کہا جاتا ہے کہ تعلیم اور تفریح ساتھ ساتھ ہونی چاہئے، کھیلنے کا مزہ بھی تب آتا ہے جب پڑھائی کے بعد تھک گئے ہوں تو یقینا اس وقت کھیلنے کا جی چاہے گا، جبکہ یہ بھی درست ہے کہ ہر وقت کھیلنے کو بھی جی نہیں چاہتا،ایسے کھیل کو کھیل نہیں کہا جا سکتا جس میں پورا جسم حرکت میں نہ آئے، مثال کے طور پر لڈو کیرم بورڈ، موبائل جو بھی بیٹھنے والے کھیل ہیں جس میں صرف اور صرف ذہن کا استعمال ہو، کھیل وہی اچھے جس سے جسمانی نشوونما ہو کھیل انسانی جسم کو فٹ رکھتے ہیں، اس کے علاوہ کھیلوں سے آدمی سیکھتا ہے کہ کس طرح شکست کو برداشت کرنا ہے اور دوبارہ کیسے اٹھنا ہے، کھیل صرف تفریح کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ جسم کو چاق و چوبند اور صحت مند بنانے کا بھی ذریعہ ہے۔ سپورٹس مین کو صحت مند جسم اور مثبت رویہ ملتا ہے۔ کھیلوں کی تربیت کے پانچ درجے ہیں قوت برداشت، رفتار، طاقت، مہارت اور روح لیکن ان میں سب سے بڑی روح ہے لیکن حالیہ ورلڈ کپ کے فائنل میں جب سپین کی ٹیم کی جیت کا اعلان ہوا توارجنٹائن کے کھلا ڑیوں اور شائقین نے طوفان بد تمیزی برپا کرکے بھارت کی یاد تازہ کردی کیونکہ انڈین بھی شکست برداشت نہیں کرتے 1996 میںکرکٹ میچ میں پاکستان سے شکست پر مشتعل انڈین تماشائیوں نے تاریخی طور پر اشتعال میں آ کر گرا¶نڈ میں توڑ پھوڑ اور جلا¶ گھیرا¶ کیا تھا، ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں بھارت کو سری لنکا سے شکست ہو ئی تھی، جس کے بعد کولکتہ کے ایڈن گارڈنز سٹیڈیم کے تماشائیوں نے جذبات میں آ کر گرا¶نڈ میں موجود کرسیوں اور سٹینڈز کو آگ لگا دی تھی اسی طرح 1955 میں بھی لاہور میں ہونے والے ایک ٹیسٹ میچ میں بھارت کی شکست پر انڈین تماشائیوں نے ناراض ہو کر دہلی میں سٹیڈیم کے حصوں کو نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی تھی یہی روش فیفا کے ورلڈ کپ میں دیکھی گئی اور ارجنٹائن کھلاڑیوں نے سپورٹ مین کے بارے میں کہی سب باتیں غلط ثابت کر دیں اس سے پہلے جاپان میں فٹ بال مقابلوں کے حوالے سے اولیور نامی مشہور پیشن گوئی کرنے والے طوطے نے پیشن گوئی کی تھی کہ ورلڈ فٹ بال کپ ارجنٹائن جیتے گا جو غلط ثابت ہوئی اور ورلڈ فٹ بال کا فائنل سپین نے جیت لیا۔ حالیہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں سپین دفاعی چیمپیئن ارجنٹینا کو ایک صفر سے شکست دے کر دوسری بار عالمی چیمپیئن بن گیا۔ سپین کا یہ بھی اعزازہے کہ خواتین کی عالمی چیمپیئن ٹیم بھی ہے۔ ارجنٹینا نے اپنا تاج کھو دیا اور سیٹی بجنے کے بعد کے مناظر نے بہت سوں کو یہ محسوس کرایا کہ انھوں نے اپنا وقار بھی کھو دیا ہے۔ میچ ختم ہونے کی سیٹی کے بعد پاریڈیس، سپین کے روڈری، گاوی اور بورخا ایگلیسیاس کے ساتھ جھگڑوں میں ملوث رہے جبکہ ان کے ساتھی ناویل مولینا کو بھی ایک گزرتے ہوئے سپین کے کھلاڑی پر مکا برساتے دیکھا گیا تاہم فٹ بال میچ کی اہم بات یہ تھی تاریخ میں پہلی بار وقفے میں بھی میوزک کا تڑکا لگایا گیا جس سے شائقین محظوظ ہوئے۔ اس ایونٹ کی ایک خاص بات یہ بھی تھی جب انسانیت کاقاتل ٹرمپ ٹرافی دینے کےلئے آئے تو ان کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی ایک غیرت مند کھلاڑی نے بظاہر ٹرمپ سے مصافحہ کرنابھی گوارہ نہ کیا دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ لیونل میسی کی تعریفیں کرتے رہے۔ امریکی صدر نے میچ کے دوران بیٹے کے ساتھ ہونے والی گفتگو سنا دی، قہقہے لگ گئے، ٹرمپ نے ان کی زندگی کو پرسکون قرار دیتے ہوئے ایک ماہ کےلئے ادھار مانگ لی حالانکہ ٹرمپ خود اپنے لئے گڑھے کھود رہے ہیں۔ آج مشرق وسطیٰ میں جو قتل عام کیا جا رہا اور جنگیں ہو رہی ہیں وہ امریکی صدر کی پلاننگ ہی ہیں اور تواور پاک بھارت جنگ بھی ایک منصوبے کے تحت کروائی گئی جس میں مودی کو منہ کی کھانا پڑی۔ ٹرمپ اندازہ لگانا چاہتے تھے کہ پاکستان کتنے پانی میں ہے۔ اللہ نے اسلام آباد کو سرخروکردیا، آج پاکستان دنیا بھر کے فیصلے کر رہا ہے، کاش جاپانی طوطا پیشن گوئی کرتے وقت امریکی صدر کو بتا دیتا کہ بندے دا پتر بن جا اور ہر جگہ ٹانگ اڑانا چھوڑ دے ورنہ دنیا میں تیرا نام حقارت سے لیا جائے گا۔ ٹرمپ کےخلاف سٹیڈیم میں نعرے لگانے والے افراد کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے فرعون صفت انسان کے سامنے سچ کا علم بلند کرکے دوسروں کےلئے مثال قائم کی۔ آج غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی شہ پر ہے کیونکہ نیتن یاہو کے بارے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا سچ سب کے سامنے ہے جنہوں نے دنیا کے سامنے اسرائیل کا بھیانک چہرہ بے نقاب کیا۔ اسلام آباد معاہدہ کی ناکامی کو بھی اسرائیل کی سازش قرار دیا، شائد امریکہ میں ایک جے ڈی وینس ہی رہ گئے ہیں جو سچ بولتے ہیں، اس کے بدلے وہ یہودیوں کی دشمنی بھی مول لے رہے ہیں۔ امریکی صدر سیاستدان نہیں ایک کاروباری بندہ ہے لیکن سیاستدان بننے کی کوششوں میں ہے اور بھی مسلم ممالک کےخلاف سازشیں کر کے، کاش جے ڈی وینس کی طرح خلیجی ممالک بھی اس سچ کو تسلیم کر لیں کہ امریکہ کسی کا یار نہیں وہ پیسے کا پجاری ہے، وہ یہودیوں کا رکھوالا بنا ہوا ہے ورنہ نیو یارک کے میئر کی جانب سے نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کے بیان پر ٹرمپ یہ نہ کہتے کہ اسرائیلی وزیراعظم کو امریکا میں قیام کے دوران کسی بھی صورت یا طریقے سے گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ نیتن یاہوکی بجائے ان لوگوں کو گرفتار کیا جانا چاہیے جنہوں نے ایران کو موت اور تباہی کی طرف دھکیلا جبکہ سچ تو یہ ہے کہ ایران کو ٹرمپ اور اسرائیل نے جنگ کی طرف دھکیلا، یہ الگ بات ہے کہ ایران اب تک ڈٹا ہوا ہے۔