Wed, September 16, 2026

بچوں کی تحویل اور حضانت‘ اہم معاشرتی مسئلہ…(پہلا حصہ)

 بچوں کی تحویل اور حضانت‘ اہم معاشرتی مسئلہ…(پہلا حصہ)

’’بچے میرے ہیںیہ ابھی بہت چھوٹے ہیں،ان پر میرا حق ہے میں انہیں ہر گز شوہر کے حوالے نہیں کروں گی‘‘۔سونیا رو رو کر والدین کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کر رہی تھی۔شوہر سے خلع لینے کے بعداسے خدشہ تھا کہ اگرشوہر نے اس کے بچے بھی چھین لیے تو وہ کیا کرے گی۔ بی اے کرتے ہی سونیا کا رشتہ طے ہو گیا تھا۔لڑکا غیر ملکی کمپنی میں ملازم تھا۔سونیا نماز روزے کی پابند اور با اخلاق تھی۔والدین نے اپنے بچوں کی تربیت دینی بنیادوں پر کی تھی ۔جلد ہی سونیا کو اندازہ ہو گیا کہ اس کا شوہر روایتی مردوں کی طرح صرف اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔اسے اپنے حقوق کی تو فکر ہے لیکن بیوی کی ذمہ داری اٹھانا،اس کے ساتھ حسن سلوک اور عزت کرنااور قواّم کی حیثیت سے اپنے فرائض کی ادائیگی کا کوئی احساس نہیں۔بیٹے اور بیٹی کی پیدائش کے بعد بھی اس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔نوبت بلا وجہ گالم گلوچ اور مارپیٹ تک پہنچ چکی تھی۔طلاق کی دھمکی دینا اس کا معمول تھا۔
چند روز قبل راقم کی قریبی عزیزہ کی بیٹی ثناکا فون آیا۔ثنا کے والدین نے بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اوراچھی تربیت کی ۔اس کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ اس کا شوہر نماز اورقرآن نہیںپڑھتا نہ ہی روزے رکھتا ہے۔ انتہائی اذیت پسند،بد مزاج،کرخت اور بات بات پر اس کی بے عزتی کرتا ہے،خاندان میں کوئی بیوی کی تعریف کر دے تو وہ بیوی کو گالیاں دے کر اس پر تشددکرتا ہے اور یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہتا ہے۔دو بار بلا وجہ طلاق بھی دے چکا ہے۔ثنا کی گفتگو سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اس کے شوہر کا تعلق اذیت پسندمردوں میں سے ہے جو بیوی کو اذیت دے کر خوش ہوتے ہیں۔وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ آنٹی میرے بچے بہت چھوٹے ہیں۔ تیسری طلاق کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ ساری کی ساری دے دی ہیں لیکن طلاق کا لفظ نہیں کہا۔اگر طلاق ہو گئی تو وہ میرے بچے رکھ لے گا ۔آپ میری رہنمائی کریں کہ میں کیا کروں؟
 سونیا اور ثنا جیسی کئی لڑکیاں شوہر وں کے تشدد کا شکار ہو کر علیحدگی اوربچوں کی تحویل اور اخراجات کے لیے عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں ۔یہ ہمارے معاشرے کا یہ بہت بڑا المیہ ہے ۔طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے رجحان سے جہاں خاندان کا شیرازہ بکھر رہا ہے وہیں بچوں کی تحویل،حضانت اور تربیت کے مسائل بھی موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میںزندگی کے ہر معاملے کے لیے انسان کی رہنمائی فرمائی ہے۔ طلاق یا خلع ہونے کی صورت میں عورت اور مرد کوبچوں کی تحویل اور ان کے اخراجات کے بارے میں آگہی نہ ہونے کے باعث کئی مسائل درپیش ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ بچے کس عمر تک ماں اور باپ کے پاس رہ سکتے ہیں یا یہ کہ ماں کے ساتھ رہنے والے بچوں کے لیے نان نفقے کی ادائیگی والد کی ذمہ داری ہے ۔ اس صورتحال سے گزرنے والی خواتین اور مردوں کی رہنمائی کے لیئے راقم نے وکلا،علما اورماہرین قانون سے رابطے کئے۔جنہوں نے قرآن و سنت رسول ؐ اور مروجہ قوانین کے حوالے سے رہنمائی کی۔زیر نظر کالم میں انہی ہدایات کوسمونے کی کوشش کی گئی ہے ۔
وجوہات کچھ بھی ہوں،قصور وار مرد ہو یا عورت،گھر کا ٹوٹنا عورت کے لیے بہت بڑا المیہ ہوتا ہے۔ اگر اس کے بچے بھی چھین لیے جائیں تو وہ جیتے جی مر ہی جاتی ہے۔خاندان کی ابتدا مرد اور عورت کے نکاح سے ہوتی ہے۔نکاح مرد اور عورت کا ایسا اعلانیہ تعلق ہے جسے معاشرہ اور اس کا ہر فرد جانے اور قبول کرے گویا خاندان میں اصل حیثیت نکاح کی ہے۔بد قسمتی سے1960ء کی دہائی میں مغرب سے اٹھنے والی تحریک آزادیٔ نسواں نے مرد اور عورت کے تعلق کو مستقل کی بجائے وقتی اور ہنگامی تعلق قرار دیا جس کا نتیجہ نکاح ٹوٹنے کی صورت میں سامنے آیا۔ میاں بیوی کے درمیان معمولی باتوں پر طلاقیں ہونے لگیں۔ موجودہ دور میں یہ رجحان زور پکڑتا ہوا نظر آ رہا ہے۔والدین خصوصاً مائیں اپنی بیٹیوں کی تربیت پر تو توجہ دیتی ہیں کہ انہیں بڑے ہو کر سسرال جانا ہے لیکن بیٹے کی تربیت پر توجہ نہیں دی جاتی کہ وہ جس لڑکی کو بیاہ کر لائے گا اس پر اس کے کیا کیا حقوق ہیں۔ (باقی صفحہ 4 بقیہ نمبر3)
بچے کی تحویل :۔میاں بیوی میں علیحدگی کے بعد بچہ اگرماں یا باپ سے چھین لیا گیا ہو تو ضابطہ ٔ فوجداری کے سیکشن491کے تحت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج میں درخواست دائر کی جاتی ہے۔جس پر فوری کارروائی کی جاتی ہے۔عدالت بچے کی فلاح کو دیکھتے ہوئے قانون کے تحت اس کی تحویل کا فیصلہ کرتی ہے۔میاں بیوی میں علیحدگی سے خاندان ٹوٹنے کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہوتا ہے۔جس میں سر فہرست ان کی تحویل کا معاملہ ہے۔تحویل کا مطلب ہے کہ بچہ جس کے پاس ہو ۔یہ معاملہ دونوں اطراف سے بہت بڑے تنازع کی صورت میں سامنے آتا ہے کہ بچے ماں باپ میں سے کس کے ساتھ رہیں گے یا دونوں میں سے کس کے پاس کتنی مدت رہیں گے۔کیا طلاق سے پہلے بھی بچوں کی تحویل کے لیے عدالت جایا جا سکتا ہے۔عدالت نے اگر بچہ ماں کی تحویل میں دے دیا ہے تو ماںچاہتی ہے کہ بچے کو باپ سے نہ ملنے دے۔اس طرح وہ بچے کو باپ سے دور کر دیتی ہے۔یہی منفی رویہ باپ میں بھی نظر آتا ہے۔عدالت اگر بچہ باپ کی تحویل میں دے تو باپ بچے کو ماں سے نہیں ملنے دیتا۔ہماری عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق20فیصد بچے باپ کی تحویل میں دیئے جاتے ہیں۔بچوں کی تحویل کے لیے والدین عدالت سے رجوع کرتے ہیں جس میں بچوں کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔ بچوں کی تحویل کے لیے واضح اسلامی احکامات موجود ہیں لیکن معاشرے میں غیر اسلامی منفی رویے نظر آرہے ہیں۔جن کے باعث باہمی تعلقات میں دوریاں بڑھنے کے علاوہ بد گمانی،غیبت، بہتان،الزام تراشی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے جیسی اخلاقی برائیاں پھیل رہی ہیں۔اسلامی تعلیمات سے رو گردانی کے یہی نتائج سامنے آتے ہیں۔وسیع القلبی،مثبت سوچ اوراچھے رویوں سے تعلقات کے بگاڑ سے بچا جا سکتا ہے۔
حق حضانت: حضانت کا مطلب ہے کہ بچے کی جائید اد ،صحت اور تعلیم کے معاملات کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ی چاہے بچہ پاس ہو یا نہ ہو۔ماں باپ کے علاوہ دوسرے شخص کو بھی حضانت کا حق دیا جا سکتا ہے۔حضانت حضن سے ماخوذ ہے ۔حضن لغت میںگود(سینہ سے بازو کے پہلو تک کا حصہ)کو کہتے ہیں۔اسی مناسبت سے حضانت لغت میں بچوں کی پرورش نگہداشت اور دایہ گیری کے کام کو کہتے ہیں۔شرعی اصطلاح میں حضانت کا مطلب ہے کہ ’’تربیت و پرورش کا حق رکھنے والاشخص بچے کی تربیت و پرورش کی ذمہ داریاں بجا لائے‘‘۔اس سے مراد بچے کی اسلامی عقیدے اور اخلاق فاضلہ کی بنیاد پر تربیت ہے۔اس کے جسم،عقل،وجدان اور دیگر تمام امور کی ہر ممکن نگہداشت ہے جو اس کو عمر کے اس مرحلے میں درکار ہوتی ہے۔بچے کا یہ حق اس کے بالغ ہونے، شعور کی پختگی یا بدن میں قوت پیدا ہونے تک ہے۔ بلوغت اور رشد پانے والا فردحضانت کا محتاج نہیں۔ حضانت شرعاً واجب ہے۔بچہ کسی ایک فرد کے ساتھ مانوس ہو،اس کے علاوہ کسی اور کو قبول نہ کرتا ہو تو اس صورت میں اس فرد پریہ ذمہ داری فرض عین ہے تاہم اگر حاضن(پرورش کرنے والے افراد) زیادہ ہوں تو ہر ایک کے لیے فرض کفایہ ہے۔بچے کی مصلحت دیکھتے ہوئے کسی کو بھی یہ ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔ترجیحاً یہ حق ماں کو حاصل ہے ا  لّایہ کہ وہ خود یہ ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہ ہو یا دینی یا دنیاوی اعتبار سے غیر مستحق ہونے کی بنا پر اس کا حق ساقط ہو گیا ہو۔مثلاً فاسقہ ،مجنون یا مفقود العقل ہو یا کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو کہ یہ ذمہ داری ادا نہ کر سکتی ہو۔
فقہاء اسلام نے حضانت کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے ایک ترتیب قائم کی ہے اور خواتین کو اس مقصد کے لیے زیاد ہ مستحق قرار دیا ہے جس کی وجہ بچے کی نگہداشت کے معاملے میںان کی سلیقہ مندی ،شفقت اور جفا کشی ہے۔جن علما کے نزدیک پرورش محضون کا حق ہے۔انہوں نے پرورش کرنے والے کے لیے اس پرورش کی اجرت کو لازم کیا ہے۔رشتۂ زوجیت کے برقرار رہتے ہوئے ماں حضانت کی اجرت کی مستحق نہیں ہے تاہم علیحدگی کی صورت میں نفقہ اور کپڑوں کا خرچ اوربچے کی شیر خوارگی کے دوران دودھ پلانے کا معاوضہ ذمہ بھی باپ کے ذمے ہے۔(جاری ہے)

ٹیگز: