آج روحانی اعتبار سے دنیا ایک لق و دق زقوم بھرے صحرا کا نام ہے۔ مغرب اپنی تاریخ کی ہولناک ترین نسل کشی کی جنگ نہتی آبادی پر برساتی، اور حیا باختہ شیاطین کو شرما دینے والے سکینڈل سے گزر رہا ہے۔ اس کی تفاصیل میں سے صرف ایک وہ بے رحمی، ظلم، قیامت ہے جو توڑی گئی ہے ننھے معصوم بچوں پر۔ خون آشام بلائیں بن کر اس درندگی کی مرتکب ہونے والی قد آور شخصیات ہیں جوناقابل برداشت حد تک ناقابل یقین ہے۔ یعنی وہ ’مشروب‘ Adrenochrome ، جس کا ایک لیٹر 2.2 ارب ڈالر کا ہے۔جسے بنانے کے لیے 100 بچے درکار ہوتے ہیں کہ انہیں شدید خوف سے گزارا جاتا ہے۔ ٹارچر، اذیت اور جگر پاش خوفزدگی طاری کر کے، جس پر ان کے اندر ہارمون Adrenaline اس درجے پر پہنچتا ہے جو مذکورہ مشروب فراہم کر سکے۔ مکروہ ترین جرم میں گلوب بھرسے معروف افراد اور ارب پتیوں کے نام جیفری ایپسٹین (امریکی مالیاتی ماہر) کی فہرست میں ہیں ۔ اب نہ اگلے بن پڑ رہی ہے نہ نگلے۔ ٹرمپ حسبِ مزاج یہ پنڈورہ با کس تو کھول بیٹھا۔ مگر اب بقول مرزا غالب: کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے۔
جیفری ایپسٹین نہ صرف جنونی جنسی مجرم تھا بلکہ وہ امریکہ، اسرائیل بھارت کے درمیان سفارت کاری بھی کرتا رہا۔ اہم مذاکرات میں بین الاقوامی سیاست کا حصہ بھی بنا۔ اتنا گمبھیر سکینڈل ہے کہ اب جان چھڑانے کو بہت کچھ الجھا کر مشکوک بنانے کی کوشش جاری ہے۔یہ ترقی یافتہ لیڈر کتنے کر یہہ اور بد بودار ہیں! (جن کی یہ حقیقت تازہ تازہ امریکی کانگریس کے دوارکان تھا مس میسی اور روخانہ نے خود بتائی ہے جنہیں غیر حذف شدہ ایپسٹین فائلوں تک رسائی مل گئی تھی۔) اخلاقی گراوٹ، انسانی وقار کی پامالی کی اس دنیا سے تو پتھر کا زمانہ بہتر تھا! ۔
ادھر عالمی ادارہ صحت کے حوالے سے 60 ہزار آلودہ ویکسینوں کا راز کھلنے پر آسٹریلیا، پرتھ میں پروفیسر برائٹ ہوپ، ہزاروں کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ 20 ملین آسٹریلیوں کو یہ ویکسین دیئے گئے۔ اب نتیجہ؟ کینسر، طرح طرح کے جینیاتی مسائل، طبی بلاؤں کا سامنا ہو گا! صرف غزہ کی قیامتیں تو نہیں، ہر طرف سے انکشافات کے جھکڑ چل رہے ہیں کہ دنیا جھٹکوں پر جھٹکے کھا رہی ہے۔ غزہ میں بھی تو اموات کی اقسام دہلا دینے والی ہیں۔ مثلاًانسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتا امریکہ! اس نے غزہ پر قیامت ڈھانے کو اسرائیل کو وہ ’تھر مو بیرک‘ بم فراہم کیے جو پھٹیں تو 3500 درجہ سینٹی گریڈ کی آگ بھڑکائیں۔ جس سے 3 ہزار فلسطینی یوں شہید ہوئے کہ بھاپ بن کر Evaporateہو گئے۔ سورج کا درجہ حرارت 27 ملین فارن ہائٹ ہے جہنم کیسی ہو گی؟ امریکہ، عراق اور افغانستان میں یہ بم استعمال کر چکا تھا! ۔
مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کے ڈھول پیٹتے کتنی دہائیاں گزر گئیں۔ مسلمان فوجیں جن علاقوں سے ہو گزریں، اسی طرح کے جابر، فاسق، بد قماش حکمرانوں سے کافر عوام الناس کو نجات دی۔ مسلم افواج کے سیرت و کردار سے متاثر ہو کروہاں پوری پوری آبادیاں مسلمان ہو گئیں! ایک اللہ کی حکمرانی تلے انہیں دنیا ہی میں جنت کا ذائقہ مل گیا۔
آج ایک مرتبہ پھر اسباب یک جا ہیں۔ ہم مسلمانوں نے جنہیں اللہ نے9 ارب آبادی میں سے چن کر نکالا تھا: ’ھو اجتبٰکم‘، اس نے تمہیں چن لیا ہے (الحج: 75)ہم 1لاکھ 24 ہزار پیغمبروں کی لائی تعلیم و تربیت کے وارث اور خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں۔ دنیا لا علم، پیاسی ، تشنہ روح، خالق کی تلاش میں پھرتی رہی۔ شیطان کے چیلوں نے انہیں اغوا کر لیا۔ انبیاء کا ورثہ چھین کر انہیں انبیاء کے قاتلوں، صیہونیوں کے حوالے کیا۔ ہم مسلمان جو نبیٔ آخر الزماں پر اتاری گئی شریعت، طریقِ زندگی (مکمل، کامل، اکمل )سے بصو رتِ قرآن نوازے گئے تھے ، ہم خود ہی راہ سے بے راہ ہو گئے۔ شاد باد اے مرگ عیسیٰ آپ ہی بیمار ہے۔
ہمارا مکمل نظامِ تربیت آج بھی رواں دواں ہے۔مگر ہم اپنی لا علمی، خود فراموشی اور مغرب زدگی سے جو پاکیزہ طرزِ حیات بھول چھوڑ بیٹھے تھے، وہ اب اہل غزہ کی قربانیوں سے زندہ ہوا ہے۔ لا الہ ضرب است و ضربِ کاری است! پہلی ضرب دورِ حاضر میں پے در پے روس اور اس کے بعد امریکی، گلوبل بھاری بھر کم فوجوں کی یلغار کو افغانستان کے نہتے مجاہدین نے لگائی۔ دوسری ضرب طوفان الاقصیٰ کی ابابیلوں نے کفر کا بساط بھر بھوسہ بنایا۔ اپنے سر، گھر، در، آل اولاد مسجدِ اقصیٰ پر قربان کر دی۔ بھاپ بن کر اڑ گئے۔ ملبوں میں دب کر ریزہ ریزہ ہو گئے لیکن مبہوت کن عزیمت صبر و ثبات سے رب تعالیٰ کی ذاتِ عالی شان سے دنیا کو متعارف کرا دیا۔ امریکہ، یورپ، سبھی اسرائیلی حواریوں کا فراہم کردہ اسلحہ ختم ہو گیا۔ فوجیں ناکام رہیں۔ سرنگوں کے مکین نوجوان، بھوکے پیاسے سر نگوں نہ ہوئے! امریکہ نے مسلمان ممالک سے درخواست کی کہ آؤ اور ان سے نمٹو! غضب تو یہ ہے کہ 8 بڑے مسلم ممالک مؤدب حاضر بھی ہو گئے۔اسی دوران ضمیرِ عالم کے سامنے ایپسٹین فائلز نے مکروہ مغربی تہذیب اور مقابل غزہ برانڈ حقیقی اسلام لا رکھا گیا۔ رخِ روشن کے آگے بجھا ہوا گاڑھے سیاہ زہریلے دھوئیں والا چراغ لارکھا! ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر آتا ہے پروانہ!
مغرب تو پہلے ہی اسلام کو دل دیئے بیٹھا ہے۔ لوگ مسلمان ہورہے ہیں ہر طبقے سے۔ آرٹ کی دنیا سے ایک امریکی ٹک ٹاک سٹار، جس کا مقبول شو سراہنے والے بہت تھے۔ اسلام اور مسلمانوں کی تحقیر، نفرت بھرے پراپیگنڈے کے زیر اثر منفی تصورات کے تحت پاکستان آیا ۔ باوجودیکہ ہمارے ہاں اسلام کی وہ حقیقی تصویر تو موجود نہیں۔ مٹے مٹے لفظوں والی فوٹو کاپی ہی ہے! وہ اسی پہ لٹو ہو کر فوری مسلمان ہو گیا! غرض مثالیں بے شمار ہیں۔ آج کا انسان حق کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے اور ہم خود اسی حق سے شرماتے گھگھیاتے ہیں! ہمارے حکمران بسنت، ویلن ٹائن، ہیلو وین مسلط کرکے، (ایپسٹین والے) امریکہ کو راضی خوش کرتے ہیں اور ہم آنکھیں بند کیے غول در غول پیچھے چلتے ہیں!۔
اب آ گیا ہے رمضان المبارک! نزولِ قرآن کا پر نور مہینہ جیسے اللہ نے 1447 سال سے کل انسانیت کے لیے مکمل زندگی کے لیے شاہ کلید (Master Key) بنا کر بھیجا! انسانی شخصیت اور اس سے متعلق ہمہ نوع اجتماعی زندگی کے تمام مسائل کا حل۔ شفاء لما فی الصدور۔ دلوں کی شفا اور بہار، سینوں کا نور، ہر غم اور دکھ کا مداوا۔ انفرادی و اجتماعی۔ اور ہمیں پوری دنیا کا استاد، امام بنایا:’ اور اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک ’امتِ وسط‘ بنایا ہے۔ تاکہ تم دنیا پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو‘۔ (البقرۃ: 143) سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا، لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا! قرآن، سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرت صحابہ رضوان اللہ علیہم اٹھا لو درجہ بہ درجہ۔یہ رمضان (ہمارے معدے پر نہیں) دل پر نزولِ قرآن کا گواہ بن جائے۔ نور، ر حمت، امام، ہدایت بن جائے۔ صرف سحری افطاری کے اہتماموں کی نذر نہ ہو جائے۔ وقتِ افطار: آؤاب بند کریں ’کالی سکرینیں‘ ساری، رحل پر ہونے کو ہے سبز صحیفہ روشن! خاندان یک جارب کے حضور عجز و عاجزی سے ہدایت کے لیے جھولی پھیلا دے۔ ہم نفاق میں ڈوبے پڑے ہیں۔ دنیا ہدایت کی طلبگار ہے۔ ہمیں سچا ایمان عطا فرماجو محمد صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا سے اس ماہِ مبارک میں لے کر آئے تھے۔ ہمارے دل بدل دے ہمیں با عمل کر دے۔ تاکہ ہم سے ،ہماری نسلوں سے۔ دور دنیا کا اندھیرا ہو جائے۔ (آمین)
بنگلہ دیش میں کوٹہ سسٹم کے خلاف کھڑی ہونے والی طلبا تحریک اور جماعت اسلامی کی سربراہی میں 11 جماعتی اتحاد کو انتخابات میں 77 نشستیں ملیں۔ خالدہ ضیاء مرحومہ کے بیٹے طارق رحمان اور 10اتحادی جماعتوں کو 212 پر کامیابی حاصل ہوئی۔ بھارت کی جان میں جان آئی کیونکہ وہ عبوری حکومت کی بنگلہ دیش کے لیے کٹنے مرنے اور اسلام پسندی سے بے پناہ خائف تھا!سب سے پہلے مودی نے بی این پی کو زور دار مبارکباد دی اور بنگلہ دلش کے لیے ترقی پسند(یعنی اسلام مخالف) حکمرانی کی تمنا کا اظہار کیا! عوامی لیگ کے ووٹ اور بھارتی مال کارفرما رہے! جماعت اسلامی اور طلبا نے مدبرانہ حکمت کے ساتھ مداخلت بھرے نتائج کو قبول کرکے مضبوط اپوزیشن کے کردار پر اکتفا کا اعلان کیا۔ 32 نشستوں پر دوبارہ گنتی کا مطالبہ بھی کیا ۔ جولائی چارٹر، جس کی ریفرنڈم میں عوام نے بھرپور تا ئید کی ،گزشتہ حکومتوں کی کرپشن، عدلیہ، بیوروکریسی کے لیے لگام کی حیثیت رکھتا ہے۔ قانونی تحفظ کا حامل یہ چارٹر، شفاف عبوری حکومت کو تسلسل دے گا۔ کرپشن کا سد باب ہوگا۔ ہمارے نوجوانوں کو کھلنڈرے پن سے نکل کر بنگلہ دیش طلبا تحریک کا مطالعہ کرنا چاہیے!۔