Wed, September 16, 2026

’’بی ایل اے کا دشت میں ناکام خود کش حملہ!حقیقت کیا ہے؟‘‘

’’بی ایل اے کا دشت میں ناکام خود کش حملہ!حقیقت کیا ہے؟‘‘

بھارت نے ’’معرکہ حق آپریشن بنیان مرصوص‘‘ میں پاکستان سے اپنی ذلت آمیز شکست کا بدلہ لینے کیلئے بلوچستان میں اپنی پراکسی تنظیموں جن میں خصوصاً بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ(بی ایل ایف)سر فہرست ہیں، کو بھاری فنڈنگ اور ہتھیار فراہم کیے ،تاکہ بلوچستان میںدہشت گردی کی آگ مزید بھڑکائی جائے اور ملک میں عدم استحکام پیدا کیا جاسکے ،اس منصوبہ بندی کے تحت عام شہریوں اورغیر مقامی افراد خصوصاً پنجابی مزدوروں کی ٹارگٹ کلنگ، سکیورٹی فورسز پر حملوں کی کوشش ،بھتہ خوری اغواء برائے تاوان اور مقامی ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ سکیورٹی فورسزکی جوابی کاروائیوں میں بھارتی اسپانسرڈ تنظیموں کے بڑے بڑے کمانڈرز اور درجنوں دہشت گردوں کو جہنم رسید کیا گیا۔ 16 ستمبر 2025 کو ضلع کیچ کے علاقے دشت میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک کامیاب آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیم بی ایل ایف کے 2دہشت گردوں کوجن میں تنظیم کا ایک اہم کمانڈر عتیق میران شامل ہے، کو جہنم رسید کیا اور ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ،باردو اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمدکیا۔ عتیق میران جنوبی بلوچستان میںانتہائی سرگرم رہا ،جوکنڈان ،صبدان ،دشت ،کیچ،مند ،گوادر،تمپ ،بلیدہ ،تربت اور شیر بندی کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی پوسٹوں پر حملوں ،کیپٹن وقار کاکٹر کی شہادت ،اسسٹنٹ کمشنر تمپ کے اغواء ،عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھا۔جبکہ دوسرا دہشت گرد شیھک آشوب ،جوکہ ایک طالب علم اور نشہ کا عادی تھا۔ مورخہ 18ستمبر2025ء کو فتنہ الہندوستان کی پراکسی بی ایل اے کے خود کش ونگ کالعدم (مجید بریگیڈ) کے تین دہشت گردوں نے اپنی اتحادی تنظیم بی ایل ایف کے دہشت گرد عتیق میران اور شیھک آشوب کابدلہ لینے کیلئے کیچ کے علاقے دشت کنچتی میں سول آبادی کے قریب شاہراہ ایم8-پر ایک بزدلانہ حملے کی کوشش کی ،جس کا ہدف سیکیورٹی فورسزکی گاڑی تھی ،حملہ آور الطاف عرف چاکر نے خود کو دھماکے میں اُڑا دیا۔ دھماکے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز کے دستے موقع پر پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر بھرپور جوابی کاروائی کی ،جس کے نتیجے میں باقی دو حملہ آور گہرام عرف زگرین اور خلیل عرف کلیمرجہنم واصل ہوئے، ویڈیو میں ان کی لاشیں واضح طورپر دیکھی جاسکتی ہیں۔اس ذلت آمیز پسپائی کے بعد بی ایل اے نے حسب روایت اپنی طویل ترین افسانوی اور من گھڑت پریس ریلیز میں اس حملے کوایک کامیاب فدائی کاروائی قرار دیتے ہوئے اپنے دہشت گردوں کو ہیرو بناکر پیش کیا جبکہ حقائق ان کے بالکل برعکس ہیں ،اس ناکام حملے میں خود کش حملہ آور الطاف عرف چاکر ولد عبدالرحمن ،بلیدہ کے علاقے الندور کا رہائشی اور ایک پسماندہ گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ،جو نہایت کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں، اس کا والد کئی بیماریوں میں مبتلا ہے اور چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہے ،اس کے چار بھائی ہیں اور سب کے سب منشیات کے عادی ہیں ،ان کا ایک بھائی نشے کی زیادتی کے باعث جان کی بازی ہارچکا ہے ،جبکہ خود الطاف بھی بھاری نشہ آور اشیاء اور آئس کا عادی تھا ،اور اہم بات یہ ہے کہ اس کے والدین اور عزیز واقارب نے اس کی مشکوک سرگرمیوں کی وجہ سے اس سے لاتعلقی کا اعلان کررکھا تھا۔ 2023 میں اپنے نشے کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے نشئیوں کے گروہ بی ایل اے میں شامل ہوا ،اسی طرح گہرام عرف زگرین ولد فاروق پنجگور کے علاقے پروم ،لگاروک کا رہائشی تھا اور وہ بھی الطاف کی طرح نشے کا عادی تھا جبکہ خلیل عرف کلمیر ولد فضل تربت کے علاقے سامی ،بلوچی بازار کا رہائشی تھا اور یہ بھی منشیات کی سمگلنگ اور دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث تھا،ان تینوں نے 2023میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی ۔یہ ہے ان نام نہاد سرمچاروں اور فدائین کی حقیقت اور اصلیت۔ اسلام میں ہر قسم کی نشہ آور اشیاء کو حرام قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کے استعمال کے بعد انسان اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھتا ہے، اسلام میںایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے ۔اب ذرہ سوچیے کہ کیا ایک نشے کا عادی سرمچار ہوسکتا ہے؟کیا بے گناہ انسانوں کا قاتل کبھی بلوچ عوام کا محافظ اور خیر خواہ ہو سکتا ہے؟ یہ سفاک درندے اور حیوان ہیں جو اپنے معمولی سے نشے کیلئے نہتے اور معصوم افراد کا خون بہاتے ہیں ،یہ کسی بھی صورت انسان کہلانے کے حق دار نہیں ہیں۔ بھارت نے اپنی پراکسی کی اس پسپائی کو چھپانے کیلئے عالمی سطح پر شور مچایا تاکہ بی ایل اے کو ’’مزاحمتی تحریک‘‘کے طور پر پیش کرکے اس کی دہشت گردی کو بلوچ آزادی کی لڑائی سے جوڑکر اس خونریزی کا جواز پیش کیا جاسکے۔حسب عادت بھارتی میڈیا نے اس ناکام حملے کو جھوٹے پراپیگنڈے اور جعلی اعداد وشمار کے ذریعے بڑھا چڑھا کر پیش کرکے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ مگر اس بار بھی بھارت کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا واضح رہے کہ امریکہ نے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر بی ایل اے کے ’’مجید بریگیڈ ‘‘کو کالعدم قرار دیا ہے۔ خود امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘نے بھارت کی دہشت گردی کے نیٹ ورک کا پول کھولا۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گرد ی کی کاروائیوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے ،امریکی اخبار کے مطابق 2014ء میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دول نے کہا تھا کہ پاکستان پر حملہ کرنا غیر حقیقی ہے لیکن ہم اپنے مقاصد کے حصول کیلئے خفیہ ذرائع استعمال کرسکتے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل برطانوی اخبار ’’دی گارڈین‘‘کی رپورٹ میں بھی بھارت کیخلاف دیگر ممالک میں خفیہ کاروائیوں کے دوران شہریوں کو قتل کرنے کا انکشاف کیا جاچکا ہے۔ ’’دی گارڈین‘‘کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت 2020سے اب تک پاکستان میں اپنے اجرتی قاتلوں کے ہاتھوں متعدد پاکستانیوں کو قتل کرواچکا ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ بھارت بلوچستان میں تمام کالعدم تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے اوران کے سرغنوںکو علاج کی سہولتیں بھی مہیا کی جاتی ہیں ۔یاد رہے کہ 2016میں بی ایل اے کا سرغنہ اسلم عرف اچھو ،عبدالحمید کے نام سے جعلی افغان پاسپورٹ پر بھارت گیا ،جہاں اس نے ’’را‘‘ کے اہلکاروں سے ملاقات اور دہلی کے ہسپتال میں زیر علاج بھی رہا ۔

ٹیگز: