ہم سب کسی نہ کسی کہانی کے کردار ہیں۔ زندہ و جاوید کرداروں کا تسلسل جاری ہے اور ہم نے کہانی کو بچا رکھا ہے، شکلیں مختلف ہوتی جاتی ہیں مگر اسلوب ایک جیسا ہے اسی لیے کہانی مرتی نہیں کہ اس کے کردار نہیں مرتے۔ قصص الانبیا سے لے کر مقدس و معتبر حوالوں تک صرف کہانی ہی ہے جو تاریخ جیسی بے اعتبار عبارت کو بھروسہ عطا کرتی ہے۔ اک مدت سے خواہش تھی کہ عہد رفتہ پر الفاظ نچھاور کرنے والے کاش وقت موجود کو سچائی کی روشنائی دیتے مگر ایسا نہ ہو سکا سب قلم کاروں نے ماضی کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا اور حال کو مزید دھندلا کرتے چلے گئے۔ یہ بات اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے کہ ماضی کبھی اتنا شاندار نہ تھا جتنا تاریخ میں دکھایا جاتا رہا۔ طاقت ور بادشاہ سے نظریاتی اختلاف رکھنے والوں کو قتل کر کے ان کے سروں کے مینار بنانے والوں کو کیسے ہم شاندار ماضی کی تسبیح میں پرو دیں۔ کئی کئی مہینے چوراہوں پر لٹکتے سر ہمیں کیسے تاریخ سے محبت کی طرف لے جا سکتے ہیں؟ اقتدار کی خاطر باپ تک کو مروا دینے والے بیٹوں کے قصے کیسے ہمارے نصابوں میں شامل کیے گئے؟ اسلام کے روشن عہد میں اک دوسرے کے گلے کاٹنے کا دستور کس کی سوچ کا عملی ردعمل تھا؟ سب نے ماضی کو کہانی کا موضوع بنایا اور وقت حاضر کو فراموش کرتے چلے گئے۔ اک مدت بعد پندرہ کہانیاں ہمیں زمانہ موجود کی چیخیں لگیں۔ سنگ میل کے ادبی پرچم تلے ہر رنگ و زمانہ کا مواد موجود ہوتا ہے مگر پندرہ کہانیوں نے وقت حاضر کے کرداروں کو اہل شعور کے سامنے لا کھڑا کیا۔ افضال احمد اس بات پر
داد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے قلم کی قوس قزح کے سبھی رنگ ایک چھتری تلے سجا رکھے ہیں۔ جناب مستنصر حسین تارڑ نے صرف پندرہ کہانیاں ہی نہیں لکھیں بلکہ چودہ سو سال سے پروان چڑھتی تربیت کا مرثیہ تحریر کیا ہے۔ کیسے ایک روتے بلکتے بچے کے سامنے اس کی کل کائنات ماں اور زمین پر خدا کا روپ باپ ہزاروں درجہ حرارت پر لوہے کو پانی بناتی اینٹوں کے بھٹے کی آگ میں پھینکا گیا اور بچے کی چیخیں اللہ اکبر کے نعروں میں دب گئیں۔ پھر کیسے بس روک کر، ایک منظم ترتیب کے ساتھ سب کے شناختی کارڈ دیکھے گئے، نام و نسب اور عقیدے کی تسلی کی گئی اور پھر بچوں کے سامنے باپ، بیویوں کے سامنے شوہر اور درندوں کے سامنے انسانوں کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا، چودہ سو سالہ تربیت کے مجسم پیکروں نے ان لاشوں پر اٹھنے والی چیختی دھاڑیں بھی نہ سننے دیں کہ وہ وہاں بھی مقدس نعرے بلند کرتے تھے۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے نمایاں تھے۔ زمانہ حاضر کی زندہ کہانیاں لے کر وطن عزیز میں جیتے جاگتے رہنا کوئی عام بات نہیں اور اس کے لیے جناب مستنصر حسین تارڑ اور جناب افضال احمد زندگی کی دعا کے مستحق ہیں۔ ہم ایسے ردعمل سے خائف ہیں کہ کوئی ادیب جس عہد میں سانس لے رہا ہو وہ پھر اسی عہد کے ان پہلووں کو بیان بھی کرے جو تقدس کے غلافوں میں پوشیدہ رکھے جاتے ہوں۔ یہ کہانی کون لکھ رہا ہے، میں جیل کے حالات اور طاقتور رکھوالوں کا ٹرائل جس انداز میں کیا گیا پہلے کسی کہانی کا موضوع نہیں بنا۔ بے گناہوں کو کیسے پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے اور موت جیسی سزا دینے والے کیسے نیند میں ادھ کھلی آنکھوں کے ساتھ کسی بے گناہ کی زندگی سے کھیلتے ہیں۔ ایک قبیلے کو بے آسرا کرنے والے بالکل آسانی سے شراب میں دھت ہو کر یہ کھیل کھیلتے ہیں۔ کیا کسی نے ایک گونگے کی ڈائری کو موضوع بنایا؟ نہیں بنایا تو اچھا کیا کون اپنے لفظ اس پر ضائع کرے جو خود ہی ضائع ہوتا جا رہا ہو۔ اپنے محافظ کے ہاتھوں قتل ہو چکے گورنر کے قاتل پر جب قانون کا کالا کوٹ پہن کر اندر سے کالے ہو چکے وکلا نے پھول نچھاور کیے تھے، مذہبی جماعتوں نے اپنی ہی عدالتوں کے فیصلوں کا تمسخر اڑایا تھا۔ جب بہاولپور میں ایک پروفیسر کو انہی کے شاگرد نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اس درد کی دنیا سے آزاد کر دیا تھا۔ جب مردان کی یونیورسٹی میں اک ہجوم تھا جو بے گناہ پر ٹوٹا تھا اور مارو مارو کی آوازوں میں پھول جیسے بیٹے کو بوٹی بوٹی کر دیا تھا وہاں بھی اسلام زندہ باد کے نعرے تھے۔ ایک اور کہانی ڈیڑھ سو تابوتوں کا نوحہ ہے۔ چھوٹے چھوٹے تابوت جس میں معصوم پھولوں کو رکھا جانا ہے۔ ایسے تابوت جو باہر سے بے شک کھردرے ہوں مگر ان کے اندر لکڑی پر کوئی چبھنے والا کیل نہ ہو کہ ان میں پھولوں نے دفن ہونا ہے وہ پھول جن کو اللہ اکبر کے نعروں کی بازگشت میں چھلنی کیا گیا تھا۔ پھر پھولوں والی پہاڑی پر پھول اُگانے والے مٹی شناس نے اجاڑ وادی کو رنگوں سے بھر دیا تھا۔ اور اک اور کہانی میں اس عورت کا وجود تجسیم کیا گیا جو حقیقت میں تھی ہی نہیں۔ بہر حال کہانی کو موت سے بچاتی عہد حاضر کی سچی کہانیاں جنہیں زماں و مکاں میں تبدیلی کے بغیر بیان کیا گیا ہے وہ صرف مستنصر حسین تارڑ کا کمال ہے اور سنگ میل کے افضال احمد کا حوصلہ ہے کہ ان نوحوں کو اپنے شیشے کے شو کیس میں سجاتے ہیں جن کے باہر ہاتھ میں پتھر لیے بہت سے جنونی جنت کی طلب میں دنیا کو دوزخ کیے ہوئے ہیں۔