Wed, September 16, 2026

سایٔہ وحشت میں خاموش قانون

 سایٔہ وحشت میں خاموش قانون

ریاست صرف جغرافیہ کا نام نہیں ہوتی، یہ انصاف کے احساس سے زندہ رہتی ہے ۔ جب معاشرے میں قانون کمزور اور انصاف تاخیر کا شکالر ہو جائے تو خوف ، بے یقینی اور بدامنی اپنی جڑیں مضبوط کر لیتے ہیں ۔ انسانی تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ تہذیب ِ انسانی ازل سے عدل و انصاف اور قانون کی بالا دستی کے قیام کے لیے سر گرداں ہے ۔ابتدا میں انسانوں نے کچھ اصول اور ضابطے بنائے اور انہیں خود پر لاگو کر لیا ، تاکہ ایک پر امن اور بہتر زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ حیوانی جبلت پر قابو پایا جا سکے ۔یہی مقصد ہی قانون کی ابتدا بنا، جسے رفتہ رفتہ ضروریاتِ زندگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے شہراور سلطنت کے قیام، عدالتی نظام ، ریاستی قوانین کے ساتھ بہتر سے بہتر کیا جاتا رہا ۔محسنِ انسانیت رسولِ خدا حضرت محمد مصطفی  ﷺنے مدینہ منورہ میں جس اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی ، سماجی انصاف اس کا طرہ امتیاز ہے ۔انسان کی اصلاح اور معاشرے کی بقاء قانون کے عملی نفاذ کے بغیر نا ممکن ہے کیونکہ قانون کی حکمرانی کسی معاشرے کی بقا ء کی اکائی ہے ۔قانون سازی کا عمل کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے ، قانون سازی ایک ملک کی بنیاد کو مضبوط بناتی ہے اور معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوئوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ قانون سازی ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے قوانین اور ضوابط مرتب کیے جاتے ہیںتا کہ مختلف شعبوں میں انتظام و انصرام بہترسے بہتر کیا جا سکے ۔ قانون سازی کا عمل مختلف مراحل پر مشتمل ہوتا ہے ، جن میں قانون کا مسودہ تیار کرنا ، اس پر بحث و مباحثہ ، ترامیم کی تجویز دینا اور آخر کار اسے منظور کرنا شامل ہے ۔ یہ ایک جمہوری عمل ہے جس میں عوام کے منتخب نمائندے یعنی قانون ساز عوام کی امنگوں ، ضروریات، صحت ،تعلیم ، روزگار اور مطالبات کو مدِنظر رکھتے ہوئے قوانین تشکیل دیتے ہیں ۔ قانون سازی کا مقصد معاشرتی انصاف ، امن ، ترقی ، اور انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوتا ہے ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قانون سازی اور قانون ساز کسی بھی جمہوری معاشرے کا اہم ستون ہوتے ہیں ۔کسی بھی معاشرے کی بقاء اور استحکام قانون کی حکمرانی اور بالادستی پر منحصر ہے ۔ وقت کی جدت کے ساتھ اب 
کوئی بھی با شعور انسان قانون کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کر سکتا ۔یہی وہ بنیادی دستاویز ہیں جو ایک ریاست کے مختلف شعبوں کے لیے حقوق و فرائض کا تعین کرتی ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ آئین کو عوام کی رائے سے ترتیب دیا جائے۔کسی بھی ریاست میں حکومتی معاملات کی انجام دہی میں اول اور بنیادی کردار ادا کرنے والے تین بڑے ادارے ہوتے ہیںایک مقننہ (قانون سازی کرنے والا) ، دوسرا انتظامیہ جس کے ذمے قانون سازوں کے مرتب کردہ قانون کو ان کی روح کے مطابق نافذ کرنا اور انتظامِ مملکت چلانا ہے ، اور تیسرا عدلیہ جس کا مقصد ریاست میں عدل و انصاف کو قائم رکھنا ہے ۔ کسی بھی حکومت کی اعلیٰ کارکردگی کا دارومدار اور انحصار نظامِ عدل پر قائم ہوتا ہے ۔بدقسمتی سے پاکستان میں قانون سازی کا نظام متعدد مسائل کی وجہ سے خرابی کا شکار ہے ، سیاسی عدم استحکام اور اداراہ جاتی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات ، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعاون کا فقدان قانون سازی کے عمل کو متاثر کر نے کی وجہ ہیں۔اس کے علاوہ اراکین کی غیر حاضری، قوانین پر سنجیدہ بحث و مباحثہ کا فقدان بھی قانون سازی کے اس نظام کو نقصان پہنچاتا ہے ۔ کئی بار اہم بلز بغیر مناسب بحث کے پاس کیے جاتے ہیں یا طویل عرصہ تک زیر التوا رہتے ہیں ، جس کے باعث ان کی افادیت کم ہو جاتی ہے ۔یہاں قانون سازی کا عمل اکثر ذاتی اور سیاسی مفادات کے زیر اثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے عوامی مفاد کے قوانین پر توجہ نا ہونے کے برابر ہے ۔ مزید برآں ، قانونی ادارے صحیح معنوں میں اپنا کردار نبھانے سے قاصر ہیں ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حقیقی ٹھوس اور موثر قانون سازی ہی قانون ساز ممبران کی اصل اور آئینی ذمہ داری ہے ۔ مگرگزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے ہاں کوئی خاص اور ٹھوس قانون سازی یا تو ہو نہیں رہی اور اگر ہو رہی ہے تو پھر بہت کم ۔ دیکھا جائے تو وہ بھی یا تو مراعات کو حلال کرنے کیلئے یا پھر مخصوص طبقات کے مفادات کے لیے کی جا رہی ہے ۔ صرف رسم نبھانے کی خاطر ہونے والی قانون سازی زیادہ تر عجیب اور برائے نام ہی ہوتی ہے۔بار بار وہی قانون نئے ناموں سے بنائے جاتے ہیں جو پہلے سے ہی کسی نا کسی صورت میں موجود ہوتے ہیں ۔ اسی قانون اور دفعات میں کچھ حد تک رد و بدل کر کے نئے قانون کی شکل دے دی جاتی ہے ۔
ریاست کی بنیاد طاقت پر نہیں بلکہ انصاف پر ہوتی ہے ۔طاقت وقتی نظم قائم کر سکتی ہے مگر انصاف ہی وہ قوت ہے جو کسی بھی معاشرے کو اعتماد دیتی ہے ۔ آئین ، عدالتیں اور قوانین اسی لیے بنائے جاتے ہیں کہ ہر شہری یہ یقین رکھ سکے کہ اس کے ساتھ برابری کا سلوک ہو گا ۔جو قومیں وقت کی جدت اور ضرورت کے ساتھ خود کو تبدیل نہیں کرتیں وہ تاریخ کے اوراق سے مٹا دی جاتی ہیں ۔ ہمارے ہاں بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق قوانین میں ترمیم اور عدالتی نظام کو مزید فعال بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون سازی کے عمل کو غیر جانبدار بنایا جائے ، تا کہ سیاسی مداخلت اور ذاتی مفادات کے بجائے عوامی مفاد کو مقدم رکھا جا سکے ۔ قانون سازی کے لیے ایک جامع اور منظم طریقہ کار متعارف کروایا جائے جس میں سیاسی جماعتوں کو برابر کی نمائندگی ملے اور قوانین پر تفصیلی بحث و مباحثہ ہو۔  علاوہ ازیں پارلیمانی کمیٹیوں کا کردار مزید مضبوط کیا جائے تا کہ وہ مجوزہ قوانین کا باریک بینی سے جائزہ لے سکیں اور ان میں بہتری کے لیے سفارشات پیش کر یں ۔ عوامی رائے اور تجاویز کو بھی قانون سازی کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے ، جس کے لیے عوامی سماعتوں اور مشاورتی سیشنز کا انعقاد کیا جانا چاہیے ۔قوانین کے نفاذ کے لیے ایک مضبوط نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروںکو ضروری وسائل اور تربیت فراہم کی جا سکے ، تا کہ وہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کر سکیں ۔ قانون سازی کے نظام کی اصلاحات کے لیے ایک طویل مدتی حکمت عملی ترتیب دی جائے جو قانونی ، ادارہ جاتی اور سماجی تبدیلیوں پر مبنی ہو ۔ عوام کو قانون کے بارے میں شعور دیا جائے تا کہ لوگوں کو اپنے حقوق و فرائض کا علم ہو اور وہ قانون کی پاسداری کے حوالے سے زیادہ ذمہ دار ی کا مظاہرہ کر سکیں ۔ اس سب کے ساتھ ساتھ مقننہ ، عدلیہ اور انتظامیہ ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کریں اس کے بغیر ترقی محض ہماری آنکھوں کا ایک خواب بن کر رہ جائے گی ۔

ٹیگز: