Wed, September 16, 2026

سرکاری سانڈ 

سرکاری سانڈ 

میری ڈیوٹی صبح نو بجے شروع ہوتی ہے۔ گھر سے دفتر تک تقریبا نصف گھنٹے کا راستہ ہے۔ ٹریفک زیادہ ہو تو پون گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ میں عام طور پر آٹھ بجے گھر سے نکلتا ہوں تاکہ ڈیوٹی شروع ہونے سے چند منٹ پہلے ہی دفتر پہنچ جاو¿ں۔ آج بھی میں ڈیوٹی سے ایک گھنٹہ پہلے گھر سے نکلا لیکن راستے میں ایک جگہ غیر معمولی ٹریفک جام کے نتیجے میں نہ صرف جلدی دفتر پہنچنے کی ساری کوشش رائیگاں چلی گئی بلکہ ڈیوٹی پر دس پندرہ منٹ کی تاخیر سے پہنچا۔ گو یہ ایک معمولی واقعہ ہے لیکن اس قسم کے واقعات جب تواتر سے رونما ہوں اور بہت سے لوگوں کے معمولات متاثر ہونے لگیں تو یقینا یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔
 جو ٹریفک جام دفتر پہنچنے میں تاخیر کا باعث بنا اس کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ ٹریفک کی کم و بیش نصف میل لمبی ایک قطار تھی۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس قطار کے آخری سرے پر کیا ہے۔ آیا کوئی حادثہ ہوا ہے یا کوئی ترقیاتی کام جاری ہے یا کسی سیاسی جماعت نے دھرنا دے رکھا ہے۔ کسی کو اتنا غور کرنے کی فرصت بھی نہیں تھی۔ گاڑیوں والے پریشانی کے عالم میں ہارن پر ہارن بجائے چلے جا رہے تھے اور ایک عجیب بے ہنگم سا شور برپا تھا جبکہ موٹرسائیکلوں والے واپس مڑ مڑ کر بغلی گلیوں سے متبادل راستوں کی تلاش میں کوشاں تھے۔ کچھ لوگ بے بسی کے عالم میں گالیاں بھی بکے جا رہے تھے۔
پہلے تو جی چاہا کہ میں بھی موٹر سائیکل واپس موڑوں اور کسی بغلی گلی سے متبادل راستہ تلاش کروں تاکہ دفتر وقت پر پہنچ سکوں۔ پھر دل میں آئی کہ ابھی وقت ہے تھوڑا سا انتظار کر لیتا ہوں شاید راستہ کھلنے لگے۔ یہی سوچ کر موٹر سائیکل کو سڑک کے ایک طرف کھڑا کر کے لاک کیا اور نیچے اتر کر پیدل چلتا ہوئے آگے کی جانب چلا گیا تاکہ ٹریفک جام کا جائزہ لوں اور جان سکوں کہ آخر مسئلہ کیا ہے۔ پیدل چلتے چلتے جب ٹریفک جام کے اگلے سرے کے قریب پہنچا تو جو منظر نگاہ 
نے دیکھا اس پر بس ایک ہی لفظ ذہن میں آیا اور اسی لفظ کو آج کے مضمون کا عنوان بنا دیا۔
اس جگہ کوئی حادثہ ہوا تھا نہ کوئی ترقیاتی کام جاری تھا اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کا دھرنا تھا بلکہ کچھ سرکاری اہلکار سرکار کے احکامات کو اس انداز سے بجا لا رہے تھے جیسے بپھرے ہوئے سانڈ ہوں۔ سڑک کے عین وسط میں دو سرکاری ٹرک یوں دیوار بن کر کھڑے تھے کہ وہاں سے کچھ نہیں گزر سکتا تھا۔ دونوں ٹرکوں کے درمیان جو تھوڑا سا خلا تھا وہاں سے شاید کوئی موٹر سائیکل وغیرہ تو گزر سکتی لیکن یہ راستہ بھی ٹرکوں کے پیچھے آ کر کھڑی ہونے والی ایک بس کی وجہ سے بند ہو چکا تھا۔ گویا عملی طور پر ٹریفک کے آگے بڑھنے کی کوئی صورت بالکل ناپید ہو چکی تھی۔
ٹریفک کا چلنا اسی صورت میں ممکن تھا جب سڑک کے وسط میں دیوار بنے دونوں سرکاری ٹرک اپنی جگہ سے ہلتے اور ان کے پیچھے کھڑی بس وہاں سے روانہ ہوتی لیکن سرکاری ٹرک اپنا کام مکمل کیے بغیر وہاں سے کیوں ہلتے کہ انہیں تو اوپر سے احکامات آئے تھے کہ یہ کام ہر صورت میں مکمل کرنا ہے۔ حالانکہ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ احکامات دینے والی اتھارٹی نے قطعا یہ نہیں کہا ہوگا کہ ٹرکوں کو سڑک کے بیچ میں دیوار بنا کر اس طرح کھڑا کرنا ہے کہ ٹریفک کے گزرنے کا بالکل راستہ نہ رہے۔ یہ فیصلہ ٹرکوں میں بیٹھے درجہ چہارم کے ملازمین کا اپنا ہی تھا کہ کام کو اسی طریقے سے انجام دینا ہے کہ ساری دنیا کو پتہ چلے کہ سرکاری ملازم کتنا طاقتور ہوتا ہے کہ ایک چھوٹا سا کام کرنے کے لیے ٹریفک کی لمبی لائن لگوا سکتا ہے۔
 باتوں باتوں میں آپ کو یہ بتانا تو بھول ہی گیا کہ وہ کام کیا تھا جس کے لیے نچلے ترین طبقے کے چند سرکاری ملازمین نے ٹریفک کے پورے نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ کام صرف اتنا سا تھا کہ انہیں ایک اشتہار اتارنا تھا جو کسی تشہیری کمپنی نے بغیر اجازت کے ایک پل پر ٹانگ دیا تھا۔ اس ایک اشتہار کو ہٹانے کے لیے دو سرکاری ٹرک اور ان میں درجن بھر مزدور طبقے کے سرکاری ملازمین تشریف لائے تھے۔ 
ان ملازمین کے نزدیک ان کا یوں اشتہار اتارنا شاید دنیا کے سارے کاروبار سے زیادہ اہم تھا۔ انھیں نہ کسی ایمبولینس کی پروا تھی، نہ کسی بچے کے وقت پر سکول پہنچنے کی فکر اور نہ کسی شخص کے دفتر تاخیر سے پہنچنے سے کوئی غرض۔ اہم تھا تو صرف ایک بے وقعت سا اشتہار اتارنا کیونکہ اس کے احکامات اوپر سے آئے تھے۔ 
اشتہار اتارنے کا یہ کام رات کے اوقات میں بھی انجام دیا جا سکتا تھا یا دن کے کسی ایسے حصے میں بھی کیا جا سکتا تھا جب ٹریفک کی روانی نسبتا کم ہو لیکن شاید ان اہلکاروں نے بھی ضروری سمجھا کہ صبح صبح کام کر کے تنخواہ حلال کر لی جائے اور اپنے افسران بالا کو اپنے فرض شناس ہونے کا ثبوت ان کے دفتر پہنچنے سے پہلے پیش کر دیا جائے۔ 
یوں تو لوگ بیوروکریسی کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں اور اس کے عوام دشمن رویئے کو کوستے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی سرکاری محکمے کے سب سے نچلے درجے کے ملازمین بھی کسی بیوروکریٹ سے کم نہیں ہوتے کیونکہ ان کے نزدیک عوام کی حیثیت کیڑے مکوڑوں ہی کی ہوتی ہے۔ شاید یہ رویہ انھیں بیوروکریسی ہی سے "ورثے" میں ملتا ہے۔ ان کے اسی رویئے کو دیکھ کر انھیں سرکاری سانڈ کا ٹائٹل دینا پڑا
رہی عوام الناس کی بات تو وہ اب ٹریفک جاموں کے عادی ہو چکے ہیں لیکن اس قسم کا ٹریفک جام جو کسی ادارے کے ملازمین کے غیر ذمہ دارانہ رویئے کے نتیجے میں پیدا ہو، اس سے تو لوگوں کو بچایا جا سکتا ہے کیونکہ اس سے لوگوں کی بڑی تعداد متاثر ہوتی ہے۔ ضروری ہے کہ سرکاری ملازمین کو اختیارات اور ذمہ داریاں دینے کے ساتھ ساتھ تربیت بھی دی جائے اور کچھ بنیادی اخلاقیات بھی سکھائی جائیں تاکہ لوگ ان کے سرکاری سانڈ پن سے محفوظ رہیں۔

ٹیگز: