Wed, September 16, 2026

تڑیاں اور اڑیاں

تڑیاں اور اڑیاں

مذاکرات موخر ہو چکے ہیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ویزر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کے کہنے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے ۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ایک جانب تڑیاں ہیں اور ایک جانب ان تڑیوں کے رد عمل میں اڑیاں ہیں اور ان تڑیوں اور اڑیوں کے بیچ میں پاکستان ہے ۔ اب تڑیاں لگانے والے اگر یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ان کے گھر کی دہلیز کے باہر ناکہ بندی کر دیں اور پھر ان کے جہاز بھی قبضے میں لے لیں اور پھر آپ ان سے یہ توقع بھی رکھیں کہ وہ ایک تابعدار بچے کی طرح یس سر کرتے ہوئے آپ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آ کر بیٹھ جائیں گے اور پھر یہ بھی توقع رکھنا کہ وہ آپ کی ہر شرط بھی مان جائیں گے ماسوائے خوش فہمی کے اور کچھ نہیں ۔ خاص طور پر اس صورت میں کہ جس فریق سے آپ یہ سب امیدیں باندھ رہے ہیں اسے دنیا بھر کا میڈیا اس جنگ کا فاتح بھی قرار دے رہا ہے ۔ اب ایک ایسا فریق جو اپنے تئیں اپنے آپ کو فاتح سمجھ رہا ہو اور مزید ستم یہ کہ وہ مذہبی ذہن کا حامل ہو تو اسے تڑیوں سے کیسے دبایا جا سکتا ہے ۔ دوسری جانب ٹرمپ جو تڑیاں لگا رہے ہیں ان کے متعلق رائٹرز /اپسوس کے حالیہ سروے میں جو کہ چھ روز تک جاری رہا اس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی کیفیت کے متعلق امریکن عوام کی رائے کو بہتر قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ 51%امریکیوں کا خیال ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ کی ذہنی چستی مزید خراب ہوئی ہے جبکہ پوپ لیو کے حوالے سے تقریباََ 60%نے پوپ لیو کے حق میں مثبت رائے دی جبکہ ٹرمپ کے متعلق یہ شرح36%رہی ۔ اس کے علاوہ نیٹو سے اخراج کے حوالے سے بھی صرف16%امریکیوں نے حمایت کی ۔ 
ایک جانب یہ ساری صورت حال ہے اور دوسری جانب پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت انتھک محنت کر رہی ہے کہ کسی بھی طرح دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے اور پاکستان کی ان کوششوں کی دونوں فریق اور پوری دنیا تحسین بھی کر رہی ہے ۔ پاکستان میں ہی کچھ بد بخت ایسے ہیں کہ جو اس صورت حال پر خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں اور وہ اسے پاکستان کی خدا نخواستہ ناکامی سے تعبیر کر رہے ہیں لیکن تاریخ سے نا بلد یہ بد قسمت چند یو ٹیوبر انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں کہ جب دو فریق کہ جن کے درمیان مشرق و مغرب کے فاصلے ہوں اور پھر جنگ کا ماحول ہو اور دونوں اطراف سے پوری شدت کے ساتھ تباہی بھی ہو رہی ہو تو اس میں پہلے قدم کے طور پر تو سب سے بڑی کامیابی جنگ کو رکوانا ہوتا ہے اور اس کے بعد دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوتا ہے اور خدائے پاک کا شکر ہے کہ پاکستان یہ دونوں کام کر چکا ہے ۔ اب جہاں تک مذاکرات کے موخر اور ان میں تعطل کی بات ہے تو اس طرح کی سنگین صورت حال میں یہ سب ہوتا ہے اس میں کوئی کوئی حیرت کی بات نہیں ہے ۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ 17ستمبر 1978کو اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر کی ثالثی میں مصر کے صدر انور سادات اور اسرائیل کے وزیر اعظم مینا چم بیگن کے درمیان ہوا تھااور اس میں بارہ دن لگ گئے تھے ۔ تاشقند معاہدہ کے لئے پہلا اجلاس 4جنوری کو ہوا تھا اور معاہدے پر دستخط 10جنوری کو ہوئے تھے اور اس میں بھی ثالث اس وقت کی ایک سپر پاور سوویت یونین تھی ۔ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ تین مرحلوں میں طے ہوا۔ سقوط ڈھاکہ 16دسمبر 1971 کو ہوا لیکن شملہ معاہدہ کئی ماہ کی کوششوں کے بعد 2جولائی 1972 کو ہوا ۔ بین الاقوامی سطح پر ہوئے جنگ بندی کے یہ چند معاہدے تھے کہ جن کی مثالیں دی گئیں ۔ دامن کالم میں گنجائش ہوتی تو مزید پر بھی بات ہو سکتی تھی لیکن بتانا صرف یہ تھا کہ جب دو ریاستوں کے درمیان جنگ بندی ہوتی ہے تو اس کے لئے کبھی بھی ہاتھوں پر سرسوں والا معاملہ نہیں ہوا بلکہ یہ ہمیشہ صبر آزما مراحل ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ فقط دو ممالک کی بھی جنگ نہیں ہے بلکہ اس میں امریکہ اسرائیل اور ایران تو براہ راست شامل ہیں جبکہ اس کے علاوہ خلیجی ممالک جہاں سے امریکن اڈوں سے ایران پر حملے ہو رہے تھے ان کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ ایک قسم کی منی ورلڈ وار تھی تو اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کسی کے پاس جادو کی چھڑی ہے اور اس سے جنگ بند کروا دے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔ پاکستان نے اس جنگ میں شامل ہر فریق کو مطمئن کیا ہے اور سب سے بڑی بات کہ اسرائیل سے بھی اپنی بات منوا رہا ہے ۔
 امید یہی تھی کہ مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود بھی مذاکرات کے دوسرے راﺅنڈ میں کچھ مزید پیش رفت ہو گی اور معاملات بہتری کی طرف جائیں گے لیکن بد قسمتی کہ ایسا نہیں ہو سکا لیکن پھر بھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس لئے کہ پاکستان اب بھی ہر سطح پر کوشش کر رہا ہے کہ معاملات بگڑنے نہ پائیں اور دونوں فریق ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آ جائیں کہ امن کے لئے یہی ایک راستہ ہوتا ہے اور پاکستان اس حوالے سے جو کوشش بھی کر رہا ہے اسے پوری دنیا کی حمایت حاصل ہے ۔ ایران کو بھی چاہئے کہ جس طرح پاکستان ہر مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑا ہوا ہے تو اگر اسے امریکی اقدامات پر تحفظات بھی ہیں تو پھر بھی مذاکرات کی راہ اپنائے کہ اسی سے امن کی راہ ہموار ہو گی ۔

ٹیگز: