بنت بہادر شاہ ظفر سے خواجہ حسن نظامیؒ کی خانقاہ حضرت نظام الدین اولیاؒ پر ملاقات اور نسل در نسل شاہوں کی بیٹی کی روئیداد؛ یہ وہ عہد تھا جب اقتدار کی چمک دمک ماند پڑ چکی تھی اور تاج و تخت الٹنے کو تھے۔ لال قلعہ، جو کبھی شان و شوکت اور عظمت کی علامت تھا، اس وقت سناٹوں اور حسرتوں کا مسکن بن چکا تھا۔ در و دیوار گویا نوحہ کناں تھے اور سفید سنگِ مرمر سیاہ دکھائی دیتے تھے۔ فاقہ کشی کا یہ عالم تھا کہ کئی دنوں سے کسی نے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا تھا۔ میری گود میں ڈیڑھ برس کی زینت بھوک سے بلکتی تھی مگر فکر اور خوف نے ماں کے سینے کو بھی خشک کر دیا تھا۔ اس عالمِ یاس میں ہر چہرہ سوال بن چکا تھا کہ اب کیا ہو گا اور انجام کہاں جا ٹھہرے گا۔ اسی پریشانی کے عالم میں آدھی رات کو حضرت ظل سبحانی کے خاص خواجہ سرا کا پیغام آیا۔ گولوں کی گرج اور توپوں کی آوازوں کے درمیان ہم حکمِ سلطانی کی تعمیل میں حاضر ہوئے۔ بادشاہ مصلے پر تشریف فرما تھے، ہاتھ میں تسبیح اور چہرے پر عجیب سی شفقت اور درد کی آمیزش تھی۔ مجھے قریب بلا کر فرمایا کہ کلثوم اب خدا کے سپرد ہو جاؤ، شاید جدا رہنے میں ہی بقا ہو۔ ان کے الفاظ میں ایک باپ کی بے بسی اور ایک بادشاہ کی شکست بول رہی تھی۔ پھر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر ایسی دعا مانگی کہ دل کانپ اٹھا؛ دعا جس میں صرف اپنی اولاد نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے فریاد تھی۔ رات کی تاریکی میں ہم لال قلعہ سے ہمیشہ کے لیے روانہ ہوئے۔ صبح صادق کا وقت تھا، ستارے ڈوب چکے تھے مگر فجر کا ستارہ اب بھی جھلملا رہا تھا۔ محلوں پر آخری نظر ڈالی تو دل ٹوٹ سا گیا۔ آنسو ضبط سے باہر تھے۔ وہ محل، وہ زندگی، وہ عزت سب پیچھے رہ گئی۔ قافلہ مختصر تھا مگر غموں کا بوجھ بے حد۔ چند دن کی عارضی پناہ کے بعد لوٹ مار، ذلت اور بھوک نے ہمیں آ گھیرا۔ زیور، کپڑے، سب چھن گیا۔ عورتوں کے ہاتھوں کی بدبو اور بے رحمی آج بھی روح میں اتر جاتی ہے۔ اسی عالم میں ایک زمیندار بستی خدا کا فرشتہ بن کر سامنے آیا۔ اس نے پانی پلایا، بہن کہہ کر پکارا اور بیل گاڑی میں بٹھا لیا۔ مگر جہاں امید بندھی، وہاں مایوسی نے بھی ڈیرے ڈال دئیے۔ میر فیض علی جیسے قریبی تعلق داروں نے بھی پناہ دینے سے انکار کر دیا۔ ہر طرف خوف تھا، انگریزی فوج کا، مخبروں کا، اور بھوک کا۔ مگر بستی آخر تک ساتھ نبھاتا رہا اور یہی انسانیت کا اصل چہرہ تھا۔ راستے میں جنگ کا سماں، جلتے کھیت، بھاگتے قدم، ننگے سر، زخمی پاؤں اور پیاس سے بے حال جسم یہ سب زندگی کی تلخ ترین تصویریں تھیں۔ زینت بے ہوشی کے عالم میں تھی اور ہم سب تقدیر کے رحم و کرم پر۔ اسی دوران نور محل کو خواب میں بادشاہ نظر آئے، زنجیروں میں جکڑے ہوئے، مگر صبر اور حوصلے کی تلقین کرتے ہوئے۔ یہ خواب نہیں تھا، شاید آنے والے سچ کی جھلک تھی۔ آخرکار حیدرآباد میں عارضی سکون نصیب ہوا مگر غربت کا سایہ یہاں بھی نہ چھٹا۔ زیورات بیچے گئے، خوشنویسی کے سہارے گزارا ہونے لگا۔ پھر وہ دن بھی آیا جب ایک نواب کے گھر معمولی ملازم کی حیثیت سے قرآن پڑھانے جانا پڑا۔ کل کے حکمران آج دوسروں کے رحم و کرم پر تھے۔ یہ وقت انسان کو اس کی اصل حقیقت دکھا دیتا ہے۔ اسی اثنا میں اہلِ دل نے خبر لی۔ میاں نظام الدین صاحب کی آمد نے ماضی اور حال کا فرق واضح کر دیا۔ وہ شان و شوکت جو کبھی تھی، اب مٹی میں مل چکی تھی۔ مگر انہی کے ذریعے حج کا انتظام ہوا اور ہم مکہ مکرمہ پہنچے۔ وہاں ایک آزاد کردہ غلام عبدالقادر نے پناہ دی، عزت دی اور آنسوؤں سے استقبال کیا۔ یہ منظر اس بات کی گواہی تھا کہ اصل رشتے خون سے نہیں، احسان اور انسانیت سے بنتے ہیں۔ مکہ، بغداد، نجف اور کربلا میں برسوں گزرے۔ درویشی کی زندگی، مگر سکونِ قلب کے ساتھ۔ آخرکار دل دہلی کو کھینچ لایا۔ وہاں انگریز سرکار نے دس روپے ماہانہ پنشن مقرر کی۔ ابتدا میں یہ رقم زخم بن کر لگی، مگر پھر شعور نے سمجھایا کہ ملک خدا کا ہوتا ہے، وہی دیتا ہے، وہی چھین لیتا ہے۔ انسان محض ایک مسافر ہے، جسے ہر حال میں صبر اور شکر کے ساتھ سفر طے کرنا ہوتا ہے۔ یہ داستان صرف ایک خاندان کے زوال کی نہیں، بلکہ وقت کی بے رحمی، اقتدار کی ناپائیداری اور انسانیت کی اصل قدر کی گواہی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ تاج و تخت عارضی ہیں، اصل دولت صبر، ایمان اور انسانیت ہے، جو ہر زوال کے بعد بھی انسان کو زندہ رکھتی ہے۔