واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری تعاون کے معاہدے کو ابراہیمی معاہدوں میں ریاض کی شمولیت سے مشروط کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ طے پا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے سعودی عرب کا ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونا ضروری ہوگا۔
امریکی صدر کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدہ صرف پرامن مقاصد کے لیے ہوگا اور اس میں جوہری مواد کی افزودگی شامل نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا غیر افزودہ سول جوہری تنصیبات کے قیام کے خلاف نہیں ہے، جبکہ ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی اس نوعیت کے معاہدے پہلے سے موجود ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ حوثیوں کی جانب سے کسی بھی آئندہ حملے کی صورت میں ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور ایسی صورتحال میں ایران اور حوثیوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔