روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا دو روزہ دورئہ چین ایک معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں تھی بلکہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست، نئی اقتصادی صف بندیوں اور دفاعی اتحادوں کے تناظر میں ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا بیک وقت یوکرین جنگ، امریکہ۔ایران کشیدگی، توانائی بحران، تجارتی جنگوں اور عالمی طاقتوں کے نئے توازن سے گزر رہی ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ اور پیوٹن کی ملاقات اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بیجنگ اور ماسکو نہ صرف باہمی تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ عالمی نظام میں مغربی اثرورسوخ کے مقابل متبادل طاقت کے طور پر بھی ابھرنا چاہتے ہیں۔ یہ دورہ اس لحاظ سے بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ چین کے فوراً بعد ہوا ہے۔ چین اس وقت دنیا کی بڑی سفارتی طاقت کے طور پر سامنے آ رہا ہے جہاں ایک طرف امریکہ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو دوسری طرف روس اپنے سٹریٹجک شراکت دار چین کے ساتھ مزید گہرے روابط قائم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
روس اور چین کے تعلقات گزشتہ تین دہائیوں میں مسلسل مضبوط ہوئے ہیں لیکن یوکرین جنگ کے دوران ان تعلقات میں نئی شدت پیدا ہوئی۔ مغربی پابندیوں کے باعث روس کو اپنی معیشت کیلئے نئی منڈیاں، توانائی خریدار اور مالیاتی راستے درکار تھے، جبکہ چین کو امریکہ کے بڑھتے ہوئے دباو¿ کے مقابل ایک طاقتور اتحادی کی ضرورت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی، تجارت، دفاع، ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبوں میں تعاون کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ چین اس وقت روسی تیل اور گیس کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے۔ یوں روس چین کو سستی توانائی فراہم کر کے اپنی معیشت مستحکم کر رہا ہے۔
پیوٹن کے حالیہ دورہ چین کی سب سے بڑی اقتصادی اہمیت یہ ہے کہ دونوں ممالک امریکی ڈالر کی بالادستی کو چیلنج کر رہے ہیں۔ روس پہلے ہی مغربی بینکاری نظام سے بڑی حد تک الگ ہو چکا ہے اور اب چین کے ساتھ مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھا رہا ہے۔ یہ پیش رفت مستقبل میں عالمی مالیاتی نظام میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ چین کی “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” اور روس کے یوریشین اکنامک وڑن کو جوڑنے کی کوششیں بھی اس ملاقات کا اہم حصہ رہیں۔ یہ تعاون مزید گہرا ہوتا ہے تو یوریشیا میں ایک نئے اقتصادی بلاک کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے جو مغربی معیشتوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن جائے گی۔
دفاعی اور عسکری اعتبار سے بھی یہ دورہ انتہائی اہم ہے۔ روس اور چین مشترکہ فوجی مشقوں، میزائل ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور خلائی تعاون کو مسلسل فروغ دے رہے ہیں۔ امریکہ اور نیٹو کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے مقابل روس اور چین اپنے دفاعی اتحاد کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ بحرالکاہل، جنوبی چین کے سمندر اور آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران روس اور چین کا عسکری تعاون مغربی دنیا کیلئے تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ پیوٹن کے دورہ چین کا بڑا مقصد یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کی سفارتی تنہائی کو کم کرنا بھی تھا۔ مغربی ممالک کی کوشش رہی ہے کہ روس کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیا جائے لیکن چین مسلسل روس کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ چین نے بظاہر یوکرین جنگ میں غیرجانبداری اختیار کر رکھی ہے تاہم چین کی اقتصادی اور سفارتی حمایت نے روس کو جنگ جاری رکھنے میں مدد دی ہے۔
اسی طرح امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی ماحول بھی اس دورے کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔ چین اور روس دونوں ایران کے اہم اتحادی تصور کیے جاتے ہیں۔ امریکہ کی ایران پالیسی، خلیج میں بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے معاملات نے ماسکو اور بیجنگ کو ایک دوسرے کے مزید قریب کر دیا ہے۔ روس اور چین دونوں ایران کے معاملے پر محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ براہِ راست جنگ میں کودنے سے گریز کر رہے ہیں لیکن سفارتی، اقتصادی اور محدود انٹیلی جنس تعاون کے ذریعے تہران کی حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
چین کیلئے مشرق وسطیٰ میں استحکام اس لیے ضروری ہے کیونکہ اسکی معیشت بڑی حد تک خلیجی تیل پر بھی انحصار کرتی ہے۔ اسی لیے چین امریکہ اور ایران کے درمیان مکمل جنگ نہیں چاہتا۔ روس بھی یوکرین جنگ میں پہلے ہی بری طرح الجھا ہوا ہے، اس لیے وہ ایک نئی براہِ راست جنگی محاذ آرائی سے بچنا چاہتا ہے۔ تاہم روس اور چین امریکہ کو یہ پیغام ضرور دینا چاہتے ہیں کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی اور عالمی فیصلے صرف واشنگٹن کی مرضی سے نہیں ہوں گے۔
اس دورے کا ایک اہم پہلو عالمی طاقتوں کے نئے بلاکس کی تشکیل بھی ہے۔ امریکہ، یورپ، جاپان اور نیٹو ایک جانب ہیں جبکہ دوسری جانب چین، روس، ایران اور بعض دیگر ممالک نئی صف بندیوں کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ برکس تنظیم کی توسیع، شنگھائی تعاون تنظیم کی بڑھتی اہمیت اور مغرب مخالف اقتصادی تعاون اسی بڑی تبدیلی کا حصہ ہیں۔ جنوبی ایشیا کے تناظر میں بھی یہ دورہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان، چین کا قریبی اتحادی اور روس کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات رکھنے والا ملک ہے۔ اگر چین اور روس کا اتحاد مزید مضبوط ہوتا ہے تو اسکے اثرات جنوبی ایشیا، افغانستان، وسط ایشیا اور بحرہند کی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال اقتصادی مواقع کے ساتھ ساتھ سفارتی توازن کا نیا موقع بھی بن سکتی ہے۔
پیوٹن کا دورئہ چین صرف دو رہنماو¿ں کی ملاقات نہیں تھی بلکہ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے نقشے کی ایک بڑی علامت تھی۔ دنیا تیزی سے ایک نئے کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں چین اور روس مغربی بالادستی کو چیلنج کرنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ اتحاد مکمل فوجی اتحاد کی شکل اختیار نہیں کر سکا، لیکن اقتصادی، سفارتی اور دفاعی تعاون کی موجودہ رفتار مستقبل میں عالمی طاقتوں کے توازن کو بڑی حد تک تبدیل کر سکتی ہے۔ پیوٹن کا یہ دورہ نہ صرف روس اور چین کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ یوکرین جنگ، ایران بحران اور امریکہ کے عالمی کردار کے تناظر میں بھی دور رس اثرات مرتب کرے گا۔ آنے والے برسوں میں یہی تعلقات عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے نئے اصول متعین کرتے دکھائی دے سکتے ہیں۔