Wed, September 16, 2026

نئے صوبوں کے قیام سے اخراجات کم اور گورننس بہتر ہوگی، میاں عامر محمود

نئے صوبوں کے قیام سے اخراجات کم اور گورننس بہتر ہوگی، میاں عامر محمود

لاہور: میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے عوام میں آگاہی مہم جاری ہے، عوام کو نئے صوبوں کی ضرورت اور افادیت سمجھ آگئی تو اس معاملے پر پیشرفت جلد ہوگی۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک نے آبادی میں اضافے کے ساتھ انتظامی یونٹس میں اضافہ کیا ہے، پاکستان میں بھی بہتر طرز حکمرانی کے لیے انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ نئے صوبے بننے سے اخراجات کم اور عوام کو سہولیات کی فراہمی بہتر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان اچھی گورننس چاہتے ہیں، اس لیے انتظامی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ نئے صوبوں کے معاملے پر موجود نفرت کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے پیچھے چھپی وجوہات کو سمجھنا ہوگا۔

میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ پنجاب ہر سال بلوچستان کو اربوں روپے فراہم کر رہا ہے۔ بلوچستان کے آٹھ ڈویژن کو صوبوں میں تقسیم کیا جائے تو وہاں کے نئے صوبے معاشی اعتبار سے انتہائی مضبوط اور ملک کے امیر ترین صوبوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے علاقے تھر میں بھی ترقی اور معاشی خوشحالی کی بہت صلاحیت موجود ہے، تاہم غربت کا خاتمہ تعلیم کے فروغ کے بغیر ممکن نہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ پنجاب کے عوام انتظامی بنیادوں پر چھوٹے صوبوں کے قیام کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو بہتر گورننس، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

ٹیگز: