فیصل آباد: پاکستان کے زرعی ماہرین نے پولٹری فارمنگ کے شعبے میں ایک نیا سنگِ میل عبور کیا ہے اور ایک نئی مرغی کی نسل تیار کی ہے جو سال بھر میں 200 سے زائد انڈے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین نے اس نسل کا نام ’’یونی گولڈ‘‘ رکھا ہے، جو کم فیڈ پر پلتی ہے اور شدید موسمی حالات میں بھی بہترین پیداوار فراہم کرتی ہے۔
یونی گولڈ مرغی کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ عام دیسی مرغی کے مقابلے میں تین گنا زیادہ انڈے دیتی ہے، اور اس کی خوراک کی ضرورت بھی کم ہوتی ہے، جس سے چھوٹے فارمرز کو زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یونی گولڈ بریڈ دیہی علاقوں میں پولٹری کی صنعت کے لیے ایک اہم تبدیلی لا سکتی ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف انڈوں کی پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے بلکہ گوشت کی ضروریات بھی پوری کی جا سکتی ہیں۔
اس کامیابی کو پاکستان میں گزشتہ 60 سالوں میں ایک اہم تحقیقاتی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جو ملکی پولٹری صنعت کے لیے نیا دروازہ کھول سکتی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس نسل کو ملک بھر میں فروغ دینے کا منصوبہ تیار کیا ہے تاکہ مقامی سطح پر پولٹری کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔
یونی گولڈ مرغی نہ صرف دیہی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اہم ہے بلکہ یہ دیہی خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ اس کی دیکھ بھال سادہ اور کم لاگت ہے۔