Wed, September 16, 2026

وزارت ِ مواصلات: ترقی کا نیا سفر

وزارت ِ مواصلات: ترقی کا نیا سفر

جب انسان خواہشیں کم کرلے تو وہ زیادہ باوقار ہو جاتا ہے کہ اُس سے بدیانتی کی امید رکھنے یا کرانے والوں کی حوصلہ شکنی ہو جاتی ہے۔اس کا عملی نمونہ مجھے اپنی زندگی میں نظر آتا ہے اور جوکچھ میںعملی زندگی میں نہیں کرتا اُس کی تبلیغ بھی نہیں کرتا ۔ججوں کے پاس دینے کیلئے انصاف تھا انہو ں نے نہیں دیا اب اُن کے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچا کہ جو رحم نہیں کرتا اُس پر رحم نہیں کیا تھا ۔ عدلیہ کی پارلیمنٹ پر حکمرانی کا دور ختم ہوا ۔یقینا ہم کسی آئیڈیل ریاست میں نہیں رہ رہے مگر ایسا بھی نہیں کہ ہم نے اسے آئیڈیل بنانے کاخواب دیکھنا بند کردیا ہے ۔ انسانوں میں صلاحیتیں کم یا زیادہ ہو سکتی ہیں سو اسی لیے لاعلمی ¾ غفلت اورسازش کی سزاﺅں میں فرق ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ ہم نے عمر بھر موت کو محبوبہ سمجھا ہے سو کسی قسم کا کوئی خوف ہمارے قریب سے بھی نہیں گزرا۔
عبد العلیم خان سے میرا بھائیوں جیسا تعلق ہے اور میں نے کبھی انہیں نفع نقصان کی آنکھ سے نہیںدیکھا کہ میں پی ٹی آئی میں اُن کی شمولیت سے پہلے بھی انہیںپسند کرتا تھا اور یہ اُس زمانے کی بات ہے کہ جب ہم ایک دوسرے کو ملے بھی نہیں تھے ۔ ابتدائی انسان کی ترقی کی رفتار وہی تھی جو اُس کے پیدل چلنے کی ہوا کرتی تھی اور جس دن اُس نے گھوڑے پر قبضہ کرلیا وہ اپنی رفتار سے تیز ہو گیا اور یہ سفر انجن ¾جہاز ¾ راکٹ اور سُپر سونک سے ہوتا ہوا اب اُن راستوں کی حفاظت اور برق رفتاری کو دیکھ رہا ہے جس کے محفوظ اور تیز ہونے پر ہی کسی ریاست کی ترقی اور بقا کا دارومدار ہے۔ عبد العلیم خان کے پاس اس وقت وفاقی وزیر ِ مواصلات کا عہدہ ہے اور اُ س کے ساتھ وہ جس قدر انصاف کررہا ہے وہ بھی دیکھنے لائق ہے۔ پاکستان میں 2025ءRUTCُیعنی ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس کا انعقاد ¾ جس میں بڑی تعداد میں ریجنل منسٹرز نے شرکت کی ¾ وزیر اعظم پاکستان اور ڈپٹی وزیر اعظم نے اس میں شرکت کی ¾جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چین کو پاکستان 
میں دعوت دے کر شاہراہ قراقرم کے ساتھ مانسہرہ سے ناران ¾ کالام ¾ جھاڑ کنڈاور بابو سر ٹاپ تک سڑک بنانے کا سامان مکمل ہو چکا ہے اور عنقریب پاکستانی اس منصوبے پر عمل درآمد ہوتا دیکھیں گے ۔ عبد العلیم خان حقیقت میں مستقبل کا آدمی ہے اور اُس کے نزدیک جدیدیت ہی وہ واحد ایسی شاہراہ ہے جس پر سفر کرکے پاکستان کو اس گرداب سے نکالا جا سکتا ہے جس میں پھانسنے کی شعوری کوششیں ہوتی رہیں ۔سو اس مقصد کیلئے ای ٹیگ کو موٹر ویز کیلئے لازمی قرار دے دیا گیا ہے تاکہ ٹول پلازہ پر رش نہ ہو اور سفر کی رفتار برقرار رہے ۔ ای ٹیگ کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 10 سے 30فیصد تک جرمانہ ادا کرنا ہو گا ۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ قانون کی پاسداری ¾ محفوظ اور تیز ترین سفر ہو گا۔ عبد العلیم خان کے وزیر مواصلات بننے سے پہلے ٹول پلازہ کی نیلامی کااشتہار دے کر درخواستیں منگوا لی جاتی تھیں اور پھر سب ہنسی خوشی رہنا شروع کردیتے تھے اس طریقہ کار کو تبدیل کرکے اب جناح کنونشن سینٹر میں ملک بھر سے معتبر ترین کمپنیوں کو بلوا کر کھلی نیلامی کرائی گئی ہے جس سے یہ عمل زیادہ بہتر اور شفاف ہو گیا ہے۔ صحافیوں کو تمام معاملات سے نہ صرف آگاہ کیا جاتا ہے بلکہ وہ رائٹ ٹوانفارمیشن کے تحت کوئی بھی تحقیق کرسکتے ہیں ۔خوش آئندبات یہ ہے کہ اب بننے والی تمام موٹرویزچھ رویہ ہوں گی ۔رائٹ آف ویز کی جگہ کو پہلے اشتہارات کے ذریعے نمٹا دیا جاتا تھا اب عبد العلیم خان کی زیر قیادت آکشن کا پورا نظام وضع کیا گیا ہے اور اس سال ایم 1 اور ایم 2 ٹول پلازوںسے وزارت ِ مواصلات کو 5ارب روپے کی آمدنی ہو ئی ہے ۔ حیران کن طور پر عبد العلیم خان نے وزارت مواصلات سنبھالتے ہی 50ارب روپے زائد کمانے کا اعلان کیا تھا اور پہلے ہی سال میں 109 ارب روپے کا حیران کن نتیجہ دیا ہے جو گزشتہ سال سے 43ارب روپے زیادہ ہے ۔ این ایچ اے کو عالمی اداروں کی طرح پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک بالخصوص تیسری دنیا میں ٹھیکے لینے کا رستہ دکھایا ہے تاکہ این ایچ اے عالمی سطح کا ادارہ بن کر دنیا بھر میں کام کرے اور بہتر ماحول میں کارپوریٹ دنیا سے اپنی محنت کے ساتھ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکے ۔این ایچ اے کی فالتو گاڑیوں کو نیلام کر کے اچھی خاصی رقم واپس خزانے میں جمع کرا دی گئی ہے جو انتہائی احسن اقدام ہے ۔قومی اسمبلی اور سینٹ میں تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر عبد العلیم خان نے بتایا کہ اس سال کراچی ¾ حیدر آباد اور سکھر موٹر وے ایم9اور ایم 10پر کام شروع کردیا جائے گا ۔ یہ موٹر وے مشرف حکومت حکومت سے لے کر آج تک گزشتہ 30سال سے تاخیر کا شکار تھی اور ہائی وے کو موٹر وے بنا کر گزارہ کیا جا رہا تھا۔ یہ ایک دیرینہ وعدے کی تکمیل کے ساتھ ترقی کے سفر میں کراچی ¾ حیدر آباد اور سکھر کے عوام کو شامل کرنے کی انتہائی اہم اور مخلصانہ کوشش ہے کہ لوگ حکومتی وعدوں پر اعتبار تو کرلیتے ہیں لیکن اُن کی تکمیل تک منتظر بھی رہتے ہیں ۔شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے فروغ کیلئے جدید سڑکوں اور دوسری سہولیات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس مقصد کیلئے وزیر مواصلات اور اُن کی ٹیم دن رات کام کر رہی ہے کہ سیاحت پاکستان کا وہ روشن چہرہ ہے جس سے ساری دنیا کومنور کیا جاسکتا ہے ۔ پاکستان کے پہاڑ اورمنظر یورپ سے کہیں زیادہ خوبصورت ہیں لیکن یہاں سڑکوں اور سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے متوقع نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے لیکن موجود ہ وزیر مواصلات عبد العلیم خان کے تعمیری جنون کے سامنے ماضی کی غلطیاں ¾ شمالی علاقہ جات کے تنگ ¾ تاریک اوردشوار رستے سرنگوں ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ایسا صرف خلوص نیت ¾ دیانتداری اور عوامی فلاح کے عظیم الشان جذبے سے ہی ممکن ہے اور میں نے عبد العلیم خان کے ساتھ جتنا وقت گزارہ ہے انہیں ایک بہترین منتظم اور تعمیر کے حوالے سے جنونی ہی پایا ہے ۔پاکستان پر چھائی نحوست چھٹ رہی ہے کہ اک روشن صبح ہمارے بہترین مستقبل کی قیادت کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ عبد العلیم خان نے اپنی محنت اور لگن سے بہت سے منہ بند کردیئے ہیں اور بہت سی زبانیں کھینچ لی ہیں۔ وہ حال میں ہر جگہ اپنی ریاست کے ساتھ کھڑے اور پورے قد سے کھڑے ہیں ۔ 

ٹیگز: