Wed, September 16, 2026

قربانی اور کرتب

قربانی اور کرتب

مداری مر گیاکہ سب مرنے کیلئے ہی ہوتے ہیں لیکن یہ خبر شہر میں ایسے پھیلی جیسے کسی پرانے درخت سے ایک سوکھی شاخ ٹوٹ کر گری ہو۔ چند لمحے گرد اڑی، دو چار لوگوں نے چونک کر دیکھااورپھر ہر شخص اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔کسی نے کہا، ”رسی ٹوٹ گئی تھی۔“ایک اور بولا، ”نہیں، پائوں پھسل گیا تھا۔“
شہر کے مغرب میں کھڑے خاکی برگد نے اپنی سوکھی شاخوں کو ہلکی سی جنبش دی کہ اس کی جڑیں مٹی سے زیادہ تاریخ میں پیوست تھیں۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا:”رسی کبھی کسی کو نہیں گراتی بلکہ انسان پہلے اپنے ضمیرکی آنکھوںمیںگرتا ہے مگر برگد کی آواز ہمیشہ کی طرح ہوا نگل گئی۔شام ہوتے ہی اسی چوک میں کبھی ڈگڈگی بجا کرتی تھی۔مداری رسی پر چڑھتا تو مجمع سانس روک لیتاوہ عجیب آدمی تھاکہ رسی پر چلتے چلتے لباس بدل لیتا۔چند قدم بعد لہجہ اور تھوڑی دور جا کر نظریہ بدل لیتایہاں تک کہ رسی کے دوسرے کنارے تک پہنچتے پہنچتے اس کا چہرہ بھی بدل جاتااورمجمع تھا کہ تالیاں پیٹتا رہتا تھا۔کسی نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ اصل چہرہ کون سا ہے ویسے تو تماشے میں اصل چہرے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔وہ ہر شہر میں یہی کہتا:”میں تم میں سے ہوں۔“ہر دربار میں صدا لگاتا :”میں ہمیشہ سے آپ کے ساتھ تھا۔“ہر بازار میں اعلان کرتا:”آزادی سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔“اور جب آزادی بیچنے کا وقت آتا تو سب سے پہلے وہی قیمت لگاتااورلوگ ہنستے، خوش ہوتے، سکے اچھالتے اور اگلے کرتب کا انتظار کرتے۔مداری جان چکا تھا کہ ہجوم حافظہ نہیں رکھتاکیونکہ ہجوم صرف تماشا یاد رکھتا ہے۔
برسوں یہی ہوتا رہااور شہر ¾ جھنڈے ¾ نعرے سب کچھ بدلتا رہا اگر کچھ نہیں بدلا تو وہ مداری کی مہارت تھی۔
ایک دن رسی نے اسے معاف کرنے سے انکار کر دیا ¾ہو سکتا ہے رسی بے قصور ہواور مجمع نے اوپر دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہولیکن اب لاش بیچ چوک میں پڑی تھی ۔زندگی بھر سب کی نظریں اس پر رہیںلیکن مرنے کے بعد کسی نے اس کے چہرے پر کپڑا تک نہ ڈالا۔اتنے میں خاک سے جڑے برگد کے نیچے چند بوڑھے جمع ہو گئے۔ایک نے لاش کو دیکھ کر کہا:”اسے دفن کر دو۔“دوسرا بولا”لیکن کہاں؟“یہ سوال غیر ضروری ہونا چاہیے تھا مگر عجیب بات یہ تھی کہ کوئی اس کا جواب نہ دے سکا۔کسی نے کہا:”شہیدوں کے قبرستان میں جگہ بہت ہے۔“خاکی برگد کے پتے یکایک کانپ اٹھے کیونکہ شہر کے مشرق میں واقع وہ قبرستان عام قبرستان نہیں تھا۔وہ ان لوگوں کا آخری ٹھکانہ تھا جنہوں نے زندہ رہنے سے زیادہ کسی سچ کو اہم سمجھا تھا۔
ہر قبر ایک نام نہیںبلکہ ایک ادھورا خواب تھی۔کسی قبر میں وہ نوجوان سویا تھا جس نے گولی سینے پر کھائی تھی پیٹھ پر نہیں۔کسی قبر میں وہ سپاہی تھا جو سرحد سے واپس نہ آیا۔کسی قبر میں وہ صحافی تھا جس نے قلم نہیں بیچا۔
اور کسی قبر میں ایک ایسا گمنام آدمی تھا جس کا نام کسی کو یاد نہیں مگر جس کے خون نے مٹی کو وطن کہنا سکھایا تھا۔وہاں داخل ہونے والے سے صرف دو سوال پوچھے جاتے تھے۔ نام؟ اور.. .وطن؟ مداری کی لاش کندھوں پر اٹھائی گئی۔چوک سے قبرستان تک کا راستہ زیادہ طویل نہیں تھا مگر اس روز ہر قدم بھاری تھا۔
راستے میں لوگوں نے پہلی بار ایک دوسرے سے پوچھا:”آخر یہ تھا کہاں کا؟“سوال ہوا میں معلق رہااور کوئی جواب نہ آیا۔خاکی برگد دور کھڑا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔اس نے اپنی چھال پر وقت کے ایک اور زخم کا اضافہ ہوتے محسوس کیا۔وہ جانتا تھا...بعض آدمی مرتے نہیں صرف ان کا جھوٹ دفن ہونے کی جگہ تلاش کرتا رہتا ہے۔شہیدوں کے قبرستان کا دروازہ ہمیشہ کی طرح کھلا تھا۔وہاں کبھی تالے نہیں لگتے تھے کیونکہ مٹی کی حفاظت دروازے نہیں قربانیاں کرتی ہیں۔نگہبان نے لاش پر ایک نگاہ ڈالی اورپھر رجسٹر کھولا۔قلم سیاہی میں ڈبویا اور پہلا سوال کیا۔”نام؟“ایک شخص نے مداری کا نام بتایااورنگہبان نے بغیر کوئی تاثر ظاہر کیے نام لکھ لیااور دوسرا سوال کیا۔”وطن؟“ہوا جیسے رک سی گئی کیونکہ لاش اٹھاکر لانے والوں میں سے کوئی بھی اُس کے وطن کا نام نہیں جانتا تھا۔ ایک ایک کرکے کئی شہروں کے نام لیے گئے لیکن ہر جگہ سے ایک ہی جواب آیاکہ وہ ہر جگہ رہا مگرتھا کہیں کا نہ ۔آخر ایک قاصد اس سرزمین بھیجا گیا جسے وہ کبھی اپنا وطن کہہ کر تقریریں کیا کرتا تھا۔جواب مختصر تھا۔''ہم اپنے شہید اورغدار پہچانتے ہیں ¾یہ دونوں میں سے کوئی نہیںپھر یہ ہمارا کیسے ہو سکتا ہے ۔“اسی لمحے خاکی برگد کی ایک سوکھی شاخ ٹوٹ کر زمین پر گری ¾جیسے تاریخ نے اپنے فیصلے پر دستخط کر دیے ہوں۔قبرستان کے ایک کونے میں بوڑھا سپاہی کھڑا تھا۔اس نے اپنی لاٹھی زمین میں گاڑی اور بولا:”میں نے ان نوجوانوں کو مرتے دیکھا ہے جو آخری سانس تک اپنے وطن کا نام لیتے رہے۔یہ شخص آخری سانس تک صرف اپنا نام بچاتا اورچھپاتا رہا۔“پاس ہی ایک گورکن خاموش کھڑا تھا۔اس کے ہاتھوں میں برسوں کی مٹی کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔
اس نے بیلچہ ایک طرف رکھا اور کہا:”قبریں ہر مردے کو قبول نہیں کرتیںکیونکہ بعض جسم مٹی کے ہوتے ہیںمگر ان کی روح کسی زمین کی نہیں ہوتی۔”اتنے میں ایک بوڑھی ماں آگے بڑھی جس کے ہاتھ میں مرجھایا ہوا پھول تھااوروہ اپنے شہید بیٹے کی قبر پر فاتحہ پڑھنے آئی تھی۔اس نے مداری کی لاش کو دیکھا اور دھیرے سے بولی:”میرا بیٹا گھر لوٹ سکتا تھا مگر اُس نے وطن کو چن لیا۔اس نے وطن کے لیے اپنا نام مٹا دیااور اس مداری نے اپنے نام کے لیے ہر وطن بدل لیا۔”کسی کے پاس اس بات کا جواب نہیں تھا ¾نگہبان نے رجسٹر بند کر دیااور سفید کاغذ پر صرف ایک فیصلہ لکھا۔”اسے شہیدوں کے درمیان دفن نہیں کیا جاسکتا کیونکہ قربانی اور کرتب ایک ہی مٹی میں نہیں اگتے۔“
شام اترنے لگی اورساحل پر ایک خاموش کشتی مداری کی لاش کی منتظر تھی ۔نہ قومی پرچم ¾نہ سلامی ¾نہ کوئی نوحہ ¾صرف خاموشی۔ لہروں نے پوچھا:”یہ کون ہے؟“ ہوا نے جواب دیا:”یہ وہ انسان ہے جو ہر شہر میں اپنا تعارف بدلتا رہا مگر کسی زمین کو اپنا وطن نہ بنا سکا ۔“سمندر نے دیر تک کچھ نہ کہا اورپھر کشتی کو اپنی گہرائیوں میں کھینچ لیا۔چند لہریں اٹھیں ¾کچھ دائرے بنے اور پھر پانی ویسا ہی ہو گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔اگلی صبح شہر پھر سے جاگ اٹھا ۔ لوگوں نے دیکھا کہ چوک میں ایک نئی رسی بندھی ہوئی تھی اور ایک نئی ڈگڈگی بج رہی تھی۔ایک نیا مداری لوگوں کو بلا رہا تھا اورمجمع پھر جمع ہونے لگا۔حیرت یہ تھی کہ کسی نے کل والے مداری کا ذکرتک نہیں کیا۔خاکی برگد نے آہستہ سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔اسے معلوم تھا کہ شہری کبھی تماشوں سے نہیں تھکتے۔وہ صرف تماشائی بدلتے ہیں، تماشا نہیں۔دور شہیدوں کے قبرستان میں ہوا نے ایک تازہ قبر پر لہراتے پرچم کو چھوا۔ایسا محسوس ہوا جیسے مٹی خود کہہ رہی ہو:”وطن صرف اس کا ہوتا ہے جو ضرورت پڑنے پر خود کو وطن کے حوالے کر دے اورجو ہر موڑ پر صرف خود کو بچاتا رہے...آخرکار زمین بھی اسے اپنا ماننے سے انکار کردیتی ہے۔“

ٹیگز: