Wed, September 16, 2026

اڑان پاکستان۔۔۔ خواب سے حقیت کا سفر

اڑان پاکستان۔۔۔ خواب سے حقیت کا سفر

اقوام عالم پر نظر کریں تو واضح ہو گا جن ممالک نے ترقی کی اور اپنی عوام کا معیار زندگی بلند کیا اس کے پیچھے فقط ایک ہی عنصر ایسا تھا جس کی بنیاد پر ملکی تعمیر و ترقی کے یہ زینے طے کیے گئے اور یہ عنصر مضبوط بنیادوں پر کی گئی منصوبہ بندی تھا اور اس کے اہداف تھے جو مختلف شعبہ ہائے زندگی مستقل مزاجی، ایمانداری، ملکی قوانین پر عمداری و پاسداری مسلسل محنت کے بعد حاصل کیے گئے۔ قیام پاکستان کے بعد اس ملک میں کبھی پارلیمانی، کبھی صدارتی، کبھی مارشل لا، کبھی صورت حکومتیں وجود میں آتی رہیں اور اپنے تئیں ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں۔ کچھ منصوبے جیسا کہ کالا باغ ڈیم صوبوں میں اختلافات کی نذر ہو گئے، اس منصوبے پر باہمی ہم آہنگی پر اتفاق نہ سکا، حکومتیں سیاسی یا پھر جمہوری عمل سے گزرے بغیر تشکیل پاتی رہیں، لیکن مستحکم جمہوری حکومتوں کا دورانیہ کم رہا یا پھر کسی طریقے سے کم کر دیا جاتا رہا، غیر مستحکم جمہوری عمل نے ملک کے ہر شعبے کو متاثر کیا، تعمیر و ترقی کا عمل سست روی کا شکار رہا، اندرونی و بیرونی خلفشار، دہشت گردی، لا اینڈ آڈر، روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کی صورتحال نے قوم کوبحیثیت مجموعی ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا، ڈھیروں مسائل کی موجودگی میں موجودہ وفاقی حکومت نظام و نسق اپنے ہاتھ لیا، وفاقی کابینہ تشکیل دی تو منصوبہ بندی جو کہ ملکی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کی وزارت تجربہ کار، سیاستدان پروفیسر احسن اقبال کے ہاتھ آ گئی جنہوں نے شب و روز کی محنت اور جانفشانی سے اڑان پاکستان کا منصوبہ متعارف کرایا، وفاقی وزیر احسن اقبال نے جتنی محنت سے اس منصوبے کو بنایا اگر اس پر عملدرآمد کرا دیا تو بات دعویٰ سے کی جا سکتی ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کو عالمی سطح پر صف اول کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار کیا جائے گا، اور اس کا کریڈٹ بلا شبہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے ذہین ترین پروفیسر احسن اقبال کو جائے گا، بنیادی طور اڑان پاکستان منصوبہ 5Es پر مشتمل ہے یعنی ایکسپورٹ، ای۔ پاکستان، انوائرمنٹ، انرجی، ایکوالٹی اینڈ ایمپاورمنٹ۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد پاکستانی معیشت کو 2035 ء تک ایک کھرب اور 2047 ء تک تین کھرب ڈالر تک لے جانا ہے، پاکستانی برآمدات کو 60 بلین ڈالر تک لے جانا ہے۔ سب اہم مسئلہ پانی کے ذخائر کو اس منصوبے کے تحت دس ملین ایکڑ تک بڑھانا اور اس کے ساتھ جنگلات کے شعبہ میں ترقی، سر کلر ڈیٹ میں واضح کمی، نوجوانوں اور خواتین کے لیے ملازمتوں کا بندوبست، شرح خواندگی کو دس فیصد تک بڑھانا، خواتین کی افرادی قوت کو سترہ فیصد تک بڑھانا اور سرمایہ کاری کے محفوظ مواقع فراہم کرنا۔ 2035ء تک ان تما م اہداف کو حاصل کرنے کی صورت میں ہی ایک کھرب ڈالر تک معاشی ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اڑان پاکستان منصوبے کو عملی جامہ پہنانے اور پاکستان کو اقوام عالم میں سر بلند مقام سے سرفراز کرانے میں کامیاب رہیں گے۔ دعا ہے پاکستان میں جمہوریت کا سفر یونہی جاری و ساری رہے اور اڑان پاکستان منصوبہ احسن اقبال کی رہنمائی میں کامیابی سے ہمکنار ہو۔ آخر میں ایک تجویز کہ اس پروگرام کو تعلیمی اداروں خصوصاً کالجز، یونیورسٹیوں میں طلبا و طالبات میں آگاہی مہم کانفرنسز، ورکشاپس، واکس کے ذریعے عام کیا جائے تاکہ اس منصوبے کی اہمیت و افادیت سے نوجوان نسل واقفیت حاصل کرے۔ امید ہے کہ دیگر وزارتیں بھی احسن اقبال کی تقلید کرتے ہوئے اڑان پاکستان ایسے انقلابی منصوبوں پر کام کا آغاز کرتی نظر آئیں گی۔ ان شاء اللہ

ٹیگز: