Wed, September 16, 2026

پاک افغان تعلقات میں پیش رفت

پاک افغان تعلقات میں پیش رفت

 عشروں سے نشیب وفرازکا شکار پاک افغان تعلقات میںکچھ پیش رفت ہونے لگی ہے مگر اِس کے اثرات کے عارضی یا مستقل ہونے بارے وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے دونوں طرف بدگمانیوں کی طویل تاریخ ہے تعلقات بہتر بنانے کی پاکستان توپھر بھی اپنی سی کوششیں کرتارہتا ہے لیکن عوام کی ضروریات کے برعکس افغان حکومت ایسی کوششوں کو ثمربار نہیں ہونے دیتی اور بھارت جیسے ممالک پر انحصار کرتی ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے گھر میں لگی آگ بجھانے کے لیے دوردراز سے پانی لانے کے لیے طویل ترین سفر شروع کر دیا جائے۔
 دراصل افغان اشرافیہ کی دلچسپی کا محورعوام نہیں دولت ہے بیرونی افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے جب اگست 2021کو کابل کا اقتدار حاصل کیا تب افغانستان کے ذرائع آمدن محدود تھے لیکن اِس لیے کسی خاص پریشانی کا سامنا نہ ہوا کہ امریکی حکومت نے افغان کرنسی ڈالرکے عوض خریدنا شروع کردی اِس طرح طالبان کی ضروریات تو باآسانی پوری ہونے لگیںمگروہ ہمسایہ ممالک کی ضرورت و اہمیت سے بے نیاز ہو گئے مزید یہ کہ بھارت نے بھی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے افغانستان سے مالی تعاون بڑھا دیا پاکستان میں دہشت گردی اسی تعاون کا شاخسانہ ہے بھارت افغان گٹھ جوڑ کے متعلق جب پاکستان نے ٹھوس شواہد طالبان کو پیش کر دیئے تو جواب میں حیران کُن طورپر سردمہری اور بے نیازی کا مظاہرہ کیا گیایوں دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوتے گئے پاکستان نے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی کے طورپر محمد صادق کا تقررکیا تاکہ اختلافات کا کوئی قابلِ قبول حل تلاش کیا جا سکے مگر سنجیدہ کوششوں کابھی طالبان نے کبھی مثبت جواب نہ دیا ٹی ٹی پی اور خراسان جیسے گروہوں کی سرحد پار کارروائیوں میں اضافے نے دونوں ہمسایہ ممالک کو ایک دوسرے سے دور کر دیا اسحاق ڈارکادورہ حل طلب امورکے حوالے سے اہم سنگِ میل ثابت سکتا ہے۔ 
 افغان اشرافیہ کی پہلی ترجیح دولت ہے اِس کے لیے وہ ہر حد تک جا سکتی ہے مگررواں برس جنوری سے صدرکا منصب سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے غیرضروری بیرونی اخراجات ختم کرنے کا جوسلسلہ شروع کیا ہے اِس کی زَد میں افغانستان بھی آ چکا ہے اب مفت ڈالر ملنے کی اُمیدختم ہو چکی واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے طالبان کوہمسایہ ممالک کی اہمیت محسوس ہوئی اور وہ پاکستان سے بدگمانیاں ختم کرناچاہتے ہیں اگر دونوں ممالک تعاون کی روش پر چل نکلتے ہیں توتجارتی و معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گاجودونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ 
پاک افغان دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت نہ صرف خطے میں امن و استحکام کے ناگزیر ہے بلکہ اِس طرح دیرینہ مسائل غیر ریاستی بُرے عناصرکا بھی خاتمہ کیا جا سکتا ہے نمائندہ خصوصی صادق خان کی کوششوں سے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا دورہ کابل ممکن ہوا یہ گزشتہ چار برس کے بعد کسی اعلیٰ پاکستانی شخصیت کاپہلا دورہ ہے طالبان وسائل کی کمی کا شکار ہیں اب جبکہ ایران اور پاکستان دونوں افغان مہاجرین کو واپس وطن بھیجنے میں مصروف ہیں یہ واپس آنے والے شہری وسائل پر الگ بوجھ ہوں گے طالبان کی کوشش ہے کہ مہاجرین کو بے دخل کرنے میں نرمی کی جائے مگریہ تبھی ممکن ہے جب طالبان بھی ہمسائیگی کے فرائض ادا کریں اور مہاجرین جائے پناہ فراہم کرنے والے ممالک کے لیے امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے سے گریز کریں۔
اِ س میں کوئی ابہام نہیں کہ افغان سرزمین دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے اورامریکی اسلحہ دہشت گردوں کے استعمال میں ہے سرحد پار دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے طالبان کا تعاون بہت اہم ہے بیرونی وسائل کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد طالبان کے لیے ہمسایہ ممالک کا تعاون حاصل کرنا ضروری ہے اگر پاکستان کے لیے افغانستان اہم ہے تو افغانستان کے لیے پاکستان اہم ترین ہے دونوں ایک دوسرے کی مارکیٹوں کی ضروریات سمجھتے ہیں دونوں کی جغرافیائی قربت تجارت کو آسان اور سستا بناتی ہے لیکن نقل وحمل کے اخراجات میں کمی اور ثقافتی قربت کاتبھی فائدہ ہوگا جب تصفیہ طلب مسائل کا خاتمہ اور باہمی اعتماد میں اضافہ ہوجس کا فی الوقت فقدان ہے طالبان کی عالمی سطح پر قبولیت بھی پاکستان کے سفارتی تعاون کے بغیربہت مشکل ہے۔
افغانستان میں پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بلوچ علیحدگی پسندوں اور کے پی کے میں سرگرم شدت پسندوں کو مہمان کا درجہ حاصل ہے جن کی پاکستان حوالگی چاہتا ہے مگر طالبان کا اِس حوالے سے رویہ عدم تعاون پر مبنی ہے یہ درست ہے کہ بلوچ علیحدگی پسندوں اور کے پی کے میں سرگرم شدت پسندوں کے افغان و ایران سرحدی علاقوں میںٹھکانے ہیں جہاں طالبان کا کنٹرول کمزور ہے لیکن ایران اور پاکستان سے مل کر وہ خطے میں امن کے لیے خطرہ بننے والوں پر قابو پا سکتے ہیںاِس طرح نہ صرف امن کی بحال ہوگابلکہ طالبان کا افغانستان پر کنٹرول بھی مستحکم ہو سکتاہے اِس لیے کہہ سکتے ہیں کہ اسحاق ڈار کی طرف سے علیحدگی پسندوں اور شدت پسندوں کی حوالگی کا مطالبہ پوراکرنا دراصل طالبان کے اپنے بھی مفاد میں ہے ۔
عیاں حقیقت یہ ہے کہ اقتدارکے لیے طالبان میں دھڑے بندی ہے جس سے نظریاتی اور علاقائی اختلافات کی عکاسی ہوتی ہے یہ اختلافات سیاسی اور انتظامی ترجیحات تک وسیع ہیں جولائی 2022میں پاکستان نے علماکا ایسا وفد بھیجا جو طالبان کے لیے اساتذہ کی طرح تھے تاکہ کابل میں اقتدار کی رسہ کشی اور سرحدپاردہشت گردی کا خاتمہ ہولیکن وعدوں پر عمل نہ ہوسکا دھڑے بندی کی وجہ سے ایک گروہ کامعاہدہ دوسرے کی ضد بن جاتا ہے اب بھی اسحاق ڈار کے دورے سے بڑی توقعات وابستہ کرنا درست نہیں کیونکہ طالبان کے داخلی اختلافات جامع اور قابل عمل طریقہ کار بنانے میں رکاوٹ ہیں مگر صبر اور حکمت کے ساتھ افغانستان سے تعلقات بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور مشترکہ خوشحالی کے لیے کوششیں نتیجہ خیز ہوں اسحاق ڈار کی عبوری وزیرِ اعظم ملا محمد حسن اخونداور عبوری وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے ملاقاتیں ظاہر کرتی ہیں کہ افغانستان سے تصفیہ طلب امور کا حل تلاش ممکن ہے طالبان کوباورکرانے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی سے صرف معاشی بدحالی اوربے روزگاری میں اضافہ ہوتاہے اگر امریکہ اور نیٹو کے فوجی سازوسامان کودہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگنے دیںاورغیر ریاستی بُرے عناصر کوافغانستان میںحاصل محفوظ ٹھکانے ختم کردیں تو دہشت گردی پر قابو پانے کے ساتھ طویل اور غیرمحفوظ بنائی جاسکتی ہیں ایسا تبھی ممکن ہے جب آمدورفت کا ٹھوس طریقہ کار وضع کیا جائے باعثِ اطمینان امریہ ہے کہ دورے کے دوران دونوں ممالک نے مذاکرات جاری رکھنے اتفاق کیا دیگر اہم اور حساس پہلوئوں پر بھی بات چیت ہوئی جس سے خطے کی سلامتی کے لیے مستقبل میں مشترکہ کوششوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ٹیگز: