برسلز: یورپی یونین نے سرچ انجن مارکیٹ میں اپنی بالادست حیثیت کا غلط استعمال کرنے کے الزام میں گوگل پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب ڈالر) کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
یورپی کمیشن کے مطابق گوگل نے اپنی سرچ سروس پر حاصل برتری کو استعمال کرتے ہوئے اپنی مختلف آن لائن سروسز کو غیر معمولی ترجیح دی، جس سے دیگر کمپنیوں کے لیے منصفانہ مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے شاپنگ، ٹریول، گیمنگ اور دیگر ڈیجیٹل سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں مقام دیا، جبکہ مسابقتی پلیٹ فارمز کو کم نمایاں کیا گیا، جو یورپی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (DMA) کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو تمام سروسز کے ساتھ مساوی، شفاف اور غیر امتیازی رویہ اختیار کرنا ہوتا ہے، تاہم تحقیقات میں گوگل کا طرزِ عمل ان ضوابط سے متصادم پایا گیا۔
کمیشن نے مزید الزام لگایا کہ گوگل نے پلے اسٹور پر موجود ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے ذرائع سے آگاہ کرنے سے بھی روکے رکھا تاکہ کمپنی اپنی سروس فیس برقرار رکھ سکے، جو ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی ایک اور خلاف ورزی قرار دی گئی۔
یورپی کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 روز کے اندر فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید مالی پابندیوں اور جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے یورپی صارفین متاثر ہوں گے اور انہیں آن لائن خدمات تک رسائی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ یورپی یونین اس سے قبل بھی گوگل کے خلاف متعدد مرتبہ کارروائی کر چکی ہے۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم سے متعلق اجارہ داری کے معاملے پر کمپنی پر 4.7 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ مارکیٹ میں غیر منصفانہ برتری حاصل کرنے پر 2.8 ارب ڈالر کا جرمانہ بھی کیا گیا، جس کے خلاف گوگل کی حتمی اپیل 2024 میں مسترد کر دی گئی۔