بیسویں صدی کچھ نئے فیشن لے کر آئی تھی۔ انقلابات کی اس صدی نے فکری نظام کو بڑی سطح پر تبدیل کیا اور دنیا کے کئی علاقوں سے انقلاب کے نعرے بلند ہوئے۔ بعض علاقوں میں لوگوں کے ہاتھ ایسے نعرے لگ گئے جو انقلابی فیشن یا مزاحمتی چسکے کے طور پر استعمال کیے جا سکیں۔ وہ لوگ جو زیادہ پڑھ لکھ نہیں سکے تھے وہ بھی پیشوائیت کا سہارا لے کر پارسائی میں پناہ لینے لگے۔ جو یہ روپ بھی نہیں دھار سکتے تھے انھوں نے دائیں بائیں جانب کے مزاحمتی فیشن میں پناہ ڈھونڈ لی۔
ڈاڈا ازم کی بغاوت یا مارکسزم کی کہانیاں سن کو بہت سے لوگوں نے انقلابی شاعری اور نئی موسیقی سے لگاو¿ کا اظہار صرف اس لیے بھی کیا کہ یہ فیشن بن چکا تھا۔ غریب ظاہر کرنا اور غربت کے ترانے لکھنا بھی ایک فیشن کے طور پر دیکھنے میں آیا۔ آپ ذرا ادبی تاریخ کھنگالیے کتنے ہی جاگیردار شعرا سامنے آئیں گے جو ایک دوسرے کو اپنی غربت کے قصے سناتے پھرتے تھے اور خطوط میں غربت بھری کہانیاں لکھ کر بھیجا کرتے تھے۔ بھلا ہو جوش صاحب جیسے زیرک تخلیق کاروں کا جو کبھی کبھی ان کا پردہ فاش کر دیتے تھے۔
غربت بھی فیشن بن جائے تو لوگ غریب ہونے یا کم از کم غریب دکھنے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ ترقی پسندوں سے ہماری نئی نسل نے کچھ اور چاہے سیکھا ہو یا نہ سیکھا ہو لیکن یہ ضرور سیکھ لیا کہ ہر صاحب ثروت شخص کو مشکوک سمجھنا چاہیے۔ بعض نے منشی پریم چند کے خطبے سے حکمران مخالف نظریات خود برآمد کر لیے۔ اب یہ نہیں دیکھا جا سکتا کہ کوئی ٹھیک بھی ہے یا نہیں، لیکن اگر ثروت مند ہے یا حاکم ہے تو اسے مطعون ضرور ٹھہرایا جانا چاہیے۔ ہم نے کسی اور میدان میں ترقی کی ہو یا نہ کی ہو اس میدان میں تو ضرور کر لی۔ بات اب سوال یا تنقید تک محدود نہیں رہی۔ اب گالم گلوچ، ڈنڈے سوٹے سے آغاز کی روایت قائم ہو چکی۔ الزام تراشی، بہتان بازی، جھوٹ، فریب، سب وشتم سب ہی فیشن بنتا چلا گیا۔ اس فیشن میں کہیں کسی نفیس یا متوازن گفتگو کرنے والے کی گنجائش کہاں باقی رہ سکتی تھی۔
آپ گزشتہ چند برس میں مشہور ہونے والے یو ٹیوبرز، مبصرین، تجزیہ نگار، صحافی یا مقرر دیکھیں۔ ان سب میں جو قدریں مشترک ضرور ہوں گی۔ اشتعال انگیز، جذباتی باتیں، نفرت اور تعصب سے بھری ہوئی گفتگو، اخلاق باختگی، شر انگیزی، الزام تراشی اور تیز تیز اونچی آواز میں بغیر دلیل اور اصول کے بات کرنے کا ہنر ضرور جانتے ہوں گے۔
جب معاشرے میں روایت ہی یہ قائم ہو جائے کہ تعصب کی بنیاد پر صرف نفرت کا پرچار کیا جائے، کسی کے اچھے کام کو قطعاً نہ سراہا جائے تو کوئی اچھا کام کس لیے انجام دے گا؟؟ ہر طرف دانستہ مایوسی پھیلائی جائے۔ ہر سمت کہرام برپا کر دیا جائے۔ یہ آپ کس طرح کے معاشرے کی تشکیل کا کام انجام دے رہے ہیں؟۔
ہمارے ملک میں یہی فیشن رواج پا رہا ہے۔ مختار اور ثروت مند پر تنقیص کرنا انقلابی ہونے کی واحد دلیل ہے۔ جذباتی اور مشتعل ہونا غیرت مند ہونے کی نشانی ہے اور جنونی رویوں کو عشق و محبت سے تعبیر کر کے ہر سطح کی جارحیت کو جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ دلیل کا گلا گھونٹنے کے لیے یہی کافی ہے۔ حمام پر بال کاٹنے والے نائی کو آئنی ترامیم میں کمزوری نظر آتی ہے اور قانون دان کو کرکٹ ٹیم کی سلیکشن میں۔ دودھ میں ملاوٹ کرنے والا معاشرتی صورت حال پر افسردہ ہے۔
میرے ایک قریبی دوست جو واپڈا میں افسر ہیں عدالتی نظام کی تبدیلیوں سے پریشان ہو کر اپنا کام ٹھیک سے نہیں کر پارہے۔ وہ تمام طلبا جو نصابی کتب کے قریب سے بھی نہیں گزرتے انھیں شب و روز ملکی معیشت کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ یار لوگ کہتے ہیں یہی تو شعور ہے۔ یہی شعور ہے کہ جھوٹ بول کر پنکچر لگانے والے کو گاڑی کے ٹائر سے زیادہ خارجہ پالیسی کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ موصوف دن رات یہ سوچ سوچ کر پریشان ہیں کہ ٹرمپ سے ہمیں کیسے اور کن شرائط پر بات کرنا چاہیے تھی۔
یار لوگ اپنے کام درستی سے انجام دینے کی بجائے دوسروں کے کاموں میں کیڑے نکالنے لگے ۔ پولٹری فارمنگ کرنے والے بہت سے حضرات اس فکر میں گھلے جا رہے ہیں کہ نیویارک کا میئر کس طرح اور کس صورت میں پاکستانی سیاسی پارٹیوں سے اپنے لگاو¿ کا اظہار کرے گا۔ بہت سے لوگوں نے میئر کو یہاں وہاں کھینچ کر اپنے اپنے بیانیے سے منسوب کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ یہ سب کچھ اچانک رونما نہیں ہو رہا بلکہ اس کے پیچھے ایک سوچا سمجھا منصوبہ کار فرما ہے۔ لوگوں میں ایسا ڈپریشن پیدا کیا جا رہا ہے جس سے قومی سطح کی بے چینی جنم لے رہی ہے۔ یہ بے چینی ایسے نفسیاتی امراض پیدا کر رہی ہے جن سے لوگ اپنی زندگی سے بیزار ہونے لگے ہیں۔