Wed, September 16, 2026

کوڑوں کی زد میں افغان معاشرہ: ایک سالہ عبرتناک اعداد و شمار، جسمانی سزاؤں کے نفاذ میں غیر معمولی اضافہ

 کوڑوں کی زد میں افغان معاشرہ: ایک سالہ عبرتناک اعداد و شمار، جسمانی سزاؤں کے نفاذ میں غیر معمولی اضافہ

کابل :افغانستان میں طالبان کے عدالتی نظام کے تحت جسمانی سزاؤں کے نفاذ میں ہولناک تیزی آئی ہے۔ 'آمو ٹی وی' کی جانب سے مرتب کردہ تازہ ترین اعداد و شمار اور طالبان کی سپریم کورٹ کے بیانات کے مطابق، گزشتہ ایک شمسی سال (مارچ 2025 سے مارچ 2026) کے دوران ملک بھر میں 1,186 افراد کو سرِعام کوڑے مارے گئے۔
 ان سزاؤں کی زد میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی آئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران تقریباً 100 خواتین کو مختلف الزامات کے تحت عوامی مقامات پر کوڑے مارے گئے۔ طالبان نے "نظام کے خلاف پروپیگنڈا" اور قیادت پر تنقید کو بھی کوڑوں کی سزا سے جوڑ دیا ہے۔ صوبہ کاپیسا اور بادغیس میں شہریوں کو طالبان کے امیر کی توہین اور تنقید پر 39 کوڑوں کے ساتھ ساتھ طویل قید کی سزائیں دی گئیں۔
 کوڑے مارنے کی یہ سزائیں کسی ایک علاقے تک محدود نہیں تھیں، بلکہ کابل، ہرات، قندھار، بلخ اور ننگرہار سمیت افغانستان کے تمام 34 صوبوں میں ان کا نفاذ کیا گیا۔ ان سزاؤں کا مقصد معاشرے میں خوف پیدا کرنا ہے۔ اکثر مقامات پر کوڑے مارنے کی کارروائیاں سپورٹس اسٹیڈیمز یا عوامی چوکوں میں ہزاروں افراد اور بچوں کے سامنے کی گئیں۔انسانی حقوق کے محققین اور عالمی مبصرین نے ان سزاؤں کو انسانی حقوق کے عالمی معیارات کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "کوڑا انصاف" نہ صرف شہریوں کی جسمانی تذلیل ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت تشدد  کے زمرے میں آتا ہے۔ دوسری جانب، طالبان حکام ان اقدامات کو "شرعی حدود" کا نام دے کر ان کا دفاع کر رہے ہیں۔

ٹیگز: