Wed, September 16, 2026

چین میں زرعی تربیت کیلئے طلبہ کی روانگی، وزیراعظم کا چینی حکومت سے اظہارِ تشکر

چین میں زرعی تربیت کیلئے طلبہ کی روانگی، وزیراعظم کا چینی حکومت سے اظہارِ تشکر

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں کو چین میں زرعی علوم و تحقیق کی تربیت دینا خوش آئند اقدام ہے، جس سے ملک کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے گا۔ انہوں نے چینی حکومت کی اس تعاون پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔

چین میں تربیت کے لیے طلبہ کی روانگی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا آغاز اُن کے دورۂ شان ژی، چین سے ہوا، جہاں انہوں نے ایک ممتاز زرعی یونیورسٹی کا معائنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کے تعلیمی معیار اور تحقیقاتی سرگرمیوں نے انہیں بے حد متاثر کیا، جس کے بعد پاکستانی طلبہ کو بھی وہاں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعظم کے مطابق اس اقدام کے تحت ایک ہزار طلبہ کو چین میں قلیل مدتی تربیت دی جائے گی۔ اب تک 300 طلبہ اپنی تربیت مکمل کر چکے ہیں، 100 چین میں موجود ہیں اور مزید 300 رواں ماہ 24 اگست کو روانہ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے، لیکن فصلوں کی پیداوار میں کمی، جیسے کہ کپاس، باعثِ تشویش ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ہائبرڈ بیج، جدید مشینری، اور تحقیقاتی طریقوں کا سیکھنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ہدایت دی کہ وہ چین میں تحقیقاتی مراکز کا دورہ کریں اور ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے طلبہ کے لیے اضافی 10 فیصد کوٹہ رکھا گیا ہے تاکہ انہیں بھی ترقی کے مساوی مواقع میسر آئیں۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ چین میں نہ صرف بھرپور سیکھنے کی کوشش کریں بلکہ پاکستان کے نمائندہ سفیر بن کر خود کو مثبت انداز میں پیش کریں۔

"اگر ہم اپنی قومی زندگی کے ہر شعبے میں میرٹ، دیانت اور محنت کو اپنائیں تو پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔"
تقریب میں چینی سفیر نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ قیادت پاکستان نے قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون خطے کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔

 
 

ٹیگز: