دس مئی کی تین گھنٹے پینتالیس منٹ کی جنگ نے ہندوستان کے دماغ پر وہ اثرات مرتب کیے ہیں کہ اب اگر ہندوستان میں کوئی تاریخ لکھنے والا موجود ہوا تو ان کی آنے والی نسلوں کے لیے یہ دن خوف اور دہشت کی علامت کے طور پر جانا جائے گا دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کر لیں جس خطے میں بھی جنگیں ہوئیں بہت سے دوست اور بہت سے دشمن سامنے آئے جیسے اس جنگ میں چین، ترکی، آذربائیجان، سعودی عرب، ایران، بنگلہ دیش سمیت بہت سے ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہر کسی نے حسب توفیق اپنا اپنا کردار ادا کیا اسی طرح انڈیا کے ساتھ اسرائیل اور احسان فراموش یعنی افغان شامل تھے پھر بھی رب ذوالجلال کی کرم نوازی اور پاک فوج کی حکمت عملی اور دانائی نے ہندوستان کو ذلیل و خوار کر دیا میرے دیس کے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ اس جنگ میں نیوٹرل رہا لیکن میں ان سے متفق نہیں ہوں میرے خیال میں یہ جنگ امریکہ نے کرائی ہے چونکہ دنیا میں سب سے اچھا کاروبار خوف کا ہے اور امریکہ نے ہندوستان میں پاکستان کے ہاتھوں خوف وہراس پھیلا کر اپنا سودا فروخت کرنا شروع کر دیا ہے یہ جنگ کوئی بھی جیتتا فائدے میں امریکہ نے ہی رہنا تھا جس طرح جوا کرانے والا کبھی نقصان میں نہیں رہتا کیونکہ کوئی فریق بھی جیتے اس کو اس کا حصہ مل جاتا ہے اسی طرح جنگ کرانے والا کبھی نقصان میں نہیں رہتا ۔
پاکستان نے بھی اپنی پہلی جنگ ہے جو امریکی اسلحہ کے بغیر لڑی ہے ہندوستان یہ جنگ اتنی بری طرح ہارے گا امریکہ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا جہاں جنگیں دنیا میں صرف اور صرف نقصان کا باعث بنتی ہیں لیکن اس جنگ میں فائدہ امریکہ ،چین اور پاکستان کو ہوا اور نقصان میں انڈیا فرانس، اسرائیل اور روس رہے اس مختصر ترین جنگ نے فرانس کے رافیل، اسرائیل کی ڈرون ٹیکنالوجی اور روس کے دفائی نظام کو دنیا بھر میں رسوا کر دیا جبکہ چین کے
سی J10
پاکستان کے جے ایف تھنڈر 17
نے دنیا بھر کی مارکیٹ اٹھا دی چین کے جے J10C
اس سے پہلے کسی جنگ میں استعمال نہیں ہوئے تھے بلا شبہ چین کی یہ مشین لاجواب ہے لیکن اگر یہی مشینیں پاکستان کی بجائے ہندوستان کے پاس ہوتیں تو میرا خیال ہے کہ آج فرانس کی جگہ چین دنیا کو صفائیاں پیش کرتا پھرتا اور امریکہ اس طرح فائدے میں رہا کہ اس نے اپنے میڈیا کے ذریعے پاکستان کی فتح کو بھرپور اچھالا میں حیران تھا کہ پاکستان کی اس شاندار فتح پر امریکی میڈیا کیوں اچھل رہا ہے امریکہ نے دنیا کو ہر وہ خبر بتا دی جو انڈیا دنیا سے چھپانے کی کوشش کر رہا تھا پھر ٹرمپ کا ساری دنیا کے سامنے پاکستان کی مدح سرائی کرنا پاکستان کے لوگوں کو بہترین لوگ کہنا اور پاکستان سے تجارت کی بات کرنا درحقیقت اس سب کے پیچھے ہندوستان کو خوفزدہ کر کے اپنے ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ ایف 35 فروخت کرنا تھا میرے خیال میں آئندہ چند روز میں شاید میرے اس کا کالم کے اخبار میں پرنٹ ہونے سے پہلے انڈیا اور امریکہ کی ایف 35 طیاروں کی ڈیل ہوتے دیکھ رہا ہوں لیکن ہندوستان پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے اتنا لمبا انتظار نہیں کرے گا مئی کے آخری یا زیادہ سے زیادہ جون کے پہلے ہفتے تک ہندوستان اپنی تیاری مکمل کر کے دوبارہ پاکستان پر حملہ کرے گا کیونکہ وہ اس جنگ بندی کو ایک ایک ہفتہ کر کے آگے لے جا رہا ہے وہ صرف اور صرف وقت لے رہا ہے اور ان تمام حربوں کا سدباب تلاش کر رہا ہے جو دس مئی کو پاکستان نے اپنائے تھے لیکن میرے خیال میں اس کے ساتھ وہی ہوگا جس طرح کسی لڑکے نے ایک سال لگا کر کراٹے سیکھے جب وہ لڑنے گیا تو مد مقابل کلاشنکوف نکال لایا ۔ جب تک ہندوستان پاکستان کی طرف سے دس مئی کو کی جانے والی جنگی حکمت عملی اور اس کا حل تلاش کرے گا پاکستان اپنا پینترا بدل چکا ہوگا ۔
اس وقت تک چین نے اپنی تین ڈویژن فوج لداخ میں اتار دی ہے بنگلہ دیش اس جنگ میں ہر لحاظ سے پاکستان کا ساتھ دینے کو تیار ہے جس طرح انڈیا نے ترکی کو دھمکیاں دی ہیں شاید یہ بھول گیا تھا کہ وہ ارطغرل غازی کی اولاد ہیں وہ دھمکیوں سے ڈرنے والے یا کمزور ہوتے تو تین براعظموں پر چھ سو سال تک حکومت نہ کرتے وہ بھی اب اپنی ساری ٹیکنالوجی کے ساتھ پاکستان پہنچ جائے گا اسی طرح آذربائیجان ہر طرح سے پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے ایران اور سعودی عرب پاکستان کا ساتھ دینے کے لیے ہر طرح سے تیار ہیں اگر ہندوستان نے دوبارہ پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو یہ موجودہ نقشے والے بھارت کی آخری جنگ ہوگی۔
ان شاء اللہ آپ دیکھیں گے کہ جنگ کے پہلے ہی دن چین ان کی سات ریاستیں جو درحقیقت چین کا جنوبی تبت ہیں اور چار کروڑ لوگ بھارت کے قبضہ سے بازیاب کرا لے گا اسی طرح بنگلہ دیش ان کی غیر قانونی نقل و حرکت کو بند کر دے گا پاکستان اپنا کشمیر اور سکھ اپنا خالصتان لے جائیں گے مودی کے مشیر اچھے نہیں ہیں وہ الیکشن جیتنے کی خواہش میں سارا بھارت ہار جانے پر بھی رضامند ہیں بہرحال پاکستانی قوم سے گزارش ہے کہ برائے کرم اپنے جذبات کو کنٹرول کریں جنگ کبھی اچھی نہیں ہوتی اپنی فوج کے شانہ بشانہ ان کا حوصلہ بن کر کھڑے ہو جائیں ان شاء اللہ فتح ہماری ہوگی اور اگر بھارت نے یہ غلطی کر دی تو اس کی سزا صدیوں پر محیط ہوگی
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی