Wed, September 16, 2026

بلوچستان کا مسئلہ جڑ سے ختم: میری پرپوزل

بلوچستان کا مسئلہ جڑ سے ختم: میری پرپوزل


 ملک کی کل آبادی کا تقریباً پانچ فیصد بلوچستان میں آباد ہے، جبکہ رقبے کے اعتبار سے یہ پاکستان کے تقریباً چوالیس فیصد حصے پر محیط ہے۔ یہ جغرافیائی وسعت بظاہر ایک بہت بڑی نعمت ہے، لیکن یہی وسعت انتظامی، معاشی اور سماجی مسائل کو پیچیدہ بھی بنا دیتی ہے۔اس بار میں استنبول کے جس ہوٹل میں ٹھہرا تھا وہاں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک افسر جمال بگٹی صاحب بھی مقیم تھے۔ان سے کھل کر باتیں ہوئیں۔ اس گفتگو کے نتیجے میں ایک تجویز بلوچستان میں نیا شہر بسانے کی سامنے آئی۔ بلوچستان کے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں پھیلی ہوئی آبادی تک بنیادی سہولتیں پہنچانا ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ سڑکیں، بجلی، پانی، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور روزگار کے مواقع محدود ہونے کی وجہ سے بلوچستان کے عوام میں احساسِ محرومی بڑھتا گیا ہے۔ یہی احساسِ محرومی وقت کے ساتھ سیاسی بے چینی اور بداعتمادی میں تبدیل ہوا، جس کا فائدہ بی ایل اے جیسے عناصر اٹھاتے ہیں۔
بلوچستان کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں آج بھی بنیادی سہولتوں کا شدید فقدان ہے۔ صاف پانی کی کمی، بجلی کی عدم دستیابی، خراب سڑکیں، محدود طبی مراکز اور کمزور تعلیمی ڈھانچہ عوامی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔ بکھری ہوئی آبادی کی وجہ سے حکومت کے لیے ہر گاو¿ں اور ہر دور افتادہ علاقے تک یکساں سہولتیں پہنچانا نہایت مہنگا اور پیچیدہ عمل بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقیاتی فنڈز خرچ ہونے کے باوجود نتائج نمایاں نظر نہیں آتے۔ اس صورتحال میں روایتی ترقیاتی ماڈل پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میری تین ستمبر دو ہزار تئیس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جو ملاقات ہوئی تھی اس میں میری پروپوزل میں شامل بہت سی تجاویز پر عمل ہورہا ہے۔تب وہ آرمی چیف تھے،ہم چائے پینے کے لئے کوریڈور کی طرف جا رہے تھے۔ کوریڈور میں میں نے فیلڈ مارشل سے کہا تھا کہ جاتے جاتے اللہ نے آپ کو ایسے ہی یہ منصب عطا نہیںکیا ہے ۔ وہ آپ سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے۔ فیلڈ مارشل ہلکا سا مسکرائے۔ کچھ دیر مزید گفتگو کی اور پھر ہم چائے پر دوسری گفتگو کرنے لگے ۔میرا گمان ہے کہ نئے شہر والی تجویز بھی انہیں مسئلے کے ایک حل کے طور پر موزوں لگے گی۔
ہمیں ایک نئی سوچ اور ایک بڑے وژن کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کے محروم طبقات کے لیے ایک نیا معاشی اور شہری ماڈل ترتیب دیا جا سکتا ہے، جس کے تحت ایک جدید شہر یا معاشی زون آباد کیا جائے جہاں محروم اور پسماندہ آبادی کو بہتر رہائش، روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ یہ تصور بظاہر غیر روایتی لگ سکتا ہے، مگر درحقیقت یہ منتشر آبادی اور محدود وسائل کے مسئلے کا ایک عملی حل بن سکتا ہے۔اگر بلوچستان کے مختلف دور افتادہ علاقوں سے محروم خاندانوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر ایک منظم شہری مرکز میں منتقل کیا جائے، جہاں انہیں جدید سہولتیں اور معاشی مواقع میسر ہوں، تو اس سے نہ صرف ان کی زندگی کا معیار بہتر ہوگا بلکہ حکومت کے لیے خدمات کی فراہمی بھی آسان ہو جائے گی۔ایسا نیا شہر محض رہائشی منصوبہ نہ ہو بلکہ ایک مکمل معاشی زون ہو۔ وہاں صنعت، تجارت، معدنیات، زراعت اور فنی تربیت کے مراکز قائم کیے جائیں۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ گیس، کوئلہ، تانبہ، سونا اور دیگر معدنی ذخائر صوبے کی معاشی ترقی کا بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اگر ایک جدید معاشی زون کے ذریعے مقامی افراد کو روزگار، کاروبار اور فنی تربیت کے مواقع دیے جائیں تو وسائل براہِ راست مقامی خوشحالی میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اسے محض سرکاری سکیم نہ بنایا جائے بلکہ اسے ایک جامع قومی منصوبے کے طور پر پیش کیا جائے۔ اس میں نجی شعبے، ترقیاتی اداروں اور بین الاقوامی مالیاتی تنظیموں کی شمولیت بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ منصوبہ بندی بین الاقوامی معیار کے مطابق کی جائے تو سرمایہ کاری کے وسیع امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس منصوبے کا سب سے اہم پہلو مقامی آبادی کی شمولیت ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مقامی افراد کو مفت زمین یا گھر بنا کر دیا جائے۔ کاروبار، روزگار اور انتظامی ڈھانچے میں ترجیحی حصہ دیا جائے۔ اگر مقامی آبادی یہ محسوس کرے کہ یہ منصوبہ ان کے لیے ہے اور ان کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے تو اعتماد بحال ہوگا اور احساسِ محرومی کم ہوگا۔بلوچستان کے عوام کو محض امداد نہیں بلکہ بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ یہی ترقی کا اصل ماڈل ہے۔ بلوچستان کے محروم نوجوان اگر جدید تربیت حاصل کریں، صنعتوں میں کام کریں اور کاروباری مواقع حاصل کریں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ صوبے کی تقدیر بھی بدل سکتے ہیں۔اس وقت بلوچستان میں ترقیاتی فنڈز تو مختص ہوتے ہیں، مگر ان کا بڑا حصہ انتظامی کمزوری، بدعنوانی اور ناقص منصوبہ بندی کی نذر ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ وسائل عوام تک نہیں پہنچ پاتے جن کے لیے مختص کیے جاتے ہیں۔ اگر انہی وسائل کو ایک مربوط اور شفاف منصوبے کے تحت استعمال کیا جائے تو نتائج کہیں زیادہ مو¿ثر ہو سکتے ہیں۔ ایک جدید معاشی شہر کی تعمیر نہ صرف ترقیاتی وسائل کو بہتر استعمال میں لا سکتی ہے بلکہ شفافیت اور جوابدہی کے امکانات بھی بڑھا سکتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان کے لیے روایتی سوچ سے آگے بڑھا جائے۔ محض اعلانات، فنڈز اور وقتی منصوبے دیرپا نتائج نہیں دے سکتے۔ ایک واضح ویژن، منظم منصوبہ بندی اور مقامی شراکت کے ساتھ ایک نیا معاشی و شہری ماڈل بلوچستان کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف محرومی کم کرے گا بلکہ نوجوان نسل کو امید اور مواقع فراہم کرے گا۔بلوچستان کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مو¿ثر استعمال کا مسئلہ ہے۔ اگر ریاست سنجیدگی سے ایک ایسا ترقیاتی ماڈل اختیار کرے جس میں مقامی عوام شراکت دار ہوں، ترقی کے ثمرات ان تک پہنچیں اور بنیادی سہولتیں باعزت انداز میں فراہم ہوں تو بلوچستان محرومی کی علامت کے بجائے ترقی کی مثال بن سکتا ہے۔آج بلوچستان کے لیے سب سے بڑی ضرورت ہمدردی نہیں بلکہ عملی شمولیت ہے۔ اگر محروم طبقات کو قومی ترقی کے مرکز میں لایا جائے، انہیں معاشی مواقع دیے جائیں اور انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اس ریاست کے برابر کے شریک ہیں تو حالات بدل سکتے ہیں۔ بلوچستان کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے اور اس حقیقت کو سمجھ کر ہی ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

ٹیگز: