Wed, September 16, 2026

شدید برفباری سے نظامِ زندگی مفلوج، شمالی و بالائی علاقوں میں سردی کی لہر تیز

شدید برفباری سے نظامِ زندگی مفلوج، شمالی و بالائی علاقوں میں سردی کی لہر تیز

کرک ،صوابی، مالاکنڈ،چترال، لوئردیر:ملک کے شمالی اور بالائی علاقوں میں ہونے والی شدید برفباری نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے اور کئی مقامات پر دہائیوں پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں 80 برس بعد برفباری ریکارڈ کی گئی، جبکہ مالاکنڈ کے پہاڑی علاقوں میں 20 سال کے طویل وقفے کے بعد برف پڑی ہے۔

صوابی میں تین سال بعد 6 انچ تک برفباری ہوئی، جبکہ چترال، لوئر دیر، بابو سر ٹاپ، ناران اور کاغان میں شدید برفباری کے باعث سردی کی شدت میں غیرمعمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں، جن میں کوئٹہ، زیارت اور چمن شامل ہیں، شدید برفباری کی لپیٹ میں رہے۔

سخت سردی کے باعث جھیلیں جم گئی ہیں جبکہ گھروں کی پانی کی ٹینکیاں اور نلکے بھی منجمد ہو چکے ہیں۔ گلگت بلتستان کے ضلع استور کے بالائی علاقوں میں تقریبا دو ،تین فٹ  برفباری ہوچکی ہے۔

آزاد کشمیر میں چکوٹھی، لیپا ویلی، گنگا چوٹی اور گردونواح میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ مری میں ڈیڑھ فٹ تک برفباری کے بعد انتظامیہ نے سیاحوں کی آمد کے پیشِ نظر تمام داخلی راستے بند کر دیے ہیں، جبکہ بہارہ کہو اور سترہ میل کے مقام پر ناکے قائم کر دیے گئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے پنجاب نے مری اور اطراف میں مزید شدید برفباری کا الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاط کی ہدایت کی ہے، جبکہ اسلام آباد پولیس نے سیاحوں سے مری کا سفر مؤخر کرنے کی اپیل کی ہے۔

ٹیگز: