Wed, September 16, 2026

ویژن2047

ویژن2047


عمران خان صاحب کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سیر حاصل تبصرہ کیا جاسکتا ہے۔حکومت نے اس فیصلے پر جو عملدرآماد کیا وہ کتنا درست اور کتنا غلط ہے اس پر بھی بات کی جاسکتی ہے ۔لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت نے بحرحال سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا پانچ گھنٹے ہسپتال میں رکھا ۔شفا ہسپتال کے قابل داکٹروں کے بورڈ نے ہی ان کا معائنہ کیا۔ تمام قسم کے ٹیسٹ کیے اور سب سے اطمینان کی بات یہ ہے کہ عمران خان کی صحت ماشاللہ ٹھیک نکلی ہے۔ان کے جس بلڈ پریشر کو بنیادبناکر سپریم کورٹ نے ان کو ایک ماہ تک پرائیویٹ ہسپتال میں بھرتی رکھنے کا حکم دیا تھا وہ بلڈ پریشر نارمل دکھائی دیا۔تمام رپورٹس نارمل ہیں ۔اب اگر پی ٹی آئی اس پر دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرناچاہتی ہے تو اس کا حق ہے اسی طرح حکومت کوبھی نظرثانی کا حق حاصل تھا جو اس نے استعمال کیا۔اب کیا حکومتی اقدام توہین عدالت ہے یا درست ہے اس کافیصلہ بھی معزز عدالت نے ہی کرنا ہے تو ہم اس کو عدالت پر ہی چھوڑ دیتے ہیں۔اس بات پر بھی بات کی جاسکتی ہے کہ کس طرح پی ٹی آئی عدالت میں اپنی دی گئی گارنٹی کا پاس رکھنے میں ہی ناکام رہی اور اس بیماری اور جیل سے نکالنے کو سیاست کے لیے استعمال کیا گیا اور کیاجارہا ہے حالانکہ سپریم کورٹ کا مکمل آرڈر اس نقطے پر تھا کہ سیاست نہیں ہونی چاہئے ۔بحرحال ان کی بہن نے اس پر پریس کانفرنس کی جس سے سپریم کورٹ نے منع کیا تھاتو کیس دونوں اطراف کے پاس مضبوط ہے اور فیصلہ سپریم کورٹ کے کورٹ روم میں جائے گا تو ہم بھی اسی کورٹ انتظار کرلیتے ہیں ۔
اس ملک میں حکومتیں آتی جاتی رہیں گی ۔ سیاستدان آتے جاتے رہیں گے لیکن اس ملک نے قائم رہنا ہے اور آگے بھی جانا ہے ۔اور آگے لے جانے کے لیے مثبت سوچ ، خلوص نیت اور محنت درکار ہے جو یہ حکومت بھی کررہی ہے ۔بارہ گست کو وزیراعظم شہبازشریف نے یوتھ ڈے پر ایک تقریب میں پاکستان کے ویژن 2047کا اعلان کیا۔یہ ویژن کیا ہوگا اسکا فیصلہ یہ حکومت کرے گی اور نہ ہی کوئی ایک فرد بلکہ اس ویژن کا فیصلہ اس ملک کے وارث اس ملک کے عوام کریں گے۔یہ ویژن کیسے بنے گا یہ بھی اس ملک کے نوجوان بتائیں گے اور وہی بنائیں گے ۔وہی طے کریں گے کہ وہ اس ملک کے قیام کے سوسال مکمل ہونے پر پاکستان کوکیسا دیکھناچاہتے ہیں ۔
اس ویژن کے طے کرنے کا ایک پراسس ہے جس کا آغاز کیا جاچکا ہے ۔ یہ ویژن پہلے دیے گئے ویژنز سے اس طرح مختلف اور نمایاں ہوگا کہ پہلے حکومتی شخصیات بندکمروں میں یہ طے کرتی تھیں کہ اگلے دس سال کا ویژن کیا ہوگا لیکن اس بار وزیراعظم شہبازشریف نے اعلان کیا کہ سوسال کا پاکستان کیسا ہونا چاہئے یہ بھی لوگ طے کریں اور اس کے لیے یہ مکمل سال ہمارے پاس ہے۔اسی ویژن اور سوسالہ پاکستان پر گفتگو کے لیے لاہور میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین جناب رانا مشہود احمد خان صاحب نے ایک تقریب کا اہتمام کیا ۔اس میں انہوں نے ویژن کی تشکیل کا طریقہ کار بتایا۔ رانا مشہود نے بتایا کہ ویژن پاکستان کے لیے چھ ماہ پوری قوم اپنی اپنی تجاویزدے گی۔ ان تجاویزا کو ایک کمیٹی کمپائل کرے گی۔ تمام تجاویز پر مشتمل ایک ابتدائی ڈرافٹ بنے گا ۔وہ ابتدائی ڈرافٹ قوم کے سامنے رکھا جائے گا پھر مزید تین ماہ ان میں سے بہترین اور قابل عمل تجاویز کو منتخب کرکے ویژن 2047کا اعلان اگلے سال بارہ اگست کو انٹرنیشل یوتھ ڈے کے موقع پر قوم کے سامنے وزیراعظم شہبازشریف کریں گے اور پھر اس پر عمل کرکے پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے اس قوم کے پاس پورے بیس سال ہوں گے اور اللہ کرے کہ دوبارہ کوئی ایڈونچر یا نیا تجربہ نہ ہواور پاکستان ترقی کی منازل طے کرتاچلاجائے ۔
رانا مشہود نے بتایا کہ اس ویژن میں ہر سال کا الگ ٹارگٹ ہوگا ۔یہ بھی اس ویژن کا ہی حصہ ہوگا کہ فلاں سال میں ہم نے کہاں پہنچنا ہے ۔تو وہ جوآج کا نوجوان ہے، جب 2047 آئے گا تو وہ نوجوان اس وقت لیڈ کر رہا ہو گا، چاہے وہ سیاست کا میدان ہے، چاہے وہ کوئی اورشعبہ ہے، چاہے وہ بزنس ہے، کوئی کھیل کامیدان ہے۔ اور اپنے بنائے ہوئے ویژن کے اوپرعمل درآمد کر رہا ہوگا، جو ویژن آج وہ بنا کر دے گا، اس کی امپلیمنٹیشن بھی یہ آج کا نوجوان کر رہا ہو گا۔رانا مشہود نے مزید بتایاکہ اس پر مشاورت کے لیے بحث ومباحثے کا آغاز جلد کیاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں آپ سے ریکویسٹ یہ کرنی ہے کہ اس ویژن کو، اس پاکستان کو ہماری مدد کسی نے باہر سے آ کے نہیں کرنی، ہم نے اپنا مستقبل خود بنانا ہے۔ اور وہ مستقبل بنانے کے سفر کا آغاز شہباز شریف نے کر دیا۔ ویژن 2047 کا اعلان کر دیا گیاہے۔
ایک اور انکشاف بھی رانا مشہود نے کیا کہ اس سال جب وزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے ستمبر میں امریکا جائیں گے تو وہاں بھی ایک الگ ہی پروگرام ہوگا ۔ایسی انگیجمنٹ پہلی مرتبہ ہوگی جس میں وزیراعظم امریکا کے ٹاپ کاروباری افراد اور آئی وی لیگ کے نوجوان یہ کوئی ایک ہزار لوگ ہوں گے جن کے ساتھ بیٹھ پر وزیراعظم، پاکستان کو آگے لے جانے کی بات کریں گے ۔ 
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ایک اسٹڈی کروائی ہے جس کے مطابق امریکا سے صرف دو فیصد مواقع پاکستان آتے ہیں ہم اس کو بیس فیصد تک لے جانا چاہتے ہیں اور اس پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے اندرون اور بیرون ملک نوکریوں کے مواقع کے لیے یوتھ پورٹل” ڈیجیٹل یوتھ ہب“ کا خاص طوپر ذکر کیا جس پر اب تک دس لاکھ پاکستانی نوجوان رجسٹر ہوچکے ہیں اور ان مواقع سے فائدہ اٹھارہے ہیں ۔چین اور امریکا کے دوروں کا ذکر کرتے ہوئے رانا مشہود نے بریف کیا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے ٹیکنیکل اداروں کے ساتھ پاکستانی یوتھ کے لیے ایم اویوز سائن کیے ہیں ۔وزیراعظم نے ایک ہزار طلباکو سرکاری خرچ پر چین بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔اسی طرح پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی بڑھائے جارہے ہیں۔اس سال بیرون ملک ملازمتوں کے لیے پاکستانیوں کو بھجوانے کا ٹارگٹ اکیس لاکھ ہے ۔یہ وہ فورس ہے جو پاکستان میں ترسیلات زر بھجواتی ہے ۔
یہ وہ ویژن ہے جس کا آغاز وزیراعظم شہبازشریف نے کردیا ہے ۔ایک سال بعد اس کی فائنل شکل بھی بن کرہمارے سامنے ہوگی ۔یہ ہیں وہ اصل کام جو کرنے والے ہیں ۔ یہ کام پاکستان کو آگے لے کرجائیں گے لیکن یہاں جھوٹے سچے بیانیوں کی جنگ لڑی جارہی ہے یہ بیانیے کچھ لوگو ں کو ڈالر دینے کاذریعہ تو بن سکتے ہیں لیکن پاکستا ن کے حصے صرف منفی اثرات آئیں گے اور لوگوں کے اندرہیجان ۔ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہیجان آمیز زندگی گزارنی ہے یا کچھ مثبت کرنا ہے اپنے ملک کے لیے ۔

ٹیگز: