓ کی معصوم مسکراہٹ حسین ابن علیؓ کے لئے ناقابل شکست گواہی بن گئی اور مورخین کے بزدل قلم باغی قرار دئیے ہوئے سردار جنت حسینؓ کو نمازی لکھنے پر مجبور ہوئے۔
 پھر بار بار شہید ہوتے ہوئے حسین ابن علیؓ کو دربار یزید میں خطبات دے کر ثانی¿ زہرا نے ایسا امر کر دیا کہ دشمنوں اور دشمنوں کے دوستوں کو آج تک منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملتی۔ علیؓ کے بیٹوں نے علیؓ کے بھائی اور آقا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دین بچا لیا تو ظلم کے سامنے چپ رہنا کمزور ترین ایمان کا عقیدہ رکھنے والوں کو سمجھ آئی کہ اسلام کا تحفظ قربانی مانگتا تھا اور ایسی قربانی صرف محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بچے ہی دے سکتے تھے۔ حسین ابن علیؓ آج تک بہادری، ہمت و حوصلے اور ڈٹ جانے کی علامت بن گئے۔ یہ اعزاز بھی خانوادہ ابوطالب کے حصے میں آیا۔

ٹیگز: