Wed, September 16, 2026

سینیٹ کے انتخابات اور پی ٹی آئی

سینیٹ کے انتخابات اور پی ٹی آئی

خیبرپختونخوا سینیٹ انتخابات انجام پذیر ہوئے۔ تمام پارٹیوں کو حصہ بقدر جثہ ملا۔ پی ٹی آئی کو 6 اور اپوزیشن کو 5 نشستوں پر کامیابی ملی۔ پنجاب اسمبلی میں بھی سینیٹ کی ایک سیٹ پر ضمنی انتخاب ہوا۔ یہ نشست مسلم لیگ ن نے جیت لی۔ یہ نشست مسلم لیگ کی ہی تھی جو اس نے دوبارہ حاصل کر لی۔ فروری 2024ء کے انتخابات کے ذریعے یہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں قائم ہوئی ہیں۔ سینیٹ آف پاکستان بھی انتخابی عمل کے ذریعے بھی قائم ہوئی ہے۔ کے پی میں حالیہ انتخابات کے ذریعے سینیٹ کا ایوان مکمل ہو گیا ہے۔ ان انتخابی نتائج کے باعث ایوان میں پارٹی پوزیشن میں کسی قسم کی جوہری تبدیلی واقع نہیں ہو گی تمام پارٹیاں اپنی اپنی جگہ پر، اپنی اپنی حیثیت کے مطابق موجود ہیں۔ تحریک انصاف کی بات اور ہے۔ اسے اپنی موجودہ حیثیت پر اطمینان نہیں ہے وہ سمجھتے ہیں کیونکہ ہمارے امیدواران نے فروری 2024ء میں سب سے زیادہ ووٹ لئے تھے، اس لئے ایوانوں میں انہی کا غلبہ ہونا چاہئے حالانکہ ووٹ حاصل کرنا اور بات ہے اورنشستیں ملنا دوسری بات۔ پارلیمانی نظام میں حاصل کردہ ووٹ نہیں بلکہ جیتی گئی نشستوں پر فیصلہ ہوتا ہے۔ ووٹوں کی تعداد پاپولیرٹی کو ظاہر کرتی ہے جبکہ جیتی ہوئی نشستیں کسی بھی جماعت کی الیکٹورل حیثیت کی عکاس ہوتی ہیں۔ پی ٹی آئی کیونکہ جماعت نہیں ہے، پارٹی نہیں ہے، تنظیم نہیں ہے بلکہ ایک تحریک ہے جو ہر وقت بلاضرورت بھی متحرک رہتی ہے۔ کوئی ایشو ہو یا نہ ہو، متحرک رہنا، ہنگامہ آرائی کرتے رہنا اسی جماعت کے خمیر میں شامل ہے، اس لئے یہ لوگ پی ٹی آئی والے ہر وقت پھڈے بازی کا شکار رہتے ہیں۔ اب کے پی میں سینیٹ الیکشن ہی دیکھ لیں۔ پی ٹی آئی والے کس طرح آپس میں گتھم گتھا تھے۔ ایک دوسرے کا گریبان پکڑے ہوئے تھے، کیا کہیں پارٹی نظر آئی، تنظیم نظر آئی، ڈسپلن نظر آیا، ہرگز ہرگز نہیں۔ مخصوص نشستوں پر جیتنے والوں کی حلف برداری کے ایشو پر کے پی اسمبلی سپیکر کا رویہ دیکھ لیں پھر جب عدالتی حکم پر گورنر ہائوس میں حلف برداری ہو گئی تو گنڈہ پور صاحب کا رویہ کیا تھا۔ اب ہمیں پتہ چلا ہے کہ جیل میں سہولیات کے حصول کے لئے بانی صاحب بھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے جا رہے ہیں۔ انہیں تکلیف ہے کہ انہیں اخبارات نہیں مل رہے ہیں، انہیں ورزش مشینوں تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے انہیں شکایت تھی کہ انہیں کچھ مقوی بیج کھانے کے لئے نہیں دیئے جا رہے تھے حالانکہ جیل حکام عدالت کو اس سے پہلے بتا چکے ہیں کہ بانی کو کھانے پینے اور اوڑھنے بچھونے کی کیا کیا سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کا مینیو بھی عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے جسے خواجہ آصف میریٹ ہوٹل کے مینیو سے بھی اعلیٰ قرار دے چکے ہیں۔ اس سے پہلے بانی کو شکایت تھی کہ انہیں ان کے من پسند ملاقاتیوں سے ملنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ جیل حکام نے ملاقاتیوں کی فہرست بمع دیگر تفصیلات عدالت میں پیش کیں تو ہمیں پتہ چلا کہ خان صاحب کس طرح شاہانہ انداز میں جیل زندگی گزار رہے ہیں۔وہ جیل میں بیٹھ کر پارٹی چلا بھی رہے ہیں اور پارٹی پر اپنی موثر گرفت بھی رکھے ہوئے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ان کے بیرون ملک مضامین بھی چھپ رہے ہیں، ان کا ٹوئیٹر اکائونٹ بھی چل رہا ہے ویسے ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس کا ہینڈلر کون ہے اور اس کے ذریعے پیغامات جاری کرنے کا فیصلہ کون کرتا ہے لیکن یہ سارے معاملات چل رہے ہیں۔ خان صاحب ہوں یا ان کی پارٹی وہ ہر وقت کسی نہ کسی معاملے کو اٹھا رکھتے ہیں۔ اس معاملے کی حقیقت ہو یا نہ ہو لیکن وہ انارکی پھیلانے کے لئے ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ جاری نظام حکمرانی کو نہ ماننا اور اس کے خلاف لسانی تشدد جاری رکھنا، پارٹی پالیسی ہے لیکن اسی نظام کے تمام فیوض و برکات سے ہمہ وقت استفادہ کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ الیکشن 2024ء کے خلاف ہر وقت ہرزہ سرائی جاری رکھنے کے باوجود انہی الیکشنوں کے نتیجے میں قائم کردہ کے پی اسمبلی اور اس میں سے پی ٹی آئی حکومت کی درآمدگی بھی انہیں قبول ہے پھر اسی الیکشن کمیشن کے زیراہتمام حالیہ سینیٹ الیکشن کے ذریعے حاصل کردہ 6 نشستوں پر حلف بھی اٹھائیں گے۔ سینیٹ میں بھی جائیں گے، تنخواہیں اور مراعات بھی لیں گے لیکن اسی نظام کے خلاف ہرزہ سرائی بھی جاری رہے گی۔ الیکشن کمیشن کے خلاف باتیں بھی ہوں گی۔ پی ٹی آئی کی ایسی ہی دوغلی پالیسیوں بلکہ کسی بھی پالیسی کی عدم موجودگی کے باعث پارٹی اپنا وجود کھو رہی ہے، تتر بتر ہو گئی ہے۔ قیادت میں گروہ بندی عام ہے۔ آپس میں لڑائی جھگڑے بھی جاری ہیں۔ پاک بھارت جنگ ہو یا فلسطینیوں پر ظلم و ستم بانی کا کوئی بیان دیکھنے میں نہیں آئے گا لیکن انہی مراعات کے لئے ہمہ وقت مستعد نظر آئیں گے۔ اب بلوچستان میں جوڑے کو گولیاں مار کر ختم کرنے کا ایشو ہی دیکھ لیں، ان کی زبان بند ہے۔ ویسے بلوچستان ہو یا کے پی، یہاں کاروکاری عام ہے، غیرت کے نام پر خواتین و حضرات کو قتل کرنا عمومی چلن ہے، ویسے تو یہ سندھ میں بھی ہوتا ہے لیکن جس قدر بلوچستان اور کے پی میں یہ رسم عام ہے سندھ میں نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی کی جان لینے کا اختیار کسی فرد، سردار، وڈیرے یا جرگے کے پاس نہیں ہونا چاہئے۔ ایک ایسا ملک جس کا ایک نظریاتی آئین ہے، اس کے مطابق 
ریاستی ستون ہیں، حکومت ہے، فوج ہے، پولیس ہے، عدالتیں ہیں، جیلیں ہیں پھر کسی فرد یا جرگے کو کسی کی جان لینے کا اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہم اسلامی ملک ہیں، ہمارا آئین اسلامی ہے اور اسلامی قوانین کے مطابق کسی فرد کی جان لینا ہرگز ہرگز کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ سوائے ریاست کے، ایسے واقعات کا ظہور اس بات کا غماز ہے کہ ہماری ریاستیں کمزور ہے، ہماری حکومتی رٹ نہیں ہے کہ افراد فیصلے کر رہے ہیں، کسی کی جان لینے کا فیصلہ کر رہے ہیں اور اس پر عمل درآمد بھی ہو رہا ہے۔ قبائلی روایات اپنی جگہ پر ہوں گی لیکن یہ ملک ایک آئین کے تحت چل رہا ہے، صوبوں میں بھی آئینی حکومتیں قائم ہیں پھر قبائلی جرگے اور سرداروں کو فیصلے کرنے کی آزادی نہیں دے جا سکتی ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ جس طرح جوڑے کو سرعام گولیاں ماری گئی ہیں اور ان کی تشہیر بھی کی گئی ہے بالکل اسی طرح اس واقعہ کے ذمہ داران کو سرعام آئین پاکستان کے مطابق تختہ دار پر چڑھانے کی وڈیو وائرل کرنی چاہئے تاکہ ریاست کی رٹ قائم ہو اور ہوتی نظر بھی آئے۔

ٹیگز: