چھ دسمبر 2025کے اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ پاکستانیوں نے کرپٹو کرنسی کی صرف ایک کمپنی میں پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ اِس کمپنی کا نام بائنانس ہے۔ یہ کمپنی کرپٹو کرنسی کے حوالے سے دْنیاکی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ یہ بٹ کوائن، ایتھی ریم اَور اِسی طرح کی دْوسری کرپٹو کرنسیوں کی مختلف طرز کی تجارت اَور سرمایہ کاری کا کام کرتی ہے۔ اِس کے مقابلے میں بھی کمپنیاں موجود ہیں مثلاً کوائن بیس، کراکن، بائے بٹ، کیو کوائن وغیرہ۔ اْن میں پاکستانیوں کی کتنی سرمایہ کاری ہے؟ اِس کے بارے میں اْس خبر میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ البتہ یہ بتایا گیا ہے کہ پاکستانی ایک سال میں دو سو پچاس ارب ڈالر سے زائد کی کرپٹو کرنسی کی تجارت کرتے ہیں۔ بائنانس کے پاس ایک کروڑ پچھتر لاکھ سے زائد پاکستانی رجسٹرڈ ہیں جن کی کل سرمایہ کاری پانچ ارب ڈالر ہے۔
یہ خبر بہت سی باتیں بتاتی ہے۔ پہلی یہ کہ یہ تصور کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے، غلط ہے۔ یہاں بہت سے لوگوں کے پاس اِتنا فالتو پیسہ ہے کہ وہ اِسے کرپٹو کرنسی میں لگانے کے لیے تیار ہیں اَور یہ کام کرتے بھی ہیں۔ دْوسری یہ کہ پاکستانیوں نے بہت بڑی رقم کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ یقیناً اِس تجارت میں کافی منافع ہوتا ہوگا تبھی تو صرف ایک کمپنی میں پونے دو کروڑ سے زائد پاکستانی رجسٹرڈ ہیں۔ تیسری یہ کہ پاکستانی یہ رقم اَپنے ملک میں اِنویسٹ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چوتھی یہ کہ ملک میں دو نمبر طریقے سے جتنی دولت کمائی جاتی ہے وہ بے حساب ہے۔ پانچویں یہ کہ ہمارا ملک ایک ایک ارب ڈالر کے قرض کے لیے آئی ایم ایف کے آگے ناک رگڑتا ہے۔ اْس کی تمام شرائط بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہے لیکن اِسی ملک کے شہریوں کے پاس اِتنی دولت موجود ہے اگر وہ چاہیں تو ملک کو کسی قرض کی کوئی ضرورت پیش نہ آئے۔ اِس سے چھٹی بات یہ پتا چلتی ہے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اَپنے ملک کا نہیں سوچتی۔ یہ خود غرض ہیں اَور صرف اَپنی ذات یا زیادہ سے زیادہ اَپنے گھروالوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ساتویں بات یہ پتا چلی کہ کسی نے پاکستانیوں کو یہ نہیں بتایا اَورسکھایا کہ وہ اَپنی دولت کو کس جگہ اِنویسٹ کریں کہ اْس سے اْن کا بھی فائدہ ہو اَور ملک کا بھی۔
ملک کا فائدہ اِس میں ہے کہ ملک معاشی طور پر مضبوط ہو۔ معاشی طور پر مضبوط ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری برآمدات زیادہ ہوں اَور درآمدات کم ہوں۔ ہم اَپنی چیزیں دْوسرے ملکوں کو بیچ کر دولت کمائیں۔ جو چیزیں ہم آج باہر سے درآمد کرنے پر مجبور ہیں، اْنھیں اَپنے ہی ملک میں بنانے کی کوشش کریں۔ یوں ہمارے ملک میں بے روزگاری میں کمی آئے گی اَور لوگ بھی خوش حال ہوں گے۔ یہ خوش حالی حلال طریقے سے ہوگی اَور ملک کے تمام طبقات میں اِس کی برکات پھیلیں گی۔ دولت ایک مخصوص طبقے میں مرکوز ہوکر نہیں رہ جائے گی لیکن ہمارے یہاں یہ نہیں ہوتا۔ کوئی یہ کرنا بھی نہیں چاہتا۔ بدنصیبی سے ہمارے ملک میں حب الوطنی کی کمی نہیں بلکہ شدید قحط ہے۔ عام لوگوں کو پاکستان سے کسی قسم کی کوئی محبت نہیں ہے۔ لوگ اَپنے ذاتی، کاروباری، سیاسی یا جماعتی فائدے کے لیے پورے ملک کو آگ لگانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اِس کا مظاہرہ ماضی میں کئی بار ہوا۔ آج بھی یہی سوچ پائی جاتی ہے۔ جب یہ حالات ہوں گے تو ملک کہاں سے ترقی کرے گا؟
کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری ہو ، ریئل اسٹیٹ میں انویسٹ کی گئی رقم ہو، سونے یا دوسری قیمتی دھاتوں میں لگائی گئی دولت ہو، اْس کا ہمارے ملک کی ترقی یا پیداواری صلاحیت میں اِضافے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اِس سرمایہ کاری سے لوگوں کو تو فائدہ پہنچتا ہے، اْنھیں بعض اَوقات بہت شاندار منافع بھی حاصل ہوتا ہے لیکن ملک وہیں کا وہیں رہتاہے۔ اگر کوئی یہ جاننا چاہے کہ ملک کیسے ترقی کرتے ہیں تو اِس کے لیے اْس کے پاس غیب کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ وہ دیکھے کہ دْوسری جنگ عظیم میں مکمل تباہ ہونے کے بعد جرمنی نے کیا کیا۔ وہ یہ بھی دیکھے کہ دو ایٹم بم کھانے کے باوجودجاپانی کس طرح کھڑے ہوئے۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے دوسری جنگ عظیم میں اَور اْس سے پہلے برطانیہ اَور امریکہ نے کس طرح اَپنے ملکوں کو، اَپنی معیشت کو ترقی دی تھی۔ یہ ترقی ملکی پیداوار بڑھانے سے حاصل ہوئی تھی۔ یہ وہ پیداوار تھی جسے اِن ممالک نے دْوسرے ملکوں کو بیچ کر دولت کمائی۔ اَپنے ملک سے بے روزگاری ختم کی۔ دْوسری جنگ عظیم سے پہلے ہٹلر نے بھی اَپنے ملک سے بے روزگاری ختم کردی تھی لیکن اْس کا ماڈل زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوا کیونکہ اْن دنوں جرمنی جو بناتا تھا وہ خود ہی اِستعمال کرلیتا تھا۔ برآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اِس کے مقابلے میں برطانیہ اَور امریکہ کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ ملک سے باہر برآمد بھی ہوتا تھا۔ چنانچہ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے اَور جرمنی کی شکست کے بعد اْنھوں نے یہ جانا کہ ملک کوکیسے ترقی دی جاسکتی ہے۔ آج جرمن مشینری دْنیا کی بہترین مشینری تصور کی جاتی ہے۔ سمجھ دار ممالک نے اَپنی پیداوار میں اِضافہ کیا۔ لوگوں نے اَپنا پیسہ فیکٹریاں لگانے، زرعی پیداوار بڑھانے اَور تعلیم پر خرچ کیا۔ بدنصیبی سے ہمارے یہاں یہ سوچ پروان نہیں چڑھ سکی۔
ہماری یہاں یہی سوچ رہی کہ کسی طرح خود زیادہ سے زیادہ دولت کما لی جائے۔ بہت سے لوگوں نے یہ دولت ملک سے باہر بھی جمع کرنی شروع کردی۔ چنانچہ کتنے ہی لوگوں کے سوئس بینکوں میں اکائونٹ ہیں۔ یورپ، امریکہ اَور دوبئی میں جائیدادیں ہیں۔ ملک کا حال یہ ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے قرض کی قسط آنے میں ذرا سی دیر ہوجائے تو ہماری ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں۔ ہمارا سانس گھٹنے لگتا ہے۔ دْوسری جانب ملک کے شہریوں نے اربوں روپے کرپٹو کرنسی میں انویسٹ کیے ہوئے ہیں۔ یہ چیز یہ بھی بتاتی ہے کہ ملک کے اَندر کس قدر حرام کمائی پائی جاتی ہے کیونکہ کرپٹو کرنسی میں حلال کے ساتھ حرام کمائی کا ایک بہت بڑا حصہ اِنویسٹ ہورہا ہے۔ کرپشن کے ذریعے لوگوں نے بے تحاشہ مال بنایا ہے۔ اْس دو نمبر مال کو حلال کرنے کے لیے مختلف طریقے اَپنائے جاتے ہیں۔ یہ سب کام یہ بتاتے ہیں کہ ہمارے شہریوں میں ملک سے محبت، وفاداری تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہرایک صرف اَپنے بارے میں سوچ رہا ہے۔ یہ حالات جس ملک میں جب بھی ہوئے، وہاں تباہی ہی آئی ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا کوئی خاص ہی کرم ہے ورنہ ہماری عادات و اطوار ہرگز اَیسی نہیں ہیں کہ ملک ترقی کرسکے۔
چنانچہ جن لوگوں کے پاس پیسہ ہے اْنھیں چاہیے کہ اَپنے علاوہ ملک کا بھی سوچنا شروع کریں۔ ہم غیر مسلموں کو جو بھی کہیں لیکن یہ سچ ہے کہ انگریز ، چینی یا امریکی کے اَندر اَپنے ملک سے بے اَندازہ محبت پائی جاتی ہے۔ اِسی محبت کی وجہ سے اِن ممالک نے ترقی کی ہے۔ جب بھی ملک نے اْن سے قربانی طلب کی، اْن لوگوں نے آگے بڑھ کر قربانی دی۔ آج تک یہی صورتِ حال ہے۔ کرپشن اْن ممالک میں بھی پائی جاتی ہے لیکن حالات یہ نہیں ہیں کہ ریڑھی والے سے لے کر اْوپر تک زیادہ تر بے اِیمان ہوں۔ لوگوں کی اخلاقی حالت ہم سے بہت بہتر ہے۔ ہر شہری اَپنے ملک کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا چاہتا ہے۔ جب تک یہ سوچ ہمارے اَندر نہیں پائی جائے گی، ہمارا ترقی کرنا ایک خواب ہی رہے گا۔