Wed, September 16, 2026

پسرور سے پرسرور تک

پسرور سے پرسرور تک


جب باغبان کا اپنا درخت ا±س کی زندگی میں پھل دینا شروع کردے تویہ ا±س کی زندگی کا خوش گوار ترین لمحہ ہوتا ہے۔ پسرور سے میرے آبا و اجداد کا گہرا تعلق ہے کہ کشمیری ہونے کے ناتے یہ ان کی گزر گاہ رہی ہے۔یقینا یہ مقام کبھی پ±ر سرور ہی ہو گا جسے وقت نے پسرور بنا دیا۔ صدیوں پرانے اس شہر کی تاریخ کو ابھی کھوجا نہیں گیا لیکن اس کے لاہور کے ہم شکل چھ سات دروازے اس کی قدامت کا پتہ دے رہے ہیں۔اس شہر نے ایسے ایسے ہیرے پیدا کیے ہیں جنہوں نے دنیا میں نام کمایااور ا±ن کی طویل فہرست میرے پاس ہے جوپروفیسر اصغر سودائی سے ہوتی ہوئی فیض احمد فیض اور ظہیر عباس کے پا س سے گزرتی وحید مراد اورپنجائی زبان کے معروف شاعر سائیں حیات پسروری تک پہنچ جاتی ہے۔ مجھے اس مٹی سے ہمیشہ اپنے بزرگوں کے پسینے کی خوشبوآتی ہے لیکن کبھی کبھی زندگی میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم علاقوں کے پاس نہیں جاتے بلکہ علاقے ہمارے پاس چلے آتے ہیں۔ چلتے پھرتے اور بولتے علاقے۔۔ کبھی تاریخ ڈھونڈنا نہیں پڑتی یہ خود آپ تک رسائی حاصل کر لیتی ہے۔ ہم وہ نسل ہیں جس نے صدی اور ہزاری (ملینیم) بدلتے دیکھی ہے ، یہ نسل ہی ہزار سال بعد پیدا ہوتی ہے۔ نئی ہزاری کے پہلے عشرے کے ابتدائی برسوں کی بات ہے جب پسرور سے دو نوجوان یو۔ اے۔ ٹی میں داخلہ لینے کے بعد وقاص چوہان کے ساتھ مجھ سے آ ملے۔عثمان کھوکھر انہی میں سے ایک تھا۔پتلا دبلا اور بلا کا شرارتی! جس کے چہرے پر ہمیشہ ایک کامیاب مسکراہٹ کھلی رہتی تھی۔پرانی انارکلی بازار کالج کے زمانے سے ہمارا مسکن تھا لیکن کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ چالیس سال کی عمر میں بھی یہاں ہی آ کر بیٹھیں گے۔ یہ ا±س زمانے کی بات ہے جب ابھی فورڈ سٹریٹ کانام ونشان بھی نہیں تھا اور دوستوں کی محفل رات گئے بلکہ آثارِ سحر تک جما کرتی تھی۔ شاعر ادیب پاک ٹی ہاو¿س سے فارغ ہو کر ادھر کا ہی رخ کرتے اور پھر دیکھتے دیکھتے مختلف شہروں سے حصولِ تعلیم کیلئے آئے نوجوان ، جو قرب و جوار کے ہوسٹلز میں رہتے تھے وہ بھی ہماری ٹیبل کے گرد اکٹھے ہونا شروع ہو جاتے۔ وقاص چوہان جو پنجاب 
یونیورسٹی فائن آرٹس میں پڑھتے تھے لیکن اپنے فن میں پختہ کاری پیدا کرنے میں تاخیرکا شکار ہو گئے۔ خنان شیخ، مدثر، شفیق، یاسر بخاری، زوہیب بٹ، واصف شاہ، ملک عمیر اور لاتعداد ایسے دوسرے نام جن سے قربتیں بڑھتی چلی گئیں۔ ان میں عثمان کھوکھر سب سے زیادہ تیز طرار اور شرارتی تھا۔ بچپن سے میری یہ سوچ ہے کہ شرارتی بچے ذہین ہوتے ہیں کہ بانجھ دماغ میں شرارت آ ہی نہیں سکتی۔جو ازاں بعد ا±س نے ثابت بھی کردکھایا۔
شعیب ملک، ملک ریاض بحریہ ٹاو¿ن والے، ظہیر عباس ، اصغر سودائی، فیض احمد فیض، وحید مراد اورہاں ہماری پنجابی زبان کا مان جناب سائیں حیات پسروری اور معروف گلوکار اکرم راہی کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔پسرور سے میرا پہلا تعارف میرا تایا جی نے کرایا جو ایک درویش منش انسان تھے۔ سائیں حیات پسروری کے دو اشعار انہوں نے میری کاپی پر لکھے جو مجھے ازبر ہو گئے او ر پھر مدتوں بعد پسرور سے ملک عمیر جو سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے پہلے انکم ٹیکس میں اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئے اور اب نہ جانے ترقی کی منازل طے کرتے کرتے کہاں تک پہنچ چکے ہیں ، عثمان کھوکر کے ساتھ ایک نوجوان شاعر کو لے کر میرے پاس آئے جس کانا م انہوں نے حفیظ عامر بتایا۔میں نے نام سنتے ہی کہا کہ کسی آرٹس نے نام رکھا ہو گا بڑا ردھم ہے نام میں۔ معلوم ہوا کہ موصوف انہی سائیں حیات پسروری کے صاحبزادے ہیں جن کے اشعار بچپن میں میری کاپی پرتایا مرحوم لکھ گئے تھے اورجناب زیادہ تر وقت یو اے ٹی کے ہوسٹل میں عثمان کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ا±س رات حفیظ عامر نے بتایا کہ ا±نہوں نے ڈی وی ڈی پر کرینہ کپور کی فلم چنبیلی دیکھی ہے۔سورج نے صبح کا اعلان کیا تو حافظ جوس سے کھویا کھجور کا شیک پیا اور یو اے ٹی کی کنٹین سے آلوکے پراٹھوں کے ساتھ ہاف فرائی انڈوں کا وہ مزہ آیا کہ صرف سبحان اللہ ہی کہا جا سکتا ہے۔وقت بدلتا رہا اورسب اپنے اپنے معاملات میں سرخرو ہونے کی کوشش میں نکلے پڑے۔ میں عمران خان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا جس کا خمیازہ میرے ساتھ ان دوستوں کو بھی بھگتنا پڑا جو میرے بہت ہی قریبی تھے۔ عثمان کھوکھر سے میری گھنٹوں باتیں ہوا کرتی تھیں۔ وہ نت نئے خیالات کی مشین تھی۔ ا±س کے سوالات عجیب بھی ہوتے اور نئے بھی، سو میرا تعلق ا±س سے بڑھتا چلا گیا۔ ایک بار سیالکوٹ گیا تو عثمان کی محبت مجھے کھینچ کر پسرور لے گئی جہاں بہت سی اہم شخصیات سے میری ملاقات کرائی گئی۔میں ا±س میزبانی کیلئے آج بھی عثمان کا شکرگزار ہو ں کہ بہت کم لوگ مہمانوں کو بلا کرخوشی محسوس کرتے ہیں۔عثمان دوبئی چلا گیا اور حفیظ عامر کو بھی پاس بلا لیا اور ا±س ناکام ہوتے ہوئے بھی کامیاب ہی رکھا۔ حفیظ عامر گزشتہ سال گیارہ سال سات ماہ اور سات دونوں بعد اپنے گھر واپس آیا۔ یقینا اِس مادیت کے دور میں عثمان کھوکھر نے جو سلوک حفیظ عامر سے کیا وہ باپ کے مرنے کے بعد سگا بھائی بھی نہیں کرتا۔ عثمان نے پہلے کسی بنک میں ملازمت کی اور ازاں بعد گاڑیوں کا کاروبار شروع کیا اور اللہ نے ا±سے بہت نوازا لیکن اللہ نے تو بہت سے لوگوں کو نواز رکھا ہے لیکن سب عثمان کھوکھر جیسے وسیع دسترخوان رکھنے والے نہیں ہوتے۔ باپ بچوں کا ہیرو ہوتا ہے لیکن خوش قسمت باپ تو وہ ہوتا ہے جس کا بیٹا ا±س کا ہیرو اور آئیڈیل بن جائے۔ فیس بک پر عمر فاروق ملک کی پوسٹ دیکھی تو ماضی کے کتنے ہی واقعات ذہن کی سکرین پر چل پڑے۔ ابھی کل کی بات ہے عثمان خود بچہ تھا اور آج ا±س کا بیٹا ارتضیٰ باکسنگ میں اپنا نام پیدا کر چکا ہے۔ وہ دبئی کا چیمپئین باکسر ہے لیکن بیٹے تو باکسر بن ہی جاتے ہیں حیرت تو یہ ہے کہ عثمان اپنے بیٹے سے متاثر ہو کر 2026 کے مقابلوں میں رنگ میں اترنے کیلئے تیار ی کررہا ہے۔ 
عثمان کے دادا جی محکمہ انہار میں پٹواری تھے جن کے بزرگ غالباً منٹگمری (ساہیوال) سے تشریف لائے تھے اور والد اسلم کھوکھر سرکاری سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے جن کا احترام سارا شہر کرتا تھا لیکن آج ا±ن کی اگلی نسل دبئی میں راج کر رہی ہے۔ یہی ہمارا ٹیلنٹ ہے جو پاکستان سے باہر جا کر بھی پاکستان کا نام بلند کر رہا ہے لیکن اگر عثمان کھوکھر پاکستان میں ہی رہتا تو جو مواقع ا±سے دبئی میں ملے ہیں کیا پاکستان میں دستیاب ہو سکتے تھے؟ یقینا نہیں کہ یہاں جو تھوڑ ے پیسے لے کر گھر سے نکلتا ہے نوسربازوں کے قابو آ جاتا ہے۔ تاریخ نے پ±رسرور کو پسرور بنا دیا لیکن عثمان ا±س پر راضی نہیں ہوا اور وہیں چلا گیا جہاں ا±س کا حقیقی پ±ر سرور مقام اور نظام تھا۔ سلامت رہو شہزادے۔

ٹیگز: