Wed, September 16, 2026

فتنہ قادیانیت کیخلاف عظیم جدوجہد کی داستان!

فتنہ قادیانیت کیخلاف عظیم جدوجہد کی داستان!

 حدیث کا مفہوم ہے کہ کوئی مسلمان اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں بن سکتا، جب تک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت کو اپنی ماں باپ،اولاد اور دیگر تمام لوگوں کی محبت سے آگے نہ رکھے۔ اس محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت و نصرت کی جائے اور آپ کی معصیت سے گریز کیا جائے۔ یہ ایمان کامل کی شرط اول ہے۔ خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ و سلم کے خادم اوران سے محبت و عشق کا دم بھرنے والوں کو ہرگز یہ گوارا نہیں ہوتا کہ کوئی ان کے لائے گئے دین میں تخریب کرے، چاہے وہ کوئی معمولی سے معمولی بات ہی کیوں نہ ہو۔میرے لیے باعث سعادت ہے کہ مجھے ایک ایسی کتاب پر لکھنے کا موقع ملاہے۔
حال ہی میں لاہورکے ایک ادارے رحیمیہ مطبوعات کی جانب سے حضرت سید ابوالحسن ندویؒ کی کتاب فتنہ قادیانیت؛تحلیل وتجزیہ کو نئے حواشی، اس فتنے کے پیدا کرنے والوں اوراس کے پیچھے چھپے عوامل، مرزا غلام احمد قادیانی کی اصل حقیقت اوراس کے رد کی تحریک میں ولی اللٰھی جماعت ومشائخ رائے پور کے کردار کونہایت جامع اورمدلل اندازمیں آشکارکیا گیا ہے۔ اس کی از سر نوتدوین سلسلہ رائے پور کے پانچویں مسند نشین اور رحیمیہ انسٹیٹیوٹ آف قرآنک سائنسز کے سربراہ حضرت مفتی عبدالخالق آزاد نے کی ہے۔ اب یہ کتاب ’’خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی جامعیت، فتنہ قادیانیت کا تجزیہ اورمشائخ رائے پورکا رہنماکردار‘‘کے نام سے شائع کی گئی ہے۔ جہاں ایک طرف سامراجی تعاون سے فتنہ قادیان 135 برس سے وسوسے اور گمراہی پیدا کرنے میں مصروف عمل ہے۔ وہیں پر ولی اللٰھی جماعت نے ہر موڑ پر اس فتنے کا نہ صرف تعاقب کیا بلکہ اس کی بیخ کنی میں بڑا اہم کردار اداکیا ہے۔اس کتاب میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ اور حضرت پیرمہرعلی شاہؒ کا واقعہ درج ہے کہ جب پیر مہر علیؒ نے 1890 میں حج کے دوران وہاں مستقل سکونت اختیار کرنے کا ارادہ کیا تو حاجی صاحبؒ نے برکشف پیر صاحبؒ کو آگاہ کیا کہ عنقریب سرزمین ہند میں ایک بڑا فتنہ ظاہرہونے والا ہے، جس کا سدباب آپ کی ذات سے متعلق ہے۔ اگر اس وقت آپ اپنے وطن میں خاموش بیٹھے رہے تو بھی ملک کے علما اس فتنے سے محفوظ رہیں گے۔ چنانچہ حضرت مہر علیؒ وطن واپس لوٹ آئے۔ بعد میں مکاشفات اور مشاہدات سے انھیں معلوم ہوا کہ اس فتنے سے مراد فتنہ قادیانیت ہے۔ اسی کے اگلے سال 1891 میں مرزا قادیانی نے مناظر اسلام، ماموراور مجدد کے دعوؤں سے آگے بڑھ کر ’’مسیح موعود‘‘ ہونے کا اعلان کرد یا۔ حضرت پیر مہر علی شاہؒ فرماتے ہیں کہ عالم رویا میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے مرزا قادیانی کی تردید کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ’’یہ شخص میری احادیث کو تاویل کی قینچی سے کتر رہا ہے اور تم خاموش بیٹھے ہو‘‘۔ چنانچہ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے مرزا غلام احمد قادیانی سے مناظرات اورمباحثات کے ذریعے قادیانیت کی تردید کیلئے خوب کام کیا۔ یہ سلسلہ ولی اللٰھی کے بزرگوں کی آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے عشق ومحبت اور دین کے حق کی سر بلندی سے لگاؤ تھا کہ انھیں فتنے کے برپا ہونے سے پہلے ہی آگاہی مل چکی تھی۔ اس کتاب میں اس فتنے کے پس پردہ عوامل پر حوالہ جات کے ساتھ نہایت ہی مدلل اور جامع گفتگو کی گئی ہے۔ ولی اللٰھی جماعت نے یہ بھانپ لیا تھا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی شخص کو بزعم خود یہ خیال آیا کہ وہ ایسی فتنہ انگیزی کا مرتکب ہو بلکہ یہ پلاننگ کے تحت ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ انگریز سامراج نے برصغیر پر قبضے کے دوران اپنی رپورٹس اور تجزیوں کی بنیاد پر جس طاقت کو اپنے لئے حریف اور خطرہ سمجھا، وہ مسلمانوں کا جذبہ جہاد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت و عشق تھا۔ یہ وہ اصل ہے جس کی بنا پر ایک سچامسلمان کبھی مرعوبیت کا شکار نہیں ہوتا۔ حق کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں ہوں یا جان بھی قربان کرنا پڑے وہ اسے باعث سعادت سمجھتا ہے۔ اس لئے انگریز کو واضح ہوچکا تھا کہ مسلمانوں کے  جذبہ جہاد اور غلبہ دین کے حقیقی تصور کے سامنے وہ کبھی بھی جم کر حکومت نہیں کر سکے گا۔ اس لئے لڑاؤ اور حکومت کرو کے فارمولے پر جہاں مذہبی و سیاسی منافرتیں پیدا کی گئیں وہاں جدو جہد آزادی کو نقصان پہنچانے کے لئے انگریزوں نے بہت سی ایسی جماعتیں پیدا کیں جو اسلام کے اجماعی عقائد سے منحرف اور صحابہ ؓ کومعیار حق نہیں مانتی تھیں۔ اسی طرح فرقہ قادیانیت بھی’’خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و سلم‘‘کے خلاف بغاوت کی صورت میں لایا گیا۔ کتاب کا حرف اول معروف محقق اورعالم دین ڈاکٹر سعید الرحمان اعوان صاحب نے تحریر کیاہے۔وہ لکھتے ہیں کہ انگریز منصوبہ سازوں نے ’’مسیح موعود‘‘ کے ذریعے جہاد کی تنسیخ کا ناٹک ترتیب دیا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو اس کام کے لئے موزوں تصور کرتے ہوئے اس کی شخصیت سازی کی جائے۔ پہلے اسے مبلغ اسلام، پھر مسیح موعود اور پھراس سے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرایا گیا۔ تاکہ برطانوی سامراج کے خلاف جذبہ جہاد رکھنے والے مسلمان اس کے دھوکے میں آکر انگریز کے ظالمانہ قبضے کے خلاف مزاحمت ترک کر دیں۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب البریہ میں لکھتا ہے کہ’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے،میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر 
کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ وہ رسائل و کتابیں اکٹھی کی جائیں تو 50 الماریاں بھری جا سکتی ہیں‘‘۔ مذکورہ کتاب میں فتنہ قادیان کی بیخ کنی کے لئے علماء حق اور خانقاہ عالیہ رحیمہ کے بزرگان کی جدو جہد کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔ پاکستان بننے کے بعد جب پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ سر ظفر اللہ قادیانی بنا تو قادیانیوں کو پھلنے پھولنے اور ریشہ دوانیوں کا موقع مل گیا۔ 1953 میں ختم نبوت تحریک کی سرپرستی حضرت عبدالقادررائے پوریؒ نے فرمائی بعد ازاں سید ابو الحسن ندویؒ نے اپنے شیخ رائے پوری ثانی ؒ کی ہدایت پر یہ کتاب تحریر فرمائی۔ اب مفتی عبدالخالق آزاد صاحب نے جامعیتِ سیرت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم(شریعت ،طریقت ،سیاست) اور فتنہ قادیان کو سامراجی حکمت عملی کے تناظر میں سمجھانے کے لئے سلسلہ رائے پور سمیت اسلاف (ولی اللٰھی جماعت) کی جدوجہد کا مکمل دستاویزی کام قلمبند کیا ہے۔ عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ و سلم کو سمجھنے اور فتنہ قادیانیت کے ارتداد کے لئے تمام مسلمانوں خصوصاً علمائ،پروفیسرز اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کو اس کتاب کے مطالعے اور اپنی لائبریری میں رکھنے کی ضرورت ہے۔

ٹیگز: