اوائل عمری میں ہی پے در پے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا، 10سال تک اس نے مختلف قسم کے کام کئے، مگر کامیابی کوسوں دور رہی، محنتی بہت تھا، جب بھی کوئی بزنس کرتا سخت جدوجہد کرتا مگر کبھی ناتجربہ کاری، کبھی سرمایہ آڑے آ جاتا، مسلسل نقصانات کی وجہ سے معاشی بدحالی کا شکار ہو گیا، معاشی کمزوری نے حوصلے پست کر دیئے، اپنی ناکامی کو قسمت کا لکھا سمجھ کر حالات سے سمجھوتہ کر چکا تھا کہ اچانک ملاقات پروفیسر صاحب سے ہوئی۔ انہی مشکلات اور کاروبار سے ہونے والے نقصان کا تفصیل سے ذکر کیا اور دعا کی درخواست کی۔ پروفیسر صاحب نے داستان سنی اور بڑے تحمل سے اس سے سوال کیا کہ مہینہ کونسا ہے اس نے کہا حضور جون، پروفیسر صاحب نے اسے کہا، دسمبر میں میرے پاس آنا، دسمبر کا سنتے ہی اسے یقین ہو چلا کہ شاید یہ کوئی ستاروں کا معاملہ ہے جو کہ دسمبر میں حالات ٹھیک ہو جائیں گے چونکہ ویسے بھی ہم توہم پرست قوم ہیں، ہم ایسے گمان بھی کر لیتے ہیں، شاید کوئی ستاروں کی چال کا معاملہ ہو۔
دسمبر کے مہینے کا بڑی بے چینی سے انتظار کرنے لگے، دل میں مختلف قسم کے وسوسے پیدا ہوتے، ویسے بھی انسان جب کسی قسم کی ناکام سے دوچار ہوتا ہے تو پھر وہ مختلف قسم کی توہم پرستی کا شکار ہو جاتا ہے، وہ تعویذ دھاگوں، ستاروں کے علم کی طرف دوڑتا شاید اسے کہیں سے کوئی امید کی کرن پیدا ہو۔
دسمبر کا مہینہ آیا تو وہ فوراً پروفیسر صاحب کے پاس حاضر ہو گیا، اپنا وعدہ یاد کرایا، پروفیسر صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور فرمایا ابھی دھند شروع نہیں ہوئی۔ دسمبر کے آخری ہفتے جب دھند بام عروج پر ہوتی ہے تو تب مجھے فون کرنا، ان شاء اللہ آپ کا مسئلہ حل ہو جائیگا، دھند کا سن کر اس کا یقین مزید پختہ ہو گیا، دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ واقعی ہی پروفیسر صاحب کوئی بہت بڑے پہنچے ہوئے بزرگ ہستی ہیں، یہ کہ اس پر واقعی کوئی جادو ٹونے کے اثرات ہیں جس کیلئے دسمبر کا مہینہ اور دھند کا ہونا شاید اس جادو کے اثرات کو زائل کرنے کیلئے ضروری ہیں۔
دسمبر کے آخری دنوں میں ایک رات شدید دھند پڑی، وہ بڑا خوش ہوا چلیں اب اس کا مسئلہ حل ہونے جا رہا تھا۔ حسب وعدہ پروفیسر صاحب کو فون کیا تو انہوں نے صبح 8بجے بلا لیا، وہ صبح اٹھا باہر کھڑکی سے جھانکا تو حدنگاہ صفر تھی، شدید دھند سے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ والدین نے باہر نکلنے سے بھی منع کر دیا۔ اب چار و ناچار فون اٹھایا اور پروفیسر صاحب سے بات کی اور انہیں شدید دھند کے بارے میں صورتحال سے آگاہ کیا۔ پروفیسر صاحب مسکرائے اور فرمایا کوئی مسئلہ نہیں کچھ دیر انتظار کریں، دھند کم ہوتے ہی آ جانا، تقریباً دس بجے دھند قدرے کم ہوئی حدنگاہ چند میٹر بحال ہوئی تو فوراً گاڑی نکالی اور پروفیسر کے گھر کی طرف چل پڑا۔
پروفیسر صاحب کے گھر پہنچ کر اس نے فون پر اپنی آمد کی اطلاع کی تو تھوڑی ہی دیر میں باہر تشریف لائے تو اس نے آگے بڑھ کر ادب سے مصافحہ کیا، اب وہ سوچ رہا تھا کہ پروفیسر صاحب اس کو اندر ڈرائنگ میں آنے کا کہیں گے مگر ایسا کچھ نہ ہوا بلکہ پروفیسر صاحب نے اسے اپنے ساتھ گاڑی میں بیٹھنے کو کہا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی پروفیسر صاحب نے اسے کہا کہ ٹھوکر نیاز بیگ کی طرف چلو ہم نے اوکاڑہ کی طرف سفر کرنا ہے، اس کے دل میں پہلے ہی بہت وسوسے تھے، اب اس کا تجسس مزید بڑھ گیا، مختلف قسم کے خیالات آنے لگے کہ کیا حکمت ہے تاہم اس نے پروفیسر صاحب کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے گاڑی کا رخ ٹھوکر نیاز بیگ کی طرف کرتے ہوئے چلنا شروع کر دیا، دھند کی وجہ سے حد رفتار بہت کم تھی تاہم ٹھوکر پہنچ کر، گاڑی اوکاڑہ کی جانب موڑ دی، اب پروفیسر صاحب نے اپنی نگاہیں سڑک کے دائیں، بائیں کرتے، دھند کی وجہ سے رفتار بہت آہستہ تھی، تقریباً 3گھنٹے میں ہم بمشکل پتوکی پہنچ پائے تھے، پتوکی تک پہنچتے پہنچتے تقریباً درجن بھر گاڑیاں جن میں ٹرک، کاریں، ایک بس، مزدا، ویگنیں جوکہ رات کے کسی وقت حادثے کا شکار ہو گئی تھیں الٹی ہوئی تھی۔ کوئی سڑک کے کسی کنارے، تو کوئی کسی کنارے، کوئی درمیان میں، جب بھی ہم کسی حادثے والی جگہ کے قریب سے گزرتے تو پروفیسر صاحب ہجوم میں سے کسی بھی فرد سے گاڑی میں سوار افراد کے بارے میں دریافت کرتے، ایک دو حادثوں میں انہیں بتایا گیا کہ کچھ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ زیادہ تر افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کیلئے مقامی ہسپتالوں میں شفٹ کر دیا گیا۔ پروفیسر صاحب ہر جائے وقوع پر تھوڑی دیر رک جاتے، اردگرد نظر دوڑاتے، حادثے کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیتے اور پھر دوبارہ سفر کا حکم دیتے۔ پتوکی پہنچ کر پروفیسر صاحب نے گاڑی واپس لاہور کی جانب موڑنے کا کہا، وہ بڑا حیران ہوا مگر اس نے گاڑی واپس موڑ کر لاہور پروفیسر صاحب کے گھر پہنچا۔ پروفیسر صاحب گاڑی سے نیچے اترے، اسے اپنے ڈرائنگ روم میں آنے کو کہا۔ اب وہ تذبذب کا شکار بہت سے سوال لئے کہ یہ کیا ماجرا ہے، اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی آخر یہ سب کیا ہے؟
قبل اس کے کہ وہ کوئی سوال کرتا، پروفیسر صاحب خود فرمانے لگے ارے بھائی کچھ سمجھے، اس نے نفی میں سر ہلایا تو پروفیسر صاحب نے کہا کہ راستے میں کتنے حادثوں کو دیکھا ہے تو اس نے عرض کی تقریباً درجن کے لگ بھگ ہوں گے تو پروفیسر صاحب نے کہا یہ سب لوگ بہت جلدی میں تھے، یہ حالات کا جائزہ لئے بغیر سفر پر روانہ ہوئے اور بہت برق رفتاری سے اپنی منزل پر پہنچنے کے متمنی تھے۔
ان کی تیز رفتار نے ناصرف ان کی منزل دور کر دی بلکہ کئی ایک جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے جس مقصد کے لئے وہ اپنی منزل پر پہنچنا چاہ رہے تھے اس کی کہانی تو ختم ہوئی بلکہ ایک نئی مصیبت نے گھیر لیا۔ پروفیسر صاحب اس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ زندگی کا فلسفہ بھی یہی ہے۔ زندگی ایک سفر کی مانند ہے، اس کی کامیابی کے لئے مستقل مزاجی، پختہ ارادہ، تحمل و بردبادی، سفر کے راستوں سے مکمل واقفیت، حالات و واقعات اس کے لازمی اجزا ہیں۔ اگر ان میں ایک چیز بھی کم ہو گی تو کامیابی کے امکانات معدوم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ تمام اجزا کا یکجا ہونا ہی کامیابی کا نسخہ کیمیا ہے۔
بغیر کسی منصوبہ بندی، بلا سوچے سمجھے، وقت اور حالات کا جائزہ لئے بغیر برق رفتاری خطرات سے دوچار کرتی ہے۔